بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کارکردگی پر ترقی اور تنزلی کی پالیسی

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کارکردگی پر ترقی اور تنزلی کی پالیسی

جزا و سزا کا عمل کسی بھی ادارے کی ترقی کے ساتھ افرادی قوت میں مزید مستعدی کا باعث بنتا ہے ٗ جزا و سزا کو اگر الگ الگ کر دیا جائے اور جزا یا صرف سزا کی حکمت اپنائی جائے تو وہ ا دارے ترقی کی بجائے تنزلی کی جانب گامزن ہو جاتے ہیں ‘ لہٰذا جزا و سزا دونوں لازم و ملزوم ہیں ۔

ماضی کی حکومتوں نے سرکاری اداروں کی استعداد کار بہتر بنانے کیلئے جزا و سزا کے اعلانات تو بہت کئے تاہم یہ اعلانات ہمیشہ سیاسی مصلحتوں کی ہی نذر ہوتے رہے جس کے باعث سرکاری اداروں میں جزا تو درکنار سزا کی کیسز بھی شاز و نادر ہی ریکارڈ کا حصہ ہیں ۔موجودہ صوبائی حکومت نے حقیقی معنوں میں جزا و سزا کے اعلان پر نہ صرف عمل درآمد کیا بلکہ جزا اور سزا کو ترازو میں انصاف کے ساتھ تولا ۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری ادارے بہتری کی جانب گامزن ہو گئے ہیں ۔ ان اداروں میں انتہائی اہم ٗ حساس اور صوبے کے مستقبل سے وابستہ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم ہے‘ اس وقت صوبائی حکومت تعلیم پر 150 ارب روپے سالانہ خرچ کر رہی ہے بجٹ کے تقریباً 28فیصد حصے کو صرف اور صرف معیاری تعلیم کے فروغ کیلئے مختص کیا گیا ہے ۔ اتنی بڑی رقم کا بنیادی محور صرف اور صرف ’’طالب علم ‘‘ ہے ٗ طالب علم کی صلاحیتوں کو نکھارنے کی ذمہ داری ہر پہلو سے ایک ’’استاد ‘‘ کی بنتی ہے ٗ اگر استاد معاشی طور پر مستحکم ہے تو اس کا ذہن پرسکون انداز میں اپنی خداداد صلاحیتوں کو طالب علم میں منتقل کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوگا اور اگر استاد کا ذہن منتشر ہے تو وہ صحیح معنوں میں قوم کے معماروں کو تیار نہیں کر سکے گا ۔تحریک انصاف کی حکومت اس حوالے سے لائق تحسین ہے کہ اس نے محکمہ تعلیم میں سزا کے ساتھ جزا کیلئے اساتذہ کرام کی بھرپور حوصلہ افزائی کی ہے ۔صوبائی حکومت اساتذہ کی بہتری کارکردگی پر انہیں 250ملین روپے سے زائد کے نقد انعامات دے چکی ہے ۔ امسال صوبے کے 240سکولوں کے 1900 اساتذہ میں 110ملین روپے نقد انعامات تقسیم کئے گئے یہ انعامات پانچ شعبوں میں بہترین کارکردگی پر دیئے گئے ان میں داخلوں میں اضافہ ٗ انفرادی طور پر سابق مقابلہ ٗ طلبہ کی حاضری ٗ اساتذہ کی حاضری اور میٹر ک کے نتائج شامل ہیں گزشتہ سال 120سکولوں کے اساتذہ میں 50ملین روپے تقسیم کئے گئے تھے تاہم امسال یہ رقم دگنا کر دی گئی ہے ۔ اس حوالے سے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ پرویز خٹک تھے ۔اس موقع پر ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی مہر تاج روغانی ٗ محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے وزیر محمد عاطف خان ٗوزیر قانون امتیاز شاہد قریشی ٗوزیر خوراک قلند ر لودھی ٗ و زیر اعلیٰ کے مشیر عبد المنعم خان ٗ شکیل خان اور دیگر ارکان اسمبلی و اعلیٰ حکام کے علاوہ اساتذہ برادری نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے اپنے خطاب میں کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے کارکردگی کی بنیاد پر سزا و جزا کی موثر پالیسی پر عمل درآمد یقینی بنایا جس کی بدولت داخلوں اور حاضری کی شرح میں اضافے اور معیار تعلیم میں بہتری کی ٹھوس داغ بیل پڑی۔ ہم نے سکولوں میں سہولیات کی کمی پوری کرنے کیلئے تعمیر سکول پروگرام شروع کیا تو دوسری طرف اساتذہ کے لازمی تربیتی کورسز کا اہتمام کیا۔ ماضی میں اساتذہ کے لئے کسی غلطی پر صرف سزائیں مقرر تھیں حسن کارکردگی پر انعام کاتصور نہیں تھا۔ ہم نے 2014ء میں اساتذہ کو انعامات دینے کا سلسلہ شروع کیا اور بہترین اساتذہ کو ساڑھے پانچ کروڑ روپے کے انعامات دیئے ۔اگلے سال 11 کروڑ روپے اور اتنی ہی مالیت کے ساتھ بہترین اساتذہ میں انعامات تقسیم کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بہترین اساتذہ کے لئے ہمارا معیار یہ ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں اور کوششوں کو بروئے کار لا کر سکول میں داخلوں کی شرح بڑھائے ٗ میٹرک کے بہترین امتحانی نتائج دے اور اساتذہ و طلباء کی سو فیصد حاضری کو یقینی بنائے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے شروع دن سے تعلیم کو اپنی اولین ترجیح کے طور پر لیا۔


