بریکنگ نیوز
Home / کالم / خطرات در خطرات : نئے چیلنجز

خطرات در خطرات : نئے چیلنجز

سی پیک کیخلاف سازشوں کا شمار ممکن نہیں۔ حالیہ اضافہ امریکی وزیر دفاع کا بیان ہے جو چین پر ’’ون بیلٹ‘ ون روڈ منصوبے کے ذریعے دنیا پر اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ سی پیک متنازعہ علاقے سے گزرتا ہے جس کی وجہ سے امریکہ اصولی طور پر اس کی مخالفت کرتا ہے۔ جبکہ ون بیلٹ ون روڈ کے ذریعے دنیا پر اجارہ داری قائم کرنے کے امریکی الزام کو مسترد کرتے ہوئے بیجنگ کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک اہم بین الاقوامی عوامی منصوبہ ہے‘ جو متعلقہ ممالک کیساتھ چین کے تعاون کا اہم اور جامع ترقیاتی پلیٹ فارم ہے جبکہ ایک سو سے زیادہ ممالک اور بین الاقوامی تنظیمیں اسکا حصہ ہیں اور اس کی بھرپور حمایت کررہی ہیں۔ اقتصادی اور اسلحہ سازی میں چین امریکہ کے بڑے حریف کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ خطے میں چین کے مقابلے کے لئے امریکہ بھارت کو تھپکی دے کر کھڑا کر رہا ہے۔ بھارت کے اپنے بھی خطے میں مفادات اور توسیع پسندانہ عزائم ہیں۔پاکستان اس کیلئے ناقابل برداشت ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے سے چین کے جو بھی مقاصد ہیں امریکہ انکو دنیا پر اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش قرار دیتا ہے۔ اب تک اس منصوبے پر چین اربوں ڈالر خرچ کر چکا ہے کیا امریکہ کے اب تحفظات ظاہر کرنے پر چین اپنا یہ منصوبہ بیچ میں ترک کر دیگا؟

پاکستان اس منصوبے میں اپنے بہترین مفادات کے لئے شریک ہوا۔ دیگر ممالک نے بھی اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے اس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا جس میں امریکہ کو دنیا پر چین کی اجارہ داری کی کوشش نظر آ گئی جو ممالک اس منصوبے کا حصہ بن چکے ہیں وہ امریکہ کی باتوں اور دباؤ میں آتے دکھائی نہیں دیتے۔ امریکہ ایسی در فنطنیاں چھوڑنے کے بجائے چین کے عالمی سطح پر اثرورسوخ کا مقابلہ ایسے منصوبوں کے اجرا سے کرنے کی کوشش کرے۔ وزیر داخلہ احسن اقبال نے امریکی وزیر دفاع کے بیان کا تسلی بخش جواب دیا ہے۔ وزیر داخلہ احسن اقبال نے سی پیک پر امریکی وزیر دفاع کا بیان بدنیتی پر مبنی قرار دیدیا۔ احسن اقبال نے کہا ہے کہ امریکہ سی پیک سے خائف ہے امریکی وزیر دفاع کے بیان سے بہت کچھ کھل رہا ہے۔ امریکہ خاص ایجنڈے پر کاربند ہو کر اس منصوبے پر اثرانداز ہونا چاہتا ہے‘ امریکہ کو پریشان ہونے کی بجائے معاشی امکانات کا خیرمقدم کرنا چاہئے‘سی پیک منصوبہ جنگ کی تباہ کاریوں اور دہشت گردی کے آسیب کے خلاف ہے۔ علاقائی ممالک سی پیک کا حصہ بن کر معاشی فوائد حاصل کر سکتے ہیں‘معاشی سرگرمیوں سے شدت پسندی کا خاتمہ ہو گا ہمیں دیکھنا چاہئے کہ سی پیک منصوبہ دنیا کو ہضم کیوں نہیں ہو رہا؟یہ منصوبہ اسلئے ہضم نہیں ہو رہا کہ یہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا عظیم ترین منصوبہ ہے۔ بھارت اس کیخلاف شروع دن سے زہر اگل رہا ہے۔ اس نے اس منصوبے کے خلاف جو بن پڑتا تھا کیا۔

