بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / ای سی سی کے فیصلے

ای سی سی کے فیصلے

وفاقی حکومت نے درجنوں درآمدی اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے اور اس کی شرح میں اضافے کی منظوری دے دی ہے حکومت کے اس اقدام کا بنیادی مقصد درآمدی بل میں اضافے کی حوصلہ شکنی کرنا ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق ریگولیٹری ڈیوٹی کے دائرے میں97 پر تعیش اشیاء آئی ہیں جبکہ 200 دیگر اشیاء پر پہلے سے عائد ڈیوٹی کی شرح میں5 سے15 فیصد تک اضافہ بھی کیا گیا ہے اس سارے عمل میں ان اشیاء پر زیادہ فوکس رکھا گیا ہے جن کی درآمد کی رفتار تیز ی سے بڑھ رہی ہے خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 1 کروڑ20 لاکھ کلو اضافی تمباکو کمپنیوں اور ڈیلرز کو دینے ہائی سپیڈ ڈیزل پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کیلئے مارجن ڈیوٹی ریگولیٹ کرنے جیسے امور کی منظوری بھی دی ہے جہاں تک امپورٹ بل میں کمی کا سوال ہے تو اسے وقت کا اہم تقاضا ہی قرار دیا جا سکتا ہے درآمدات پر بڑھتے انحصار کی سٹیٹ بینک آف پاکستان بھی نشاندہی کر چکا ہے ۔ درآمدی بل میں3 سے5 ارب ڈالر کی کمی کا ہدف حاصل کرنے کے لئے یقیناًکچھ تلخ فیصلے ناگزیر ہیں تاہم ان فیصلوں کے نتیجے میں عام شہری کو متاثر ہونے سے بچانااس سے بھی زیادہ ناگزیر ہے ہمارے ہاں کسی بھی چیز پر ٹیکس یا ڈیوٹی عائد ہونے کیساتھ اسکا بوجھ براہ راست صارفین پر ڈال دیا جاتا ہے۔

مارکیٹ پر کنٹرول کا مؤثر نظام نہ ہونے کے باعث یہ بوجھ بعض اوقات مقررہ شرح سے زیادہ ہی ہوتا ہے دوسری جانب حکومت کی طرف سے کوئی بھی ریلیف ملنے پر اس کے ثمرات مارکیٹ میں دکھائی نہیں دیتے اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کسی بھی ریاست میں عام شہری حکومت کے اکانومی سیکٹر میں کسی بھی اقدام کو اس وقت سراہتے ہیں جب وہ اس کے نتیجے میں کوئی سہولت حاصل کرتے ہیں ۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو یا کوئی اور کامیابی عام آدمی اس سے سروکار نہیں رکھتا اسے آن سپاٹ ریلیف کی ضرورت ہوتی ہے اس مقصد کے لئے حکومتی سطح پر موجود ایک مکینزم مجسٹریسی نظام کی صورت میں کام کرتا تھا جو جنرل مشرف کے دور میں ختم کر دیا گیااس کے بعد سے اب تک گرانی اور ملاوٹ کی روک تھام کے لئے مؤثر سرکاری مشینری کا انتظام نہیں کیا گیا نہ ہی صوبوں کی جانب سے ڈیمانڈ کے باوجود مجسٹریسی سسٹم بحال کرنے پر کوئی قابل ذکر پیش رفت ہو سکی۔

ہسپتالوں میں سروسزکا معیار

ایک طویل عرصہ گزرنے کے بعد سرکاری ہسپتالوں میں سروسز کا معیار چیک کرنے اور ادویات کی مناسب قیمتوں پر فراہمی یقینی بنانے کے لئے خصوصی کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ان کمیٹیوں کا سودمند ہونا ان کے بروقت فنکشنل ہونے سے مشروط ہے صحت کے شعبے میں صوبائی حکومت کی اصلاحات اور ان پر عملدرآمد کے لئے خطیر فنڈز کا اجراء قابل اطمینان ہے تاہم دوسری جانب اس حقیقت کو بھی نہیں جھٹلایا جا سکتا کہ سرکاری علاج گاہوں میں جانے والے مریضوں کی مشکلات میں کمی کی بجائے وقت کیساتھ اضافہ بھی ہوتا چلاجارہا ہے اصلاح احوال صرف مانیٹرنگ کے کڑینظام ہی سے ممکن ہے تاہم اس کے لئے خصوصی کمیٹیوں کو بھی قاعدے قانون کا پابند بنانے اور ان کے لئے حدود کا تعین ضروری ہو گاتاکہ ورکنگ میں الجھاؤ سے بچا جا سکے۔