ہم فروغ تعلیم اور تربیت یافتہ افرادی قوت بالخصوص تعلیم و ہنرسے آراستہ نوجوان نسل کی تیاری ضروری سمجھتے ہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوان بر سرروزگار ہو یا اْن کا اپنا کاروبار ہو‘ وہی دراصل خوشحال مستقبل کا ضامن ہے۔ایسا نوجوان انتہا پسندی کی منفی سوچ سے آزاد ٗبا صلاحیت اور مفید شہری بن جاتا ہے۔وہ پورے معاشرے کے لئے اْمید اور ملک وقوم کی ترقی کاباعث بن جاتا ہے۔کوئی سکول مناسب کلاس رومز ، پانی و بجلی اور واش روم کی سہولیات کے بغیر مکمل نہیں کہلایا جا سکتا جن کی بدولت بچے بخوشی سکول میں داخل ہوتے اور تعلیم حاصل کرتے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ اْن کی علم میں دلچسپی بڑھتی چلی جاتی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ افسوس کہ ماضی میں صرف سکول کی عمارات بنائی جاتی رہیں مگر ان میں مطلوبہ اساتذہ اور سہولیات کی فراہمی کو ضروری نہیں سمجھا گیا۔ہماری حکومت نے برسر اقتدار آنے کے ساتھ ہی اربوں روپے کے خرچ سے نہ صرف نئے سکول تعمیر کئے بلکہ سب سے پہلے اور زیادہ توجہ موجودہ سکولوں کی حالت بہتر بنانے اور ان میں ناپید سہولیات کی فراہمی پر مرکوز رکھیں۔ہم نے ہر علاقے میں والدین کو بھی اساتذہ کی کمیٹیوں میں شامل کرکے اْن کے تعاون سے 20 ہزار سے زائد سکولوں میں بنیادی سہولیات کی کمی پوری کی تا ہم ان سے بھی زیادہ سکولوں میں سہولیات کی فراہمی باقی ہے جس کے لئے وسائل کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔ماضی میں اسے ضروری نہیں سمجھا گیا اور دھڑا دھڑا سیاسی بنیادوں پر ایک یا دو کمروں کے نئے سکول تعمیر کئے جاتے رہے مگر ان میں چار دیواری سے لے کر پانی اور واش روم جیسی بنیادی سہولیات کو ضروری نہیں سمجھا گیا۔ اس لحاظ سے ہم نے تعلیم پر دوسرے تمام صوبوں سے زیادہ بجٹ خرچ کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ماننا ہوگا کہ تعلیم کے حوالے سے ہمارا ماضی کبھی درخشاں نہیں تھا‘ بدقسمتی سے آزادی کے بعد سے شعبہ تعلیم کو انگریزی میڈیم ، اردو میڈیم یعنی سرکاری سکولوں اور دینی مدارس کے تین طبقات میں تقسیم کردیا گیا تھا۔اگرچہ شروع میں سرکاری اْردو میڈیم سکولوں کا امتحانی معیار بھی بہترین تھا اور وہ خود سرکاری پرائمری سکول میں پڑھے مگر یہ بھی مشاہدہ رہا کہ آگے جاکر وہ انگلش میڈیم میں پڑھے طلباء کا مقابلہ نہیں کرسکتے تھے۔ جو معاشرے اپنے تعلیمی نظام پر توجہ نہیں دیتے تباہی اْن کا مقدر بن جاتی ہے۔ہمارے کمزور تعلیمی نظام کی وجہ سے بدعنوان ٹولوں نے فائدہ اْٹھایا۔ ذاتی پسند و ناپسند پر اداروں کو تشکیل دیا گیا جس کے نتیجے میں معاشرہ سماجی برائیوں کا شکار ہو گیا۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ معاشرے کے امیر طبقے سرمایہ داری میں آگے بڑھتے گئے اور معاشرے کا غریب طبقہ دن بدن غربت میں دھنستا چلا گیا۔ جن لوگوں میں خلوص تھا،جو وطن کے لئے کچھ کرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔ انہیں جان بوجھ کر کمزور رکھا گیا۔ ان پر قومی وسائل کے دروازے بند کر دیئے گئے۔ سارا نظام اور تمام ادارے ایک خاص ٹولے کے مفادات کو تحفظ دینے پر لگا دیئے گئے۔ جس سے غریب اورامیر کے مابین فرق بڑھتا گیا۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت نے امیر و غریب کو تعلیم اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنے کی بنیاد فراہم کی۔ہم امیر وغریب کے درمیان اس فرق کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ سرکاری سکولوں کو پرائیوٹ اداروں کے برابر لاکھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پرائمری کی سطح پر بنیادی انگلش کا آغاز کر چکے ہیں تاکہ غریب کا بچہ بھی آگے جاکر امیر کا مقابلہ کرسکے۔ اسی طرح سکولوں میں پرائمری کی سطح پر قرآن ناظرہ اور میٹرک کی سطح پر باترجمہ قرآن لازمی قرار دیا جس کی بدولت طلباء دینی و دنیاوی تعلیم سے آراستہ ہوں گے۔ہمارے اقدامات کی وجہ سے صوبے میں سرکاری سکولوں پر عوام کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ اب پرائیوٹ اداروں سے لوگ سرکاری سکولوں میں آرہے ہیں۔وہ وقت قریب ہے جب پیشہ وارانہ تعلیمی اداروں کی طرح سرکاری سکولوں میں داخلوں سے محروم ہونے والے طلباء ہی پرائیوٹ سکولوں میں داخل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسا نظام تعلیم دینا چاہتے ہیں جو ایسی افرادی قوت تیار کرے جو ملک وقوم کی ترقی کی ضامن بنے۔ جو اندرونی و بیرونی دشمنوں کی سازش کا مردانہ وار مقابلہ کر سکے۔ یہی ہمارا منشور اور ہمارا وژن ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ آج ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر پوری ایمانداری سے یہ سوال پوچھنا ہو گا کہ آیا صرف سہولیات کی فراہمی سے تعلیم کا معیار بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ تعلیم کا معیار بہتر بنانے کے لئے عمارتوں سے بڑھ کرسکولوں میں ایسی درسی کتب کی دستیابی ضروری ہے جو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔ ایسے امتحانی نظام کی ضرورت ہے جو بچوں میں رٹے رٹانے کی بجائے آزاد اور تخلیقی سوچ پروان چڑھائے۔ امتحانات میں نقل کی لعنت جڑ سے اْکھاڑنے کی ضرورت بھی ہے اور سب سے بڑھ کر بہترین اساتذہ کی ضرورت ہے جو بچوں کی نفسیات کو سمجھ کر اْنہیں پوری اثر انگیزی کے ساتھ درس دے سکیں۔