اسے رکوانے کی ہر ممکن کوشش اور سازش کی۔ صدر ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد امریکہ کی توپوں کا رخ زیادہ ہی پاکستان کی طرف ہو گیا۔ ٹرمپ نے تڑی لگائی تو امریکی وزراء کی ٹون بھی بدل گئی۔ افغانستان میں امریکہ کا فوجی کمانڈر بھی بگڑنے لگا۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے امریکہ کے دورے کے موقع پر پاکستان کا مؤقف دو ٹوک انداز میں باور کرا دیا مگر امریکی الزامات اور دھمکیوں کا سلسلہ رکنے میں نہیں آ رہا۔ اب پاکستان کو مزید دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔امریکی صدر ٹرمپ اپنے وزراء کو ڈو مور کا سخت پیغام دے کر پاکستان بھیجیں گے۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن رواں ماہ کے آخر میں پاکستان کا دورہ کریں گے جس کے بعد وزیر دفاع جم میٹس بھی جائیں گے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے دونوں اعلیٰ حکام پاکستان کو مسلح جہادی تنظیموں کی حمایت ختم کرنیکا سخت پیغام دیں گے۔ رواں ہفتے امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے امریکی کانگریس کو بتایا تھا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کیساتھ کام کرنے کے لئے ایک کوشش اور کریں گے جس میں ناکامی کی صورت میں صدر ٹرمپ ضروری اقدامات کرنے کے لئے تیار ہیں۔ برسراقتدار آنے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے اس بات کا اشارہ دیا کہ پاکستان کے ساتھ امریکہ کی مایوسی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اب کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا۔ اگست میں انہوں نے پاکستان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام بھی لگایا۔ٹرمپ نے برسراقتدار آنے کے بعد پاکستان کے لئے جو مائنڈ سیٹ بنا لیا تھا‘ حالات سے پوری طرح آگاہی کے بعد بھی اس میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ وہ پاکستان کو سبق سکھانے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں۔

ٹیلرسن اور میٹس واشنگٹن میں بیٹھ کر پاکستان پر دھاڑیں یا پاکستان آکر کوئی درس دیں‘ اس سے حقیقت اور حقائق تبدیل نہیں ہو سکتے۔ پاکستان نے اپنے قول و فعل سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف برسرپیکار ہے جس میں ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہو چکا ہے وہ کیونکر انکی مدد کرے گا اور ان کو پناہ دیگا۔ امریکہ بتائے کہ اس نے پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی کی اور پاکستان نے ان ٹھکانوں کو اڑا کر نہیں رکھ دیا۔ امریکہ کے وزراء پاکستان آ رہے ہیں۔ پاکستان نے نائب امریکی وزیر خارجہ کی میزبانی سے انکار کردیا تھا۔ ابھی تک پاکستان نے امریکی وزیر خارجہ و وزیر دفاع کے پاکستان میں پرجوش اور والہانہ استقبال کا فیصلہ کیا ہے یا نہیں کیا تاہم ایک پروٹوکول ضرور جاری ہو چکا ہے کہ امریکہ کے عہدیداروں کا مکالمہ ان کے پاکستان میں ہم منصبوں ہی سے ہوگا۔ امریکی وزیر دفاع نے سی پیک کے متنازعہ علاقے سے گزرنے پر اصولی طور پر اس کی مخالفت کی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ امریکہ کو جہاں بھی انسانیت اصول اور اخلاقیات یاد آنی چاہئیں۔ امریکہ نے جس علاقے کو متنازعہ کہا ہے‘ بھارت اسے اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے۔ متنازعہ علاقے میں کیا انسان نہیں بستے؟ کیا ان کے لئے سی پیک سے فائدہ اٹھانا انسانیت کے خلاف کوئی جرم ہے؟ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: نعیم اصغر۔ ترجمہ: ابوالحسن امام)