بریکنگ نیوز
Home / کالم / کہ نیند شرط نہیں جواب دیکھنے کیلئے

کہ نیند شرط نہیں جواب دیکھنے کیلئے

مجھے ایک زمانہ بعدراولپنڈی جاناتھاجہاں ایک تقریب نے بپا ہونا تھااور اس کا وقت شام کا تھا کچھ احباب سے بات ہوئی مگر انکی اپنی مصروفیات آڑے آئیں اور سفر اکیلا کرنا پڑے تو واقعی وہ انگریزی کا سفر بن جاتا ہے‘ اسلئے میں نے رفعت سے کہا کہ اگر وہ بھی ساتھ چلیں تو صبح جلدی نکل جائینگے‘ کچھ دوستوں سے ملاقات بھی ہو جائے گی جسے میں ایک عرصہ سے مؤخر کرتا رہا ہوں اور پھر شام کو مجھے تقریب میں چھوڑ کر آپ گھوم بھی لیں گی‘ابتسام اور ثمرین نے بھی میری تائید کی اور پھر اشمان سمیت ہم پانچوں دن چڑھے گھر سے نکلے‘ سوچا کہ پہلے شہر اقتدار کی سیر کرینگے پھر راولپنڈی کا رخ کرینگے،اسلام آباد پہنچ کر تھوڑا گھومے ظہرانہ کھایا تو وقت خاصا بیت چکا تھا سوچا کہ تقریب کی جگہ بھی ٹھیک سے نہیں معلوم اس لئے راولپنڈی کا رخ کیا جائے ‘جن دوستوں سے ملنا تھا ‘انکو فون پر ہی سلام کرنے پر اکتفا کیا‘غنیمت یہ ہوئی کہ میجر عامر اسلام آباد میں نہیں تھے با قی دوستوں سے تو فون پر ہی ایک نئے وعدے کیساتھ معذرت کر لی لیکن دوست عزیز کمانڈر خلیل الرحمن کو قائل کرنا کارے دارد۔معذرت کی کہ تقریب دیر سے ختم ہوگی پھر راولپنڈی سے اسلام آباد آنا مشکل ہو گا‘ انہوں نے کہا جب بھی فارغ ہوں آجانا عشائیہ اکٹھے کریں گے‘اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا پہلے سوچا کہ مجھے تقریب کے پنڈال میں چھوڑ کے بچے وہیں چلے جائیں مگر مجھے یاد آیا کہ تقریب اس تاریخی حویلی کے لانز میں ہے اور وہ پرانی حویلی نوابزادہ لیاقت علی خان کی ہے تو جب تک میں تقریب میں رہوں گا بچے اس تاریخی حویلی کی سیر کر لیں گے‘ پھر مل کر ہی چلیں گے۔تقریب کا وقت تو خیر پانچ بجے تھا اور ہم بر وقت ڈینیز ہائی سکول کے گیٹ کے پاس پہنچ گئے تھے ایڈریس میں اس سکول کی دیوار کیساتھ حویلی کے گیٹ کا لکھا ہوا تھا۔

ہمیں سکول تک تو سہولت سے چاچی جان نے پہنچایادر اصل ابتسام ’ جی پی ایس‘ (گوگلز میپ)کو چاچی جان کہتا ہے اس نے سکول ہی فیڈ کیا تھا وہاں تک آگئے اب کشمیر روڈ پر135 نمبر کی کوٹھی ڈھونڈنا تھی جو پہلے چار منٹ کے فاصلے پر تھی اور پھر ایک غلط ٹرن سے یہ فاصلہ پندرہ منٹ تک جا پہنچایہ علاقہ پشاور کے شعبہ بازار سے مشابہ تھا مگر سڑک اسکی آدھی چوڑائی سے کم تھی اور دونوں طرف سے ٹریفک کھلی تھی رینگتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے اور منزل سے رفتہ رفتہ دور ہوتے گئے۔ واپسی کا راستہ بھی نہ تھا‘ منظر نقوی سے فون پر رابطہ بھی تھا اس نے کہا ایک بار پھر سکول کے قریب آئیں اور اب کے دائیں مڑیں تو سامنے ہی ریلوے پھاٹک نظر آئیگامیں باہر آ جاتا ہوں منظر نقوی کی ہدایات پر ریلوے پھاٹک پہنچے اور قریب تھا کہ رینگتی ٹریفک کے بہاؤ میں آگے بڑھ جاتے کہ منظر نقوی کی آواز آئی اور یوں یہ معرکہ سر ہوا یہ اور بات کہ اب ساڑھے چھ بج چکے تھے‘مجھے اتار کے بجائے حویلی دیکھنے بچے چائے پینے چلے گئے۔ یہ تقریب در اصل محفل سلام تھی اور اس کا ایک حوالہ یہ تھا کہ معروف شاعرہ اور کالم نگار فرزانہ نازمرحومہ ہر سال محرم میں اس کا اہتمام کرتی تھیں اسلئے شغف کے احمد رضا راجا اور آصف نواز نے اسی تسلسل میں اور اس کے ایصال ثواب کی خاطر اس محرم میں بھی راولپنڈی کے دیگر ادبی تنظیموں کے اشتراک سے محفل سلام کا اہتمام کیا، سٹیج خوبصورت بیک ڈراپ کیساتھ آراستہ تھا اور صاحبان صدارت کیلئے چاندنی بچھی اور گلاب کی پنکھڑیوں سے سجی فرشی نشست تھی اور مٹی کے دئیے دیواروں اور میزوں کے ساتھ ساتھ سٹیج پر بھی رکھ دئیے گئے تھے۔