صوبائی حکومت نے سکولوں میں ناپید سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ 35 ہزار سے زیادہ با صلاحیت اساتذہ خالص میرٹ کی بنیاد پر بھرتی کئے ہیں۔کوشش کی جانی چاہئے کہ سکولوں میں بہترین تدریسی ماحول قائم ہو اور اْستاد و طالب علم کے درمیان بہترین روحانی رشتہ قائم ہو تاکہ سرکاری سکول سے فارغ التحصیل طالب علم کو اپنی تعلیم پر فخر محسوس ہو ۔ حکومت کی اولین ترجیحات میں یہ بات بھی شامل ہونی چاہئے کہ ان بچوں کو بھی سکولوں میں داخل کرایا جائے جو غربت کے سبب کھیتوں ٗ گلی کوچوں ٗ گھروں اور ورکشاپوں میں مزدوری پر مجبورہیں۔ اس وقت بچوں کی ایک بڑی تعداد یا توسکول میں داخلوں سے محروم رہ جاتی ہے یا درمیان میں تعلیم اْدھوری چھوڑ دیتے ہیں۔یہ شرح لڑکیوں میں زیادہ ہے۔البتہ خیبر پختونخوا واحد صوبہ بن گیا ہے جس نے سکول نہ جانے والے بچوں کے اعداد و شمار خصوصی طور پر جمع کئے اور اس کے لئے جامع سروے کیا۔اس سروے سے معلوم ہو گیا ہے کہ سکول نہ جانے والا ہر بچہ کہاں ہے اور وہ کیوں تعلیم سے محروم ہے۔ان معلومات کی بنیاد پر بچوں اور بچیوں کو دوبارہ سکولوں میں لانے اور اس مقصد کے لئے فنڈ مختص کرنے کے قابل بنانا چاہئے۔