بریکنگ نیوز
Home / کالم / اب کیا حاصل

اب کیا حاصل

ہم نے تواخباروں میں یہ پڑھا تھا کہ کل یعنی9 اکتوبر2017ء کے دن میاں نوازشریف نے نیب کی عدالت کے سامنے دوبارہ پیش ہونا تھا لیکن وہ تو لندن پہنچ چکے اس کا مطلب تو پھر یہ ہوا کہ وہ 9 اکتوبر کے دن عدالت کے روبرو پیش نہیں ہو رہے لگتا یہ ہے کہ معاملات جان بوجھ کر لٹکائے جا رہے ہیں بیگم کلثوم نواز کو خدا صحت بخشے ان کی طبیعت کچھ ایسی بھی خراب تو نہ تھی کہ میاں صاحب کو پھرلندن جاناپڑا؟ لگتا یوں ہے کہ زرداری صاحب نے انہیں یہ گر سمجھا دیا ہے کہ کسی طرح مختلف قانونی موشگافیوں کے ذریعے یا بیماریوں کے بہانے بنا کر عدالتوں سے لمبی لمبی تاریخیں لی جا سکتی ہیں آخر زرداری صاحب نے خود بھی تو کمال قانونی مہارت سے اپنے خلاف کرپشن کے مقدمات کو گیارہ سال تک لٹکائے رکھا اس فیلڈ میں ان کو خاصاً تجربہ ہے جسے انہوں نے میاں صاحب کے ساتھ یقیناًشیئر کیا ہو گا ا س ملک میں ملزم ہمیشہ ملزم ہی رہتا ہے وہ کبھی ملزم سے مجرم نہیں بنتا بشرطیکہ اس کا تعلق اشرافیہ سے ہو کہ جسے طنزاً بعض لکھاری اب بدمعاشیہ کہتے ہیں پیسے میں بلا کی قوت ہے نیب کے جانے والے چیئرمین نے پی پی پی اور (ن) لیگ دونوں سے اپنی وفاداری نبھائی ہے اور ان کا حق نمک ادا کیا ہے ظاہر ہے ان کی جگہ جو بھی نیا نیب کا چیئرمین آئے گا وہ لیڈر آف دی ہاؤس اور لیڈر آف اپوزیشن کی اشیر باد سے ہی آئے گا لہٰذا اس میں اور اس کے پیش رو میں اگر کوئی فرق ہوا بھی تو انیس بیس کا ہی ہو گا جن لوگوں نے کرپشن سے کالا دھن بنایا ان کا بال بھی بیکا نہیں ہو گا غریب عوام اپنا سر پیٹتے رہ جائیں گے۔

ہاں یہ اور بات ہے کہ غیب سے کوئی مسیحا نازل ہو جائے اور وہ ان چوروں کو الٹا لٹکا دے کہ جو چوری بھی کر رہے ہیں اور سینہ زوری بھی ‘عمران خان نے آئندہ چنددنوں میں ملک بھر میں جو تیرہ مختلف مقامات پر جلسوں کا پروگرام بنایا ہے وہ قابل تحسین ہے کسی نہ کسی کو ضرور پبلک پلیٹ فارم سے عوام کو برملا بتانا چاہئے کہ حکمران کہاں کہاں اور کیسے کیسے غلطیاں کر رہے ہیں اگر سب سیاستدان تھک ہار کر چپ کر کے بیٹھ گئے تو اس سے بدمعاشیہ سے تعلق رکھنے والے اس ٹولے کی ہمت افزائی ہوگی کہ جو دن را ت عوام کا معاشی استحصال کر رہا ہے عدالتوں کو اپنی جوتی کی نوک پر رکھ رہا ہے ویسے اس وقت ان حالات میں میاں صاحب کا ملک سے زیادہ باہر رہنا (ن) لیگ کیلئے شاید بہتر نہ ہو کیونکہ اس نوع کی خبریں بھی آ رہی ہیں کہ 55 کے قریب ممتاز(ن) لیگی رہنما جن میں کئی ایم این ایز بھی شامل ہیں اپنا ایک علیحدہ سیاسی گروپ بنانے پر سنجیدگی سے غور و خوض کر رہے ہیں۔

سچی بات یہ بھی ہے کہ (ن)لیگ کی قیادت کی مخالفین بھی پس پردہ سخت کوشش کر رہے ہیں کہ (ن) لیگ کو اندر سے شکست و ریخت کا شکار کیا جائے اگلے روز کور کمانڈروں کی کانفرنس کے بعد ڈی جی آئی سی پی آر نے جو پریس کانفرنس کی اس کے مندرجہ جات میں سے دو نکتے کافی معنی خیز تھے ایک یہ کہ ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہ اس کورکمانڈرز کی کانفرنس کے بعد روٹین کی پریس ریلیز کیوں نہ جاری کی گئی جب انہوں نے یہ جواب دیا کہ خاموشی کی بھی اپنی ایک زبان ہوتی ہے اور دوسرا یہ کہ جب انہوں نے ایک سوال کے جواب میں یہ کہا کہ ہمیں بیرونی اور اندرونی دشمنوں کا سامنا ہے لگتا یہ ہے کہ پاکستان سردست امریکہ کے سیاسی کیمپ سے باہر نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ماضی سے ہم نے کچھ نہیں سیکھا اور یہ بات اس ملک کے مستقبل کیلئے کوئی اچھی علامت نہیں۔