بریکنگ نیوز
Home / کالم / بندوں کو گنا کرتے ہیں

بندوں کو گنا کرتے ہیں

جمہوریت کے بہت سے فائدے گنے جاتے ہیں اس لئے کہ یہ لوگوں کی منتخب حکومت ہوتی ہے جو لوگوں کے لئے ہوتی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کس قسم کے لوگوں کو چنا جائے تو اس پر بحث ہمارے جیسے تیسری دنیا کے لوگوں کے لئے ایک سوال تھا اور ہے۔اس لئے کہ اگر لوگ ایک ناموزوں شخص کو اپنے ووٹ دے کر منتخب کر لیتے ہیں تو کوئی اس کیخلاف بات نہیں کر سکتا اس لئے کہ منتخب ہونیوالا عوام کا نمائندہ ہوتا ہے ہمارے ہاں تو پہلے دن سے ہی اسمبلیوں میں ایسے حضرات کے ڈیرے ہیں اسلئے کہ مسلمانوں کو تو انگریزی سے ازلی دشمنی تھی‘اصل میں تو یہ دشمنی انگریز سے تھی مگر اسے انگریزی کی دشمنی میں تبدیل کر دیا گیااور یوں ہمارے بڑوں نے سکول کا بائیکاٹ کر دیا۔ اسی لئے پاکستان موومنٹ میں سوائے اوپر کی قیادت کے بہت کم لوگ پڑھے لکھے تھے جب پہلی قانون ساز اسمبلی کا انتخاب ہوا تو صوبہ سرحد کی حد تک نوے فی صد ممبران قانون ساز اسمبلی خواندہ نہیں تھے‘ انہوں نے جو قوانین بنانے تھے ان کا معلوم ہی ہے اسی لئے انگریز کے قانون کو ہی ایک عرصے تک جاری رکھا گیا ۔ یہاں تک کہ سپیئریر سروسز میں بھی جو بانڈ بھرا جاتا تھا اُس میں ملکہ برطانیہ کی اطاعت کی قسم کھائی جاتی تھی۔ خیر جوں جوں تعلیم عام ہوتی گئی اسمبلیوں میں بھی پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد زیادہ ہونے لگی‘ مگر اس میں ایک قباحت نے جنم لیا کہ پڑھے لکھے لوگ تو مارشل لاء قسم کی حکومتوں کے خلاف تھے ۔ اس لئے ایک آرڈیننس کو کہ جس میں کہا گیا تھا کہ اسمبلی کا رکن ہونے کے لئے گریجویٹ ہونا شرط ہے۔

اُسے ناخواندوں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا تو سپریم کورٹ نے اس آرڈیننس کو انسانی حقوق کے خلاف قرار دے کر ختم کر دیا ۔اس کا فائدہ بہت سوں کو ملا ایک صاحب تو ملک کے صدر بھی بن گئے ہمیں اس سے غرض نہیں کہ یہ بات ٹھیک تھی یا غلط تھی البتہ یہ معلوم ہو گیا کہ ان پڑھوں اور پڑھے لکھے لوگوں کے لئے قانون میں کوئی فرق نہیں کیا جا سکتااسی لئے اگر عوام ایک شخص کو مسلم لیگ کے لئے منتخب کر کے بھیجتے تو وہ دوسرے ہی دن پی پی پی کا یا جس بھی پارٹی کی حکومت ہوتی اسکا رکن بن جاتا اور عوام کا مینڈیٹ کھوہ کھاتے چلا جاتا ۔ اس پر قانون سازی کی گئی اور اگر کوئی رکن اسمبلی اپنی پارٹی کو چھوڑتا تو اسے سیٹ بھی کھونا پڑتی۔ جس سے گھوڑو ں کی تجارت میں خاصی کمی آئی۔ اب معاملہ آئین میں ترامیم کا آپڑا کیونکہ جو بھی آئین کسی بھی ملک کا بنتا ہے تو اس میں ترامیم کی گنجائش رکھی جاتی ہے اس لئے کہ بدلتے وقت کے ساتھ آئینی تقاضوں میں بھی ردوبدل کرنا پڑتا ہے ۔

تو اس میں کہا گیا کہ آئین کی کسی بھی شق کو وقت کی ضرورت کے تحت تبدیل کیا جا سکتا ہے ان ترامیم کیلئے ناخواندہ حضرات کی ضرورت تو بہت پڑتی ہے اس لئے کہ وہ بغیر سوچے سمجھے یا ترمیم کے حق یا مخالفت میں دلائل دینے کی بجائے ساتھی کو دیکھتے ہیں کہ اگر اُس نے ہاتھ کھڑا کر دیا ہے تو وہ بھی ہاتھ کھڑا کر دیتے ہیں۔یہ بھی ہوا ہے کہ کسی نے اپنی پارٹی کے خلاف بھی ووٹ دے دیا اسلئے کہ اس بے چارے کو معلوم ہی نہیں کہ وہ کس لئے اور کس کے لئے ووٹ کر رہا ہے۔اسی طرح کی ترمیم کی اب ضرورت پڑ گئی کہ آئین کے مطابق کوئی بھی نا اہل شخص کسی پارٹی کی سربراہی نہیں کر سکتا یعنی جو شخص کسی اسمبلی کے لئے انتخاب کا اہل نہیں ہے تو وہ کسی سیاسی پارٹی کا عہدیدار بھی نہیں ہو سکتا۔ چونکہ مسلم لیگ ن جو ایک حکومتی جماعت ہے اُس کے وزیر اعظم اور پارٹی لیڈر کو سپریم کورٹ نے نا اہل قرار دے دیا ہے اس لئے وہ پارٹی کی صدارت سے بھی معزول ہو گئے ہیں۔ یہ پارٹی کے لئے قابل قبول نہیں تھا اس لئے انہوں نے ایک ترمیم آئین میں کرنا چاہی کہ کوئی نا اہل شخص جو اسمبلی کی رکنیت کا اہل نہیں ہے وہ پارٹی میں کوئی بھی عہدہ رکھ سکتا ہے بات پہلے ایوان بالا میں گئی جس میں ن لیگ کی اکثریت نہیں ہے مگر وہاں سے یہ ترمیم منظور ہو گئی اب یہی ترمیم ایوان زیریں میں بھی پاس ہونی تھی اس ایوان میں تو ن لیگ کی اکثریت ہے اس لئے اس ترمیم نے تو پاس ہونا ہی ہونا تھا اب حزب اختلاف لکیر پیٹ رہی ہے کہ ترمیم کیوں منظور کی گئی۔بھئی اگر اس ترمیم کو منظور نہیں ہونے دینا تھا تو ایوان بالا میں منظور نہ ہونے دیتے مگر وہاں تو ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے رہے تو اب رونے دھونے یا سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے سے کیا فائدہ۔بات گنتی کی تھی تو جس نے بندوں کو گن لیا وہ جیت گیااس لئے کہ یہ تو جمہوریت ہے۔ کہ جہاں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