بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / خطرناک بیماریوں کی نشاندہی کا بل خیبر پختونخوا اسمبلی میں پیش

خطرناک بیماریوں کی نشاندہی کا بل خیبر پختونخوا اسمبلی میں پیش

پشاور۔ صوبے میں ڈینگی اور کانگو سمیت دیگر خطرناک اور مہلک بیماریوں کی نشاندہی او ر انہیں واجب الاطلاع قرار دینے کیلئے والدین ٗ خاندان کے سرپرست ٗ دیگر افراد اور سرکاری و نجی تمام اداروں کو پابند بنانے سے متعلق جاری آرڈیننس کو صو با ئی اسمبلی اجلاس میں پیش کر دیا گیاآرڈیننس صوبائی وزیر قانون امتیاز شاہد قریشی نے پیش کیاجس کے تحت خیبر پختونخوا پبلک ہیلتھ سرویلنس اینڈ ریسپانس آرڈیننس 2017ء کے نام سے تیارکردہ قانونی مسودے کے مطابق والدین یا پھر کسی خاندان کے سرپرست کو بھی اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ اگر ان کے بچوں کو کوئی ایسی بیماری ہے جو دوسرے بچوں کو آسانی کیساتھ منتقل ہوتی ہے تووالدین یا سرپرست اپنے بچوں کی بیماری سے متعلق متعلقہ سکول کے پرنسپل، استاد یا مدرسے کے انچارج کو آگاہ کرے گا۔

اس قانون کے تحت سرکاری اور نجی ہسپتال ،ریسٹورنٹس، سکول،مدارس اور نجی وسرکاری لیبارٹریز کو بیماری کی اطلاع کیلئے قانونی طور پابند ہوں گے جبکہ قانون کی خلاف ورزی پر6لاکھ روپے جرمانہ اور3سال قید کی سزا تجویز کی گئی ہے محکمہ صحت کی جانب سے ڈینگی،خسرہ،کانگو،چکن گونیا،پولیو، تشنج اور اس قسم کی خطرناک بیماریوں کی اطلاعات کی فراہمی افراد اور اداروں پر لازمی کردی گئی ہے تاہم اس کے باوجود بھی نجی وسرکاری اداروں میں ان احکامات پر عملد ر آمد نہیں ہورہا تھا جس کیلئے صوبائی حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر قانون سازی کیلئے مسودہ تیار کیا۔

خیبر پختونخوا پبلک ہیلتھ سرویلنس اینڈ ریسپانس کے نام سے تیار کردہ قانونی مسودے کے مطابق ڈینگی اور کانگو سمیت دیگر مہلک اور خطرناک بیماریوں کی نشاندہی کرنے اور ضرورت پڑنے پر محکمہ صحت صوبہ بھر یا پھر کسی مخصوص علاقے میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز اورعالمی ادارہ صحت کی مشاورت سے صحت ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کر سکتی ہے بیماریوں کی نشاندہی اور روک تھام کیلئے صوبائی سطح پر 19رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

کمیٹی کے چیئر پرسن وزیر صحت جبکہ سیکرٹری صحت وائس چیئرمین ہونگے کمیٹی کے دیگر ممبران میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز، ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ داخلہ و قبائیلی امور، ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر، ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے، ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک، ڈائریکٹر انفارمیشن، ڈائریکٹر فوڈ سیفٹی اتھارٹی، ڈائریکٹر جنرل انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی، ڈائریکٹر جنرل لوکل گورنمنٹ، چیف انجینئر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، ڈائریکٹر ابتدائی و ثانوی تعلیم، چیف ایگزیکٹیو ہیلتھ کئیر کمیشن، صوبائی کوآرڈنیٹر ایمرجنسی آپریشن سنٹر، سول ایوی ایشن اتھارٹی کا ایک نمائندہ، آپریشن آفیسر عالمی ادارہ صحت، ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ خیبر میڈیکل یونیورسٹی اور ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ شامل ہونگے۔

بیماریوں کی نشاندہی ، اطلاع اور روک تھام کیلئے صوبائی سطح پر سرویلنس سنٹر قائم کیا جائے گا جبکہ اس کیساتھ ساتھ سرویلنس رپورٹنگ دفتر قائم کیا جائے گا اور اضلاع کی سطح پر بھی ضلعی سرویلنس سنٹرز قائم کئے جائینگے اور ان سنٹرز میں بیماریوں کی نشاندہی اور اطلاع دی جائے گی۔

محکمہ صحت کو بیماریوں کی اطلاعات اور صورتحال کے مطابق ایمرجنسی نافذ کرنے کا اختیار ہوگا اور اسی اختیار کے تحت ہیلتھ کمیٹی کا چیئر مین یا نائب چیئر مین متعلقہ علاقوں میں دستیاب سرکاری مشینری اور افرادی قوت کو بیماریوں اور وباء کے خاتمے کیلئے ہدایات جاری کرسکے گا اور متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ ان احکامات پر عملدرآمد کی پابند ہوگی صوبائی اوراضلاع کی سطح پر قائم کی جانے والی سرویلنس سنٹرز کسی بھی وبائی بیماری سے متعلق حکومت کو معلومات اور اعدادوشمار فراہم کریں گے اور بیماریوں سے نمٹنے کیلئے ایکشن پلان بھی مرتب کریں گے ۔

سرکاری ونجی ہسپتال،تعلیمی ادارے اور نجی وسرکاری شعبے کی لیبارٹریز بیماری سے متعلق اطلاع سرویلنس سنٹرز کوفراہم کرے گی قانون کے تحت متعلقہ افراد کے علاوہ عام فرد بھی ان بیماریوں سے متعلق اطلاع کی حکومت تک رسائی کا پابند ہوگامسودے کے مطابق قانون پر عملدرآمد نہ کرنے والوں کو 6لاکھ روپے جرمانہ اور تین سال قید کی سزا دی جائے گی یہا ں یہ امر قابل ذکر ہے کہ خیبر پختو ن خوا کے گو رنر نے 120دنو ں کیلئے آرڈننیس کے اجرا ء کی منظو ری دی تھی۔