بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / وہ اگر مسلمان ہوتا!

وہ اگر مسلمان ہوتا!

اسکی زندگی تضادات کا مجموعہ تھی وہ کئی گھروں کا مالک تھا مگر ہوٹلوں میں رہتا تھا اسکے اپنے دو چھوٹے جہاز تھے مگر وہ ہمیشہ ایک پرانی منی وین میں گھومتا تھاوہ دولتمند ہونے کے باوجود عام اور بھدہ لباس پہنتا تھا وہ ایک پیشہ ور‘ کامیاب اور خوش قسمت قمار باز تھا مگر جلد باز نہ تھا اسے لاس ویگاس کے عالیشان قمار خانے بہت پسند تھے مگر وہ ایک خاموش اور تنہا زندگی گذارتا تھا اس نے کبھی فیس بک اور ٹوئٹر استعمال نہ کیا تھا مگر وہ برسوں تک ہر روزگھنٹوں ویڈیو پوکر مشینوں کو دیکھتا رہتا تھا وہ کم گو تھا‘ کسی نے اسے کبھی غصہ کرتے ہوئے نہ دیکھا تھا مگر چند روز پہلے اس نے ایک ہوٹل کی بتیسویں منزل پر واقع اپنے کمرے سے نو منٹ میں ہزاروں گولیاں چلا کر انسٹھ افراد ہلاک اور پانچ سو ستائیس زخمی کر دےئے اتوار کی رات دس بج کر پانچ منٹ پرMandalay Bay Resort And Casino کی سر بفلک عمارت سے پانچ سو گز دور بائیس ہزار سے زیادہ لوگ آؤٹ ڈور کنٹری میوزک فیسٹیول سے لطف اندوز ہو رہے تھے سینکڑوں تماشائی مسحور کن موسیقی کی دھنوں پر رقص کناں تھے ٹھیک اسی وقت چونسٹھ سالہ Stephen Paddock نے اپنے لگژری سویٹ کی کھڑکی کا شیشہ توڑا اور ٹرائی پاڈ پر لگی سیمی آٹومیٹکAR-15 رائفل سے دھڑا دھڑ نیچے بیٹھے ہوئے ہجوم پر گولیاں برسانی شروع کر دیں نو منٹ بعد جب سکیورٹی گارڈ نے اسکے دروازے پر دستک دی تو اس نے سر میں ہینڈ گن کی گولی داغ کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیالاس ویگاس میٹروپولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ کے شیرف جوزف لمبارڈو نے ایک طویل پریس کانفرنس میں اخبار نویسوں کو بتایا کہ اس جنونی قاتل کے کمرے سے سترہ بندوقیں برآمد ہوئیں اسکی گاڑی میں پچاس پاؤنڈ کے لگ بھگ امونیم نائٹریٹ جو بم بنانے کیلئے استعمال ہوتا ہے بھی ملا‘ جائے واردات سے اسی میل دور Mesquite ٹاؤن میں اسکے گھر سے اٹھارہ اسالٹ رائفلیں بھی ملیں سٹیفن پیڈاک اپنے پیچھے جو ان گنت سوالات چھوڑ گیا ہے ۔