البتہ شعرائے کرام پشاور کی طرح یہاں بھی محفل سلام شروع ہونے کے بعد تک آتے رہے‘ بہت سے دوستوں سے ملاقات ہو گئی احمد رضا راجا اور آصف نواز کیساتھ ساتھ،نسیم سحر‘حسن کاظمی‘محبوب ظفر‘ قیوم طاہر‘زاہد چغتائی‘ حسن عباس رضا‘ حفیظ اللہ بادل‘رحمان حفیظ‘سعید سادھو‘رْخسانہ سحر‘فرزانہ جانا‘فاخرہ نورین البتہ جاوید احمدسمیت کچھ دوست تب آئے جب محفل شروع ہو چکی تھی‘حسن کاظمی میر محفل تھے اور ان کے ساتھ مجھے بھی مہمان خصوصی کے طور سٹیج پر جانا تھا مگر میں نے مظہر مسعود اور قیوم طاہر کی مدد چاہی کہ میری معذرت پہنچائی جائے،مجھے تو کسی بھی وقت اٹھ کر جانا تھا مگر منتظمین نے ایک نہ سنی‘جس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ سٹیج کے بالکل سامنے پندرھویں کا چاند آہستہ آہستہ زینہ زینہ اوپر چڑھ رہا تھا، زرد رو چاند شام کو اور اداس بنا رہا تھا۔ احباب کے عمدہ سلام کے نذرانوں میں چاندنی سے اور زیادہ تاثیر اور معنویت پیدا ہو رہی تھی‘ اس شام خوبصورت کلام پڑھا اور سنا گیا‘لیکن ابھی صاحبان صدارت کی باری نہیں آئی تھی کہ فون پر پیغام آیا کہ ہم واپس آ چکے ہیں‘ سو ان کو حویلی کی طرف بھیج دیا اور منظر نقوی سے درخواست کی کہ بھائی پڑھا دیں‘حسن کاظمی نے اس شرط پر اجازت دی کہ اگلی بار گھر آئیں گے اور یوں دوستوں سے معذرت کر کے تقریب کے اختتام سے قبل ہی نکل آیا قلق رہا کہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کی حویلی نہ دیکھ پایا‘ابتسام نے تفصیل بتائی کہ اگرچہ بہت سے کمرے اور برامدے خستہ حالت میں ہیں لیکن اب ان کی نئے سرے سے تزئین و آرائش کی جا رہی ہے، لیاقت علی خان کا کمرہ بھی انہیں دکھایا گیا‘میں اکتوبر ہی میں اسے دیکھنا چاہتا تھا کہ اس مہینے کا پہلا ہفتہ ان کی پیدائش اور دوسرا ہفتہ شہادت کا ہے۔ خیر اب دیر ہو چکی تھی پشاور بھی آنا تھا نو بج چکے تھے اس لئے ڈرتے ڈرتے کمانڈر خلیل الرحمن کو فون کیا کہ اب فارغ ہوئے ہیں انہوں بات کاٹ دی کوئی بات نہیں ہم انتظار میں ہیں‘ کہا ابھی راولپنڈی میں ہیں کہنے لگے او کے آدھا گھنٹہ لگے گا۔ بس سیدھا آ جاؤ۔

افسوس اور بہت افسوس ہوتا اگر وہاں نہ جاتے کہ انہوں نے بھی کھانا نہیں کھایا تھا‘ گیٹ پر پہنچے تو ہنستی مسکراتی بھابھی جان جیسے بھاگتی آئیں اور رفعت سے ایسے ملیں جیسے کھمب کے میلے میں دو بچھڑی ہوئی بہنیں کبھی ملی ہوں گی۔ کمانڈر خلیل الرحمن نے پوچھا تو کیا آپ ملے بنا جا رہے تھے بمشکل انہیں منایا اور پھر وہ چند لمحے یاد گار ملاقات میں ڈھل گئے ایک تو ملے بہت دیر ہوئی تھی اور باتوں کا ذخیرہ خاصا اکٹھا ہو گیا تھا مجھے فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس دوران انہوں نے اردو انگریزی کی جتنی کتابیں پڑھی ہوتیں ان کے حوالے سے بہت کچھ سننے اور سیکھنے کا موقع مل جاتا ہے۔ خواتین کو تو اشمان کی شرارتوں نے مصروف رکھا‘پھر حسب معمول ایک شاندار عشائیہ کے بعد رخصتی کی اجازت ملی ہر چند بھابھی کا اصرار تھا کہ رات رک جائیں مگر جانا تھا گاڑی کی طرف آئے توسارے میں رات کی رانی کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی اور گاڑی میں کئی پیکٹ نظر آئے معلوم ہوا کہ بھابھی نے کھانا ساتھ بھی رکھوا دیا ہے‘ پشاور تک ماہ کامل سے پوچھتا رہا کہ یہ جو محبتوں کے خوبصورت سلسلے ہیں کیا انکی لفظوں میں تصویر بنائی جاسکتی ہے۔وہ چپ چاپ ساتھ چلتا رہا اور پشاور پہنچتے پہنچتے صبح کاذب کے آثار نمودار ہونا شروع ہو گئے تھے پشاور کے کان میں چاند نے سرگوشی میں لکھنؤ کے عرفان صدیقی کا شعر پھونکا۔
اٹھو یہ منظرِ شب تاب دیکھنے کے لئے
کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لئے