بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / کریمنل جسٹس سسٹم میں بنیادی تبدیلیوں کیلئے مشاورت

کریمنل جسٹس سسٹم میں بنیادی تبدیلیوں کیلئے مشاورت

پشاور۔ملک سے دہشتگردی کے خاتمہ کے لیے کریمنل جسٹس سسٹم میں بنیادی تبدیلیوں کے لیے وفاقی حکومت نے صوبہ سے مشاورت شروع کردی ہے اس سلسلہ میں انسداد دہشتگردی کے ادارے نیکٹانے باون صفحات پر مشتمل مسودہ تیار کرکے صوبوں کو آگاہ کردیاہے اس میں کریمنل جسٹس سسٹم میں اہم تبدیلیوں کے لیے تجاویز دی گئی ہیں ان کے مطابق آرمزآرڈیننس 1965کے تحت ہونے والے جرائم کو ناقابل ضمانت قراردیاجائے جبکہ ڈی این اے کو ہی ثبوت تسلیم کیاجائے۔

سزا ایکٹ بنایاجائے جس میں مختلف سزاؤں کے زون مقر ر کیے جائیں اسی طرح آزاد پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کے قیام کی تجویز بھی دی گئی ہے دہشتگردی سے متاثرہ افرادکی بحالی کے لیے ری ہیبلیٹیشن ونگ کے قیام جبکہ ٹرائل پراسیس کی مدت کم سے کم کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں نیا پولیس ایکٹ بنانے کی تجویز بھی دی گئی ہے جس کے تحت انوسٹی گیشن ،پولیس سٹیشن ،ایڈمنسٹریشن اوردیگر شعبوں میں تبدیلی کی جانی ہے جس میں یہ ضروری ہوگاکہ تمام ریکارڈ ڈیجیٹل اور الیکٹرانک ہوگا دیگر تجاویزمیں کہاگیاہے کہ صوبائی حکومتیں محکمہ پولیس کے احتسا ب کے لیے پولیس اوورسائٹ کمیٹی تشکیل دیں جن کے ارکان میں ریٹائرڈ ججز ،وکلاء اورسول سوسائٹی کے لوگ شامل ہوں۔

ویب بیسڈ پولیس سٹیشن بھی قائم کیے جائیں ،فیس بک ،ٹوئٹر اور واٹس ایپ کی بہتر انداز میں مانیٹرنگ کی جائے ،جن مقدمات میں خواتین ملوث ہومں ان کے لیے خواتین پراسیکیوٹر جنرل مقر رکی جائیں ،یہ تجویز بھی شامل ہے کہ فوجداری اور سول مقدمات کے لیے عدالتوں کو الگ کیاجائے ضلعی سطح پر محتسب کاتقرر کیاجائے جبکہ ڈسٹرکٹ اورسیشن ججوں کی کارکردگی کوبھی مسلسل مانیٹرکیاجائے ذرائع کے مطابق نیکٹا کو اس حوالہ سے صوبائی حکومتوں کے جواب کاانتظار ہے تاکہ اتفاق رائے سے ترامیم کی جاسکیں ۔