بریکنگ نیوز
Home / کالم / آئین اہم ہے

آئین اہم ہے

پاکستان ایک ایسا ملک ہے کہ جس کا ایک تحریر شدہ آئین ہے۔ اگر ہر کام آئین کے مطابق ہو گا تو ملک ترقی کی منزلیں طے کرتا رہے گا۔ آئین میں ہرادارے کا ایک رول ہے جس پر ہر ایک ادارے کو عمل پیرا ہونا چاہئے۔ اگر کوئی بھی ادارہ اپنی دی گئی حدود سے تجاوز کرتا ہے تو ملک میں بد نظمی کا امکان بڑھ جاتا ہے اور جب ملک میں بد نظمی ہو تو ظاہر ہے کہ اس کی ترقی کی گاڑی کا پہیہ رک جاتا ہے ‘اس لئے سیاسی لیڈروں کو بھی چاہئے کہ وہ آئین کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہ کر اپنی اپنی سیاست کو چلائیں۔حکومت کے اچھے کاموں کی تعریف بھی ضروری ہے اور اگر حکومت آئین کی حدود پھلانگنے کی کوشش کرتی ہے تو حزب اختلاف کا فرض ہے کہ وہ اس کا راستہ روکے۔ اس کے لئے ایک فورم موجود ہے کہ جہاں حکومت کو بہتر مشورے بھی دیئے جا سکتے ہیں اور اس کی غلطیوں پر اس کا راستہ بھی روکا جا سکتا ہے اگر ہم اس فورم یعنی قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے باہر کسی بات کو لے جائیں گے تو اس سے انارکی پھیلنے کا خدشہ رہتا ہے حکومت ہو یا حزب اختلاف دونوں کو اپنے اس فورم کو پوری طرح سے فعال رکھنا چاہئے۔ اگر ہم اس سے باہر رہیں گے تو ہماری کار کردگی کو سراہا نہیں جائے گا اسلئے کہ عوام نے حکومتی اور حزب اختلاف کے اراکین کو ایک پلیٹ فارم دے دیا ہے کہ وہاں بیٹھ کر باہمی افہام و تفہیم سے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔آئین کے تحت کوئی بھی حکومت اپنے پانچ سال پورے کرنے کی حقدار ہے۔جب تک وہ اپنی آئینی مدت پوری نہیں کرتی اس وقت تک اس پر جو بھی تنقید یا توصیف کرنی ہے اُس کو اسی پلیٹ فارم پر ہونا چاہئے۔

یہ رواج ہے کہ جب بھی ایک حکومت اپنی مدت پوری کرنے کے قریب ہوتی ہے تو حزب اختلاف اس کی کمزوریاں لئے عوام کے پاس جاتی ہے اور اگلے الیکشن میں اس کی کمزوریوں کو نشانہ بنا کر اپنے لئے راہ ہموار کرتی ہے تاکہ اگلے انتخابات میں قوم اسکی پارٹی کو حکومت سونپے اور حکومتی پارٹی عوام کے سامنے اپنی کارکردگی لے کر جاتی ہے اور اس کی بنا پر اپنے لئے اگلی مدت کے لئے ووٹ مانگتی ہے۔ عوام کو جو بھی پارٹی اپنی کار کردگی کی بناپر اپنی طرف مائل کر لیتی ہے دوسری مدت کے لئے حکومت حاصل کر لیتی ہے اور ملکی آئین کے اندر رہتے ہوئے اگلے عرصے میں کام کرتی ہے ‘یہی جمہوریت ہے اور اسی طرح سے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاتا ہے۔اس کے لئے ضروری بات ایک حکومت کا اپنی مدت پوری کرنا ہے۔ اگر اس کی کارکردگی خراب ہو تی ہے تو عوام دوسری مدت کیلئے اسے حکومت سے باہر کر دیتے ہیں لیکن اگر حکومت کی مدت پوری ہونے سے قبل ہی انتخابات کا رولا ڈال دیا جائے تو اس طرح کوئی بھی حکومت چل نہیں سکے گی۔ حکومت اچھا کر رہی ہے یا برا جب تک اسکی مدت ہے حزب اختلاف اپنے فورم پر اس کا راستہ روکے اور اس کو اچھی تجاویز دے تاکہ ملک میں امن بھی ہو اور ملک بھی آگے کی طرف جائے۔اگر حزبِ اختلاف اسمبلی کی بجائے سڑکوں کا انتخاب کرتی ہے تو یہ ملک کے لئے کسی بھی طرح بہتر نہیں ہوتا۔ یہ نہیں کہا جا سکتاکہ حکومت کا ہر کام ہی ٹھیک ہوتا ہے مگر جو کچھ وہ ٹھیک کر رہی ہے اسکی داد ملنی چاہئے اور جو کچھ برا ہو رہا ہے اس پر حکومت کا ہاتھ پکڑنا چاہئے اور اس کیلئے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے اسمبلیوں میں اُس کو روکنا چاہئے اور اچھی تجا ویز کے ذریعے عوام کو فائدہ پہنچانا چاہئے‘دنگے فساد کی سیاست سے ملک کو فائدے کی بجائے نقصان ہوتا ہے۔اگر آپ ایک دن ہڑتال کرتے ہیں تو خود سوچئے کہ ملک کا کتنانقصان ہو جاتا ہے اور یہ نقصان سالوں پورا نہیں ہو پاتا۔ملک کا کوئی بھی ادارہ سوائے مخصوص اداروں کے اپنے حقوق کے لئے ہڑتالوں کو اپنا جمہوری حق کہتا ہے۔

مانا کہ یہ جمہوری حق ہے مگر اس حق کو استعمال کرتے ہوئے کیا کسی نے کبھی سوچا ہے کہ وہ اپنے ایک حق کے لئے ملک کا کتنا نقصان کرتے ہیں۔جمہوریت میں اپنے حقوق کو منوانے کے لئے آپ کو آئین یہ حق دیتا ہے کہ آپ اپنے چند نمائندوں کے ذریعے اپنی عرضداشت حکومت تک پہچائیں اور حکومت کو قائل کریں کہ آپ کا حق جائز ہے اور اسے پور ا کیا جائے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح سے آپ کو حق بھی مل جائیگا اور ملک میں بد امنی بھی نہیں پھیلے گی اور یوں ملکی معیشت کا پہیہ بھی نہیں رکے گا۔ اسی طرح سیاسی پارٹیوں کو بھی چاہئے کہ ہڑتالوں وغیرہ کا راستہ نہ ہی چنیں تو بہتر ہے‘ رہا سوال کسی ادارے کے سربراہ کے چننے کا تووہ وہی چنے گا جس کو آئین حق دیتا ہے چاہے وہ کسی کو اچھا لگے یا برا۔آئین بہر حال مقدم ہے۔