بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / بنگلہ دیش کا میگا مہاجرین کیمپ کا منصوبہ خطرناک ہے‘ اقوام متحدہ کا انتباہ

بنگلہ دیش کا میگا مہاجرین کیمپ کا منصوبہ خطرناک ہے‘ اقوام متحدہ کا انتباہ

نیویارک۔اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش کا 8 لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمانوں کے لیے دنیا کا سب سے بڑا مہاجرین کیمپ بنانے کا منصوبہ خطرناک ہے، کیمپ میں گنجائش سے زیادہ لوگوں کی موجودگی کی وجہ سے مہلک بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے اعلی عہدیدار کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کا 8 لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمانوں کے لیے دنیا کا سب سے بڑا مہاجرین کیمپ بنانے کا منصوبہ خطرناک ہے۔ میانمار کی ریاست رخائن میں 25 اگست سے فوجی کریک ڈان کے باعث 5 لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمانوں کی بنگلہ دیش آمد سے پہلے ہی مہاجرین کیمپوں میں بہت زیادہ کشیدگی پائی جاتی ہے۔عالمی دبا میں مبتلا بنگلہ دیشی انتظامیہ کوکس بازار کے سرحدی قصبے کے قریب کٹوپالونگ کے مہاجرین کیمپ میں توسیع کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

تاہم ڈھاکہ میں اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر رابرٹ ویٹکِنز نے بتایا کہ بنگلہ دیش کو کیمپ میں توسیع کے بجائے نئے کیمپس کے لیے نئے مقامات کا تعین کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جب آپ چھوٹے سے علاقے میں بڑی تعداد میں لوگوں کو بساتے ہیں، بالخصوص ان لوگوں کو جن کے بیماریوں میں مبتلا ہونے کے قوی امکانات ہوتے ہیں تو یہ بہت خطرناک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس بات کہ بہت زیادہ امکانات ہیں کہ اگر مہاجرین کسی انفکیشن والی بیماری میں مبتلا ہوگئے تو وہ بہت تیزی سے پھیلے گی، جبکہ کیمپوں میں آتشزدگی کا بھی خطرہ ہے۔

دوسری جانب بنگلہ دیش کی درخواست پر اقوام متحدہ کی مہاجرین کی عالمی تنظیم (آئی او ایم) نے امدادی ایجنسیوں کے کام میں تعاون کرنے اور نئے مقامات پر شیلٹرز قائم کرنے میں مدد کرنے کی حامی بھرلی ہے۔تنظیم کا کہنا تھا کہ مجوزہ کیمپ دنیا کا سب سے بڑا کیمپ ہوگا اور اس منصوبے کے لیے کٹوپالونگ کیمپ کے ساتھ تین ہزار ایکڑ زمین مختص کردی گئی ہے۔آئی او ایم کے ترجمان نے جنیوا میں میڈیا کو بتایا کہ 7 لاکھ افراد کی گنجائش والا کیمپ بہت بڑا ہوگا، تاہم اگر یہ ممکن نہ ہوسکا تو اقوام متحدہ کی ایجنسیاں اس کا آغاز نہیں کریں گے۔