بریکنگ نیوز
Home / کالم / ان دیکھے خطراب!

ان دیکھے خطراب!


پاکستان کو داخلی اور خارجی محاذوں پر جن خطرات کا سامنا ہے اس میں شدید ترین داخلی خطرات ہیں جن سے نمٹنے کے لئے کئی عسکری مہمات شروع کی گئیں اور انہی کی بدولت دہشت گردی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے بھی حالیہ پریس کانفرنس میں اسی جانب اشارہ کیا ہے کہ ’’پاک فوج آئین اور قانون کے تحت چلنے کی پابند ہے‘ چار غیرملکی ایجنسیاں پاکستان میں دہشت گردی کے منصوبے بنا رہی ہیں‘ افغانستان سے اب بھی خطرہ موجود ہے‘ ایران کے ساتھ مغربی سرحد پر سکیورٹی کے اضافی انتظامات کئے جارہے ہیں‘ ریاست کے استحکام کے لئے قومی اداروں کے مابین ہم آہنگی ضروری ہے۔‘‘ اس وقت ملک کی سلامتی کو اندر اور باہر سے جتنے سنگین خطرات لاحق ہیں‘ اس کی بنیاد پر عساکر پاکستان کا ملک کی سرحدوں کی حفاظت کا آئینی کردار اور بھی اہم ہوگیا ہے۔ ہماری افواج بلاشبہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت و مشاقی کی بنیاد پر ثانی نہیں رکھتیں۔ جس کے دستے اقوام متحدہ کی امن فورس کا بھی مؤثر حصہ ہیں اور دنیا میں کہیں بھی کوئی شورش بے قابو ہوتی ہے تو اقوام متحدہ کی جانب سے پاکستان کے فوجی دستوں کو ہی ترجیحاًوہاں بھجوایا جاتا ہے جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں مشاقی کے باعث دنیا کے کٹھن ترین محاذوں پر بھی کامیاب و سرخرو ہوتے ہیں۔

اسی طرح وطن عزیز کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات کے مراحل میں بھی جری و بہادر افواج پاکستان نے ہر چیلنج کو قبول کرکے اس میں سرخروئی حاصل کی ہے‘ 1965کی جنگ میں بھارتی جارحیت کا افواج پاکستان نے بے جگری اور مہارت کیساتھ مقابلہ کیا اور دشمن کو ہر محاذ پر ناکوں چنے چبوائے وہ عساکر پاکستان کی شاندار تاریخ کا روشن باب ہے۔ اسی طرح زلزلے اور سیلاب جیسی قدرتی آفات میں بھی افواج پاکستان ہی سب سے آگے بڑھ کر امدادی کاموں میں حصہ لیتی ہیں اور متاثرین کی بحالی کا کام بلاتاخیر جاری رکھتی ہیں۔ ملک میں کسی اندرونی شورش پر قابو پانا اور امن و امان قابو میں رکھنا بھی افواج پاکستان کی آئینی ذمہ داری ہے جس کے لئے وفاقی حکومت یا متعلقہ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ عسکری قیادت کو ریکوزیشن بھجوا کر فوجی دستوں کی خدمات حاصل کرتی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے ملک کو دہشت گردی کا جو چیلنج درپیش ہے‘ اس سے عہدہ برآء ہونے کے لئے بھی ہماری سکیورٹی فورسز مستعدی اور جانفشانی سے اپنے پیشہ ورانہ فرائض سرانجام دے رہی ہیں جس کے دوران افواج پاکستان کی جانب سے دی گئی بے بہا جانی اور مالی قربانیاں بھی اس قومی ادارے کے تابناک کردار کا حصہ بن چکی ہیں۔ اس وقت ملک بھر میں ہماری سکیورٹی فورسز کا ردالفساد اور کومبنگ آپریشنز جاری ہیں جبکہ خیبرفور میں بھی دہشت گردوں کے ہر محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

ملک کی سلامتی و استحکام کے تقاضے نبھانے والا ہماری سکیورٹی فورسز کا یہ وہی جاندار کردار ہے جس کی بنیاد پر قوم کو ہمیشہ عساکر پاکستان پر فخر رہا ہے اور وہ ان کے کندھے سے کندھا ملائے کھڑی نظر آتی ہے۔ پاکستان میں اگر نظام کے استحکام اور عدم استحکام کے حوالے سے چہ میگوئیوں کا سلسلہ جاری ہے تو اس کا ایک پس منظر بھی موجود ہے۔ نااہل قرار دیئے گئے ملک کے سابق وزیراعظم نوازشریف سپریم کورٹ کے فیصلہ کے تحت وزارت عظمیٰ سے اپنی سبکدوشی کے حوالے سے ہر جگہ پر ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘ کا استفسار کرتے ہیں تو ان کا اشارہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کی آڑ میں درحقیقت مقتدر قوتوں کی جانب ہوتا ہے اور اسی تناظر میں وہ اب سانحۂ سقوط ڈھاکہ کا بھی تذکرہ کررہے ہیں جس کے بارے میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے گزشتہ روز یہ جواب دیا کہ ’’پیچھے مڑ کر دیکھا تو پیچھے ستر سال ہیں اور ہم پھر پیچھے ہی دیکھتے رہ جائیں گے۔ اس لئے پندرہ سال کو دیکھیں‘ فوج کی قربانیاں دیکھیں اور آگے دیکھیں۔‘‘ عساکر پاکستان کو بلاشبہ وہی فرائض سرانجام دینے ہیں۔

جس کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ فوج آئین کے تحت مجاز اتھارٹی کی جانب سے ملنے والے ہر حکم کی تعمیل کریں اور خود کو اپنی آئینی ذمہ داریوں تک ہی محدود رکھیں۔ اگر فی الواقع ایسا ہو تو اس سے زیادہ مثالی صورتحال اور کوئی نہیں ہو سکتی مگر ہماری تاریخ تو عسکری قیادتوں کے ماورائے آئین و قانون اقدامات سے بھری پڑی ہے۔ اصولی طور پر تو عساکر پاکستان کو آئین و قانون میں متعین اپنے ڈسپلن میں ہی رہنا ہے جس کا ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی تذکرہ کیا ہے تو اس ڈسپلن کی خلاف ورزی کا مجاز اتھارٹی کی جانب سے نوٹس لینے پر پاک فوج کے ترجمان ادارے کے سربراہ کی پریس کانفرنس کی گنجائش کہاں سے نکل آئی جبکہ اس پریس کانفرنس میں انہوں نے مارشل لاء لگانے کی افواہوں کا تذکرہ کرنا بھی ضروری سمجھا اور یہ درس دینا بھی کہ تمام اداروں کا مل کر کام کرنا ضروری ہے۔ اگر تمام ادارے اپنی حدود وقیود میں رہ کر فرائض ادا کررہے ہوں تو بھلا اس پر کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے جبکہ سسٹم کا استحکام بھی تمام اداروں کے اپنی حدود و قیود کے اندر رہنے سے ہی ممکن ہے؟(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر:ڈاکٹر افتخار خان۔ ترجمہ: ابوالحسن امام)