بریکنگ نیوز
Home / کالم / ترجیحات بدل رہی ہیں

ترجیحات بدل رہی ہیں

روسی صدر پیوٹن اور ان کے کئی ہم خیال دیگر روسی رہنما امریکہ کے ہاتھوں ویت نام اور پھر افغانستان میں اپنی پٹائی یعنی کہ سابقہ سوویت یونین کی شکست فاش کو بالکل نہیں بھولے وہ ابھی تک اپنے زخم چاٹ رہے ہیں اور سخت کوشش کر رہے ہیں کہ کسی نہ کسی طریقے سے روس کی عظمت رفتہ کو بحال کروائیں اور بین الاقوامی سیاست میں امریکہ کو نیچا دکھائیں اگلے روز سعودی بادشاہ نے بمعہ ایک بھاری بھر کم وفد کے روس کاجو دورہ کیا ہے اسے اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے اس دورے کے دوران سعودی عرب اور روس کے درمیان ایک معاہدے پر بھی دستخط ہوئے جس کے تحت سعودی عرب روس سے جدید ترین جنگی ساز وسامان خریدے گا اولاً تو سعودی بادشاہ کا روس کے دورے پر جانا بذات خود ایک بہت بڑی تبدیلی کی نشانی ہے یہ دورہ اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے اکثر ملک اب امریکہ کے سحر سے باہر نکلنے والے ہیں ثانیاً روس کی ڈپلومیسی نے اب اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا ہے پیوٹن قطعا نہیں چاہتا کہ بین الاقوامی امور میں روس مزید پچھلی سیٹوں پر بیٹھے وہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے کا آرزو مند ہے یہ امریکہ کی بدقسمتی ہے کہ اسے ایک لا ابالی قسم کا صدر نصیب ہوا ہے کہ جو عقل کے بجائے جذبات سے کام لے رہا ہے نہ اس سے اپنی ٹیم خوش ہے اور نہ دیگر ممالک کی قیادت‘ افغانستان میں جو امریکہ کا حشر نشر ہو رہا ہے۔

اس سے ہی آپ اندازہ لگا لیجئے گا کہ امریکہ کی فارن پالیسی میں عقل و فہم دور اندیشی اور فراست کا کس قدر فقدان ہے افغانستان میں امریکہ نے بڑے طمطراق اور شد و مد کیساتھ ایک لاکھ سے زیادہ نفوس پر مشتمل افغانستان نیشنل آرمی بنائی اسے جدید ترین اسلحہ سے لیس کیا اور اس کی مناسب عسکری تربیت کی اسی طرح تقریباً اتنی ہی تعداد میں اس نے افغانستان کے اندر امن و امان قائم رکھنے کے لئے ایک پولیس فورس بھی بنائی لیکن اس کے باوجود افغانستان کا امن عامہ افغانستان کی حکومت سے سنبھالا نہیں جا رہا اشرف غنی کا یہ عالم ہے کہ وہ افغانستان کا صدر تو ہے لیکن آدھے افغانستان کا‘ آدھے سے زیادہ ملک پر اسکا کنٹرول ہے ہی نہیں طالبان کے پاس ایک جذبہ ہے قطع نظر کہ وہ اچھا ہے یابرا ایک مشہور فوجی مقولہ ہے کہ جنگ کے دوران توپ یا بندوق اتنا کام نہیں کرتی کہ جتنا اس کو چلانے والا کام کرتا ہے اگر وہ بڑے دل گردے کا مالک ہے جذبے سے معمو ر ہے تو کامیابی اس کے قدم چومتی ہے بندوق کے چلانے والے کو دلیر ہونا چاہئے بندوق چلانے والا اگر جذبے سے عاری ہو تو پھر اس کا وہی حشر ہوتا ہے جو ویت نام میں امریکی فوجیوں کا 1960ء کی دہائی میں ہوا اور جو آج ان کا افغانستان میں ہو رہا ہے۔

ہمیں ملا عمر کا وہ جملہ یاد آرہا ہے جو انہوں نے 2004ء میں کہا تھاکہ بے شک افغانستان میں فوجی مداخلت کرنے والے فوجیوں کے پاس ہاتھ کی گھڑیاں وافر ہوں گی لیکن ہمارے پاس کافی وقت ہے ہم ایک لامتناہی عرصے تک جنگ جاری رکھ سکتے ہیں تا وقتیکہ کہ ہم ان کو افغانستان کی سرزمین سے اسی طرح باہر نہ نکال دیں کہ جس طرح ہم نے 1980ء کی دہائی میں سوویت فورسز کو نکالا تھا افغانستان اور امریکہ بار بار پاکستان پریہ الزام لگانا بند کرے کہ پاکستان سے دہشتگرد جاجا کر افغانستان کے اندر دہشتگردی کر رہے ہیں پاکستان تو چاہتا ہے کہ ڈیورنڈ لائن ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دی جائے تاکہ یہ روزانہ کی الزام تراشیاں دم توڑ دیں افغانستان اور امریکہ کی بدنیتی کا اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ پاکستان کی اس تجویز کے اسلئے خلاف ہیں کہ اگر بارڈر مینجمنٹ مضبوط ہو گئی تو پھر بھارت کس طرح اس راستے سے اپنے تخریب کار پاکستان بھجوائیگا اس معاملے میں بھارت امریکہ اور افغانستان کی پالیسی ایک ہی ہے ۔