بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / قبائل کی گمشدہ منزل

قبائل کی گمشدہ منزل

قبائل کے مستقبل کا مقدمہ اور ان کا خیبر پختونخوا میں انضمام کا خواب وفاقی حکومت کو درپیش چیلنجزکی ندز ہو گیا ہے یا پھر یہ ان بے سرو سامان در بدر کی ٹھوکر یں کھانے والے لاکھوں قبائل کی بدقسمتی ہے کہ جب سے قبائلی علاقوں میں اصلاحات کا سلسلہ سنجیدہ مرحلے میں داخل ہو اہے تب سے وفاقی حکومت کے پاؤں زمین پر ٹک نہیں رہے اور نہ ہی اسے وہ استحکام نصیب ہو رہاہے کہ وہ کم از کم قبائل کے مستقبل کے حوالے سے کوئی ایسا فیصلہ کرے جس پر نہ صرف عمل درآمد میں کوئی رکاوٹ نہ ہو بلکہ یہ فیصلہ قبائل کی اکثریت کی خواہشات کابھی ترجمان ہو۔ موجودہ سیٹ اپ میں قبائل کے ساتھ اس سے بڑا اور سنگین مذاق اور کیا ہو سکتا ہے کہ انہیں ہرطرف سے مار بھی پڑرہی ہے اور انہیں رونے بھی نہیں دیا جارہا ہے۔ کسی بھی فورم پر انکی شنوائی نہیں ہو رہی ہے۔ قبائل اپنے ہردن کا آغاز اس امید پر کرتے ہیں کہ شاید یہ دن ان کی غلامانہ اور محکومانہ زندگی کا آخری دن ہو گا۔ قبائل اپنی محرومیوں اور انکے ساتھ روارکھے جانے متعصبانہ رویئے کو پچھلے ستر سال سے بھگت رہے ہیں۔ قبائل کی اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہو گی کہ پچھلے چند دنوں کے دوران قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے حوالے سے جو متواتر خبریں ذرائع ابلاغ کی زینت بنتی رہی ہیں ان میں اتنا واضح اور کھلاتضاد ہے کہ ان خبروں نے عام قبائل کو نہ صرف چکرا کے رکھ دیا ہے بلکہ اس صورتحال سے قبائلی نوجوانوں اور سنجیدہ حلقوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔

چند روز پہلے یہ خبر ذرائع ابلاغ کو جاری کی گئی تھی کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس جس میں آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ بھی شریک تھے میں فاٹا اصلاحات پر اتفاق کرتے ہوئے اس عمل کو تیز کرنیکی ضرورت پر زور دیا گیا پھر خبر آئی کہ حکومت نے فاٹا کے انتظامی اور ترقیاتی معاملات کی نگرانی کیلئے چیف آپریٹنگ آفیسر کا ایک نیا انتظامی عہدہ تخلیق کرنے کا فیصلہ کیا ہے ان خبروں کے تسلسل میں چند دنوں بعد ہونے والے ایک دوسرے اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایف سی آر کو ختم کرتے ہو ئے قبائلی علاقوں کو سپریم کورٹ اور اسلام آبادہائی کورٹ کے دائرہ کار میں لایا جائے گا۔ ابھی اس خبر کی باز گشت جاری تھی کہ یہ سوال اٹھنا شروع ہوا کہ اگر قبائل کو اعلیٰ عدالتوں تک رسائی دینی ہے تو اسلام آباد ہائی کورٹ کی بجائے یہ رسائی پشاور ہائی کورٹ تک دینی چاہئے کیونکہ وزیرستان سے باجوڑ تک پھیلے ہوئے قبائل کیلئے اپنے مقدمات کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ تک رسائی بذات خود ایک روح فرسا مرحلہ ہو گا۔ اب پچھلے روز وفاقی وزیر سیفران کی جانب سے یہ خبر ذرائع ابلاغ میں شائع اور نشر ہوئی کہ اصلاحات کا عمل پانچ سال پر محیط ہو گا۔

قبائلی علاقوں کی ترقی کیلئے دیگر صوبائی اکائیوں سے اگلے این ایف سی ایوارڈ میں فنڈ ز مختص کروائے جائینگے جبکہ 2018 کے عام انتخابات کے بعد 2019میں قبائلی علاقوں میں بلدیاتی انتخابات منعقد کرکے یہاں بلدیاتی نظام رائج کیا جائے گا۔ اس بیان میں نہ تو فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا کچھ واضح ذکر ہے اور اس خبر میں نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ آیا 2018 کے انتخابات میں قبائلی عوام کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی کا حق دیا جائے گا اور یا پھر ان کی یہ خواہش آئندہ بھی یوں ہی تشنہ رہے گی۔ اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہو ئے بظاہر دوہی آپشن نظر آرہے ہیں کہ حکومت خود جس بحران سے دوچار ہے اسکے تناظر میں اس کیلئے قبائلی علاقوں میں اصلاحات کا بھاری پتھر اٹھانا فی الحال اسکے بس کا روگ نظر نہیں آتا ہے اور اگر اس ضمن میں حکومت بادل نخواستہ کوئی قدم اٹھانا بھی چاہے گی تو وہ یقیناًکوئی ایسا قدم ہو گا جو نہ تو قبائلی عوام کی دیرینہ خواہشات کا ترجمان ہو گا اور نہ ہی ایسے کسی فیصلے کے نتیجے میں قبائلی علاقوں کے سٹیٹس کو میں کسی بڑی تبدیلی کی امید کی جاسکے گی لہٰذا گمان غالب یہی ہے کہ قبائل کو ایف سی آر کے تحت اپنی غلامی کی سیاہ و تاریک اور طویل رات کے چنگل سے نکلنے کیلئے ابھی کچھ مزید انتظار کرنا پڑیگا یہ انتظار کتناطویل ہو گا اور اس ضمن میں قبائل کو کتنے پاپڑ بیلنے پڑیں گے اسکے بارے میں فی الحال کچھ کہنا یقیناًمشکل اور قبل از وقت ہو گا۔