بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / امریکہ کا بھارتی لب و لہجہ

امریکہ کا بھارتی لب و لہجہ

امریکہ نے بھارتی لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے سی پیک سے متعلق بے سروپا بیان داغ دیا ہے جسے چین اور پاکستان نے یکسر مسترد کردیا ہے امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے سینٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ چین کا ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ متنازعہ علاقے سے گزر رہا ہے ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس کو آگاہ کیا ہے کہ اسے اس بات کا یقین ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبہ متنازعہ علاقے سے گزر رہا ہے امریکی سیکرٹری دفاع اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف گزشتہ دنوں سینٹ اور ہاؤس آرمڈ سروسزپینل کے سامنے پیش ہوئے اور پاک افغان خطے کی موجودہ صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی وہ سخت لہجے میں یہ بھی کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں کئی سڑکیں اور گزر گاہیں موجود ہیں ٗتاہم کسی بھی قوم کو ون بیلٹ ون روڈ پر اپنی من مانی نہیں کرنی چاہئے چین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پراجیکٹ کو اقوام متحدہ کی حمایت حاصل ہے یہ منصوبہ کسی کے خلاف ہے نہ ہی اس کا علاقائی تنازعات سے کوئی تعلق ہے پاکستان کا موقف ہے کہ عالمی برادری سی پیک کی بجائے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر توجہ دے سی پیک پراس سے قبل بھارت کے بے بنیاد تحفظات اور خدشات بھی سامنے آ چکے ہیں ۔

امریکہ اس سے قبل اگست میں افغانستان میں بھارت کو کردار دینے کا کہہ چکا ہے جسے پاکستان نے سختی سے مسترد کیا ہے بھارت منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے منفی اور اوچھے ہتھکنڈوں سے دریغ نہیں کر رہا ٗ بدلتے منظر نامے میں اب افغانستان کے ساتھ سی پیک کے معاملے میں بھی امریکہ بھارتی وکالت کر رہا ہے اس وکالت میں وہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھی فراموش کرتا ہے جوبھارت نے سردخانے میں ڈال رکھی ہیں امریکہ اور عالمی برادری کو پاکستان میں اقتصادی راہداری کیلئے سڑکوں کے نقشوں اور پیمائش پر بحث میں پڑنے کی بجائے بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لینا چاہئے اس کے ساتھ افغانستان میں اپنی ناکامیوں کا جائزہ لینا چاہئے جبکہ خود پاکستان کو امریکہ کی جانب سے بھارتی لب و لہجے کا سفارتی سطح پر مؤثر جواب دینے کیلئے حکمت عملی بھی ترتیب دیناہوگی سی پیک سے پاکستان کی معیشت کا استحکام جڑا ہوا ہے اس پراجیکٹ کی تکمیل میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے ہر لیول پر سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔

ڈینگی کا پھیلاؤ

صوبائی دارالحکومت میں ڈینگی وائرس کا پھیلاؤ شہریوں میں خوف اور تشویش کا باعث بنتاجا رہا ہے بخار کے کیس تشخیص ہونے پر ہنگامی حکومتی اقدامات کی روشنی میں لوگ مطمئن تھے کہ وائرس اب مزید نہیں پھیل پائے گا تاہم آئے روز قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع اور بڑی تعداد میں مریضوں کی ہسپتالوں میں آمد اس بات کاپتہ دے رہی ہے کہ اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے یہ درست ہے کہ ذمہ دار اداروں کے وسائل اور افرادی قوت کیلئے بڑی آبادی میں فوری اقدامات ممکن نہیں تاہم اس ہنگامی صورتحال میں دیگر محکموں سے تعاون حاصل کرنا بھی مسئلے کے حل میں معاون ہو سکتا ہے ایک ایسے وقت میں جب بلدیاتی ادارے منتخب قیادت کے زیر انتظام ہیں تو یونین کونسلوں کی سطح پر اقدامات میں شہریوں کو خود شریک کیا جاسکتا ہے حکومت کے پاس رجسٹرڈ درجنوں رضاکار اداروں کو بھی متحرک کیا جاسکتا ہے۔