ان پر پولیس ‘ خفیہ ایجنسیوں اور جاسوس اداروں کے ماہرین ذرائع ابلاغ پر بحث مباحثہ کر رہے ہیں سٹیفن کے گھر سے اتنی بڑی تعداد میں ملنے والا آتشیں اسلحہ کئی لوگوں کیلئے باعث حیرانگی ہے مگر اس خطرناک اسلحے کی تعداد سے زیادہ بات چیت اس سوال پر ہو رہی ہے کہ اس خونخوار قاتل نے ایک سیمی آٹومیٹک رائفل کو آٹومیٹک رائفل میں کیسے تبدیل کیا اسکے جواب میں کہا جا رہا ہے کہ اسلحے کی بعض دکانوں سے ایسی Gun Conversion Kitملتی ہے جو سیمی آٹومیٹک رائفل کو گولیوں کی بوچھاڑ کرنے والی بندوق میں تبدیل کر دیتی ہے اس آلے کے لگا دینے کے بعد ہر گولی چلانے سے پہلے لبلبی نہیں دبانا پڑتی بلکہ ایک ہی مرتبہ ٹرگر کھینچ کر سینکڑوں راؤنڈ چلائے جا سکتے ہیں اس کل پرزے کو Bump Stock کہا جاتا ہے ری پبلکن پارٹی جو اسلحہ ساز کمپنیوں سے اربوں ڈالر کا چندہ لیتی ہے نے ہمیشہ اس قسم کے خوفناک آتشیں پرزوں کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کی مخالفت کی ہے امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد گھروں میں اسلحہ رکھنا ضروری سمجھتی ہے انکے آئین کی دوسری ترمیم میں لکھا ہے The right of the people to keep and bear arms, shall not be infringed یعنی لوگوں کے اسلحہ رکھنے اور اسے ساتھ لیکر چلنے کے حق پر پابندی نہیں لگائی جائیگی اس آئینی تحفظ کا امریکیوں نے اس حد تک فائدہ اٹھایا ہے کہ انکے گھروں میں کسی بھی دوسرے مغربی ملک کے لوگوں سے کئی گنا زیادہ اسلحہ ملتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق گذشتہ پچیس برس میں امریکیوں نے اپنے گھروں میں پہلے سے موجود اسلحے میں اسی ملین بندوقوں کا اضافہ کیا ہے اسلحے کی اس بہتات کی وجہ سے یہاں ہر سال بارہ ہزار افراد گولیوں سے چھلنی کر دےئے جاتے ہیںآئے روز کہیں نہ کہیں کوئی ذہنی مریض قتل عام کر دیتا ہے اسکے بعد میڈیا آتشیں اسلحے پر پابندیاں لگانے کا پر زور مطالبہ کرتا ہے مگر منتخب نمائندوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی یوں مہلک اسلحے کے شوقین اپنے ذخیرے میں دھڑا دھڑ اضافہ کرتے رہتے ہیں اتوار کی رات لاس ویگاس میں ہونے والے قتل عام کے بعد امریکہ میں رہنے والے پاکستانی اس سوال پرخیال آرائی کر رہے ہیں کہ یہ خونخوار قاتل اگر مسلمان ہوتا تو پھر امریکیوں کا رد عمل کیا ہوتا مجھے جب اتوار کی رات اس واردات کا پتہ چلا تو میرا بے ساختہ سوال یہی تھا کہ یہ خونریزی کسی مسلمان نے تو نہیں کی مجھے یہ اطلاع دینے والے امریکی نے کہا کہ تم شکر کرو یہ پاگل مسلمان نہ تھا یہ شکر امریکہ میں رہنے والے لاکھوں مسلمان کر رہے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ وہ یہ غورو فکر بھی کر رہے ہیں کہ قاتل اگر مسلمان ہوتا تو کیا ہوتا ان ہم وطنوں کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ عرب ممالک کے بارے میں اتھارٹی سمجھے جانے والے ممتاز امریکی کالم نگار ٹام فریڈمین نے چار اکتوبر کے نیویارک ٹائمز میں اس موضوع پر ایک فکر انگیز کالم باندھا ہے If only Stephen Paddock had been a Muslim کے عنوان سے فریڈمین نے لکھا ہے’’ سٹیفن نے اگر گولیاں چلانے سے پہلے خدا کی برتری کا اعتراف کیا ہوتا‘وہ اگر ISIS کا ممبر ہوتا ‘ اگر ہمارے ہاتھ اسکی ایک ایسی تصویر آجاتی جس میں اس نے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے میں بندوق اٹھائی ہوتی تو کوئی بھی ہمیں یہ نہ کہتا کہ اس قتل عام کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے اس صورت میں نو گیارہ کے بعد ہونیوالی اس بد ترین ہلاکت خیزی کے بارے میں کانگرس نے ایک مشترکہ اجلاس بلا لیا ہوتا ‘ اب تک ڈونلڈ ٹرمپ کئی ٹویٹ کر چکا ہوتا کہ I told you so جیسا کہ وہ آجکل یورپ میں ہونے والے ہردھماکے کے بعد کرتا ہے’’ فریڈ مین لکھتا ہے ’’

اس صورت میں ڈونلڈ ٹرمپ اس مسئلے کو سیاسی رنگ دینے میں ایک منٹ کی تاخیر بھی نہ کرتا ’ان حالات میں ایک نیا کمیشن بنانے کا شوروغوغا برپا ہو جاتا اور یہ مطالبہ کیا جاتا کہ ایسے سخت ترین قوانین بنائے جائیں کہ یہ جرات پھر کوئی نہ کر سکے ’ وہ اگر مسلمان ہوتا تو ہم اس ملک کے خلاف پابندیاں لگانے اور سخت ترین کاروائی کا مطالبہ کرتے جس سے اسکا تعلق ہوتااسکی Country of origin کے بارے میں ایک ہنگامہ برپا ہوتا ‘‘ کالم نگار نے سوال کیا ہے کہ But what happens when the country of origin is us? یعنی اسکا پیدائشی ملک اگر امریکہ ہے تو پھر کیاہو گا ‘ فریڈمین نے اسکا جواب یہ دیا ہے کہ پھر کچھ بھی نہ ہو گاکیونکہ گن لابی نے ہمارے منتخب نمائندوں کو خریدا ہوا ہے‘‘ اس نے لکھا ہے کہ سٹیفن پیڈاک ایک امریکن ہے اسلئے ری پبلکن پارٹی نے آسمان سر پر اٹھایا ہوا ہے کہ لوگوں کے اسلحہ رکھنے کے حق پر کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی فریڈمین نے باقی ماندہ کالم میں اسلحہ سازوں اور عوامی نمائندوں کی بے حسی اور ضمیر فروشی پر سخت احتجاج کیا ہے امریکی دانشور نے ارادی یا غیر ارادی طور پر مسلمانوں کے جذبات کی جو ترجمانی کی ہے اس میں اس شعر کا اضافہ بے محل نہ ہو گا۔
رات بھر اک چاپ سی پھرتی رہی چاروں طرف
جان لیوا خوف تھا لیکن ہواکچھ بھی نہیں