بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / نایاب ہسپتال

نایاب ہسپتال

دانشور‘ مفکر‘ اداکار‘ صداکار‘ شاعر اور نہایت ہی نفیس شخصیت و طبیعت کے مالک پروفیسر سیّد ضیاء القمر کی ذات کا سب سے مستند حوالہ ایک ایسے معلم کا تھا جو کبھی بھی کلاس روم میں نصابی کتب اور رٹے رٹائے اسباق کو اپنے تدریسی تجربے کی بنیاد پر بیان کرنے کی حد تک محدود نہیں پائے گئے بلکہ ان کی کوشش رہتی کہ وہ ایک شفیق والد کی طرح ’طالب علموں کی علمی و فکری تشنگی‘ دور کریں۔ حقیقت اور آج کی ضرورت بھی یہی ہے کہ ہمارے معلم دیگر شعبہ ہائے زندگی کے ماہر ہونے کی بجائے اس بنیادی کام کے بھی ماہر ہوں‘ جو انکی ذمہ داری ہے۔ افسوس ہے کہ ہمیں اساتذہ سب کچھ دکھائی دیتے ہیں سوائے اس بات کہ انہیں بطور استاد اپنی زندگی وقف کرنے کی فرصت نہیں رہی! پروفیسر سیّد ضیاء القمر‘ کا مقصد تعلیم ہوتی‘ وہ بورڈ کے اِمتحانات میں کارکردگی (حافظے اور حاضر دماغی کی بنیاد پر کامیابی کے) قائل نہیں تھے بلکہ زندگی کے عملی امتحان کے لئے تیار ی کی ضرورت پر زور دیتے کہ تعلیم ہمارے ظاہر و باطن کو روشن کر دے۔ وہ دلچسپ پیرائے میں بوریت اور بوجھ محسوس ہونے والے نصابی اسباق کے درپردہ اسباق ذہن نشین کرواتے۔ وہ اپنی ذات میں ایک ایسی عمدہ مثال تھے‘ کہ جنہیں دیکھ کر طالب علموں میں یہ جذبہ پیدا ہوتا تھا کہ وہ بھی اسی قسم کے ’آئیڈیل معلم‘ بنیں۔ ذاتی تجربہ ہے کہ ڈاکٹر ظہور احمد اعوان اور پروفیسر سیّد ضیاء القمر میں یہی قدر مشترک پائی گئی کہ ان دونوں مرحوم و مغفور معلم شخصیات نے اپنی تمام زندگی پڑھنے‘ پڑھانے اور اپنی ذات کو بطور عملی نمونہ پیش کرنے کے لئے وقف کئے رکھی اور آج ہر طرف سے گواہی سنائی دے رہی ہے کہ وہ دنیاوی زندگی کامیابی و کامرانی سے بسر کرنے کے بعد پورے اطمینان و سکون سے رخصت ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر ظہور احمد کی رحلت تین اپریل دوہزار گیارہ جبکہ پروفیسر سیّد ضیاء القمر کی روح قفس عنصری سے پرواز کرنے کی تاریخ چوبیس اگست دوہزار سترہ کی شب ہے جب وہ نارتھ ویسٹ ہسپتال کے شعبۂ انتہائی نگہداشت میں زیرعلاج تھے اور قریب ایک سال تک سرطان کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے۔

انہیں پچیس اگست کو اضاخیل بالا نوشہرہ میں ان کے آبائی قبرستان میں سپردخاک کیا گیا۔ وہ ایک باہمت انسان تھے‘ جنہوں نے اگر زندگی میں کسی چیز سے ہار مانی بھی تو وہ اُن کی بیماری تھی‘ جو ایک وقت تک بے بس دکھائی دی اور بالآخر اس وقت موقع پر کر حاوی ہو گئی جبکہ وہ بیہوشی کی حالت میں تھے۔ بطور طالب علم ڈاکٹر ظہور اور پروفیسر ضیاء القمر میں قدر مشترک یہ رہی کہ یہ دونوں ہی شخصیت و کردار سازی پر توجہ دیتے تھے۔ ضیاء القمر انگریزی زبان کے پروفیسر تھے اُور اُن کا لباس‘ بولنے کا انداز اور عمومی بات چیت سے لیکر چال تک سے انگریزی چھلکتی تھی‘ جسے وہ اپنے شاگردوں میں منتقل کرنے کی خداداد صلاحیتوں کے مالک تھے۔ بقول شیکسپیئر ۔۔۔ ’’اگرچہ ہر جاندار شے نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے لیکن کچھ ہستیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے لئے موت ’ابدی حیات‘ کا آغاز ثابت ہوتی ہے۔‘‘ پروفیسر سیّد ضیاء القمر ہمیشہ زندہ رہیں گے‘ دعاؤں اور اُن جیسا بننے کی کوشش کرنے والوں طالب علموں کے قول و فعل میں۔‘ سات اکتوبر کوایڈورڈز کالج میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کے دعوت نامے پر تحریر تمہیدی جملے نہایت ہی جامع اور دل کو چھو لینے والے تھے کہ پروفیسر سیّد ضیاء القمر نے خیبرپختونخوا کے تعلیمی منظرنامے پر گہرے نقوش ثبت کئے ہیں۔

انہیں انگریزی پر غیرمعمولی عبور حاصل تھا اور اُن کی دیگر مختلف شعبوں میں مہارت کا نہ صرف تعلیم بلکہ فنون لطیفہ‘ علمی‘ ادبی‘ سماجی اور سیاسی سطح پر اعتراف کیا گیا ہے۔ ان کا ایڈورڈز کالج اور طالب علموں پر گہرا‘ اَثر رہا اُور آج بھی زائل نہیں ہوا۔ تعلیم کے علاوہ دیگر بہت سے شعبوں میں اُن کی ’بے لوث خدمات‘ کا اعتراف کیا گیا ہے وہ ایک غیرمعمولی تقریب رہی جس میں گورنر خیبرپختونخوا‘ اقبال ظفر جھگڑا نے بھی اظہار خیال کیا۔پروفیسر سیّد ضیاء القمر سے علم تحصیل کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد اشکبار آنکھوں سے خراج تحسین پیش کرنے کے لئے مال روڈ کے کنارے ایڈورڈز کالج میں جمع ہوئی اور یقیناًکالج کے سبزہ زاروں اور راہداریوں سے گزرتے ہوئے سبھی کی آنکھیں اُس خراماں خراماں چلتی پھرتی ہنستی مسکراتی اور ہمیشہ خوشگوار موڈ میں تہنیتی جملوں سے استقبال کرنے والی شخصیت کو ڈھونڈ رہی تھیں جو ’ایڈورڈز کالج اور پشاور کے تعلیمی منظرنامے‘ کی ایک طویل عرصے تک شان اُور پہچان رہا۔