بریکنگ نیوز
Home / کالم / آؤ دعا کریں

آؤ دعا کریں

دعا ایک ایسا عمل ہے کہ جو بہت سی مصیبتوں کو ٹالتا ہے۔ جب بھی کوئی مصیبت کسی شہر یا گاؤں پر نازل ہو تو دعا کا اہتمام کیا جاتاہے اور اللہ کریم جو اپنے بندوں کی دعائیں سننے والا ہے وہ اپنے بندوں کی مصیبتیں ٹال دیتا ہے۔ ایک عرصے سے ہم ایک اجتماعی مصیبت میں گرفتار ہیں اور یہ مصیبت ایک مچھر کی وجہ سے ہے جسے ڈینگی کا نام دیا گیا ہے‘مچھروں کا جب بھی حملہ ہوتا ہے چاہے وہ ملیریا کے ہوں یا ڈینگی ہو یا کوئی اور بیماری پھیلانے والا مچھر ہو تو حکومتیں اس سے بچاؤ کے لئے خصوصی اہتمام کرتی ہیں اور ان مچھروں کو ختم کرنے کے لئے سپرے کرتی ہیں ۔ ملیریا کے لئے تو ایک مدت تک ایک پورا محکمہ قائم تھا کہ جس کا کام ہی گاؤں گاؤں اور شہر شہر مچھر مار دوائی کا سپرے کرنا تھا اور ساتھ ہی لوگوں کا خون لے کر ٹیسٹ کرنا تھا اگر کسی پر ملیریا کے اثر کا شک بھی ہوتا تو اسے بچاؤ کا مکمل کورس کروایا جاتا اس طرح ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ملک سے ملیریا کا تقریباً خاتمہ ہو گیالیکن اس کے لئے حکومتوں کو مستعد ہونا پڑتا ہے اب جو ڈینگی کا حملہ ہمارے صوبے میں ہوا ہے تو اس کو پہلے ہی حملے میں کنٹرول کرنے کی کوشش کرنا تھی۔ چاہئے تھا کہ صوبے کے ہر قریہ ہر گاؤں اور ہر شہر میں ڈینگی مچھر کے خلاف سپرے کیا جاتا اور اس میں تواتر کا اہتمام ہوتا تو اس بلا سے چھٹکارہ ممکن تھا۔ مگر کیا کیا جائے کہ ہماری صوبائی حکومت کی ترجیحات ذرا مختلف ہیں۔یہاں چونکہ حکومت تحریک انصاف کی ہے جس کا سلوگن نیا پاکستان ہے اس لئے وہ سارا وقت نئے پاکستان کی تعمیر پر ہی صرف کرتے ہیں‘ نئے پاکستان کی ابتدا دھرنے سے ہوتی ہے اس لئے تحریک انصاف ہمیشہ اس موقع کی تلاش میں رہتی ہے کہ کب اور کہاں دھرنا دینا ہے۔

چنانچہ ن لیگ کی حکومت کے خلاف جب بھی ضرورت پیش آئی دھرنا دیا گیا یہاں تک کہ اسلام آباد کو بند کرنے کی بھی پوری کوشش کی گئی اب فاٹا کا معاملہ زیر بحث ہے اس لئے فاٹا کو خیبر پختونخواکا حصہ بنانے کے لئے دھرنے کی تیا ریاں ہو رہی ہیں‘ چنانچہ حکومت کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو ڈینگی سے محفوظ کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے۔ اسی لئے یہ کہا گیا ہے کہ ڈینگی کے مچھر سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ابھی سردیاں آنے ہی والی ہیں اور مچھر کیونکہ سردی برداشت نہیں کر سکتے اس لئے یہ مر جائیں گے اور عوام کی جان ان سے چھوٹ جائے گی۔ بڑا اچھا مشورہ ہے ۔ اسی لئے سارے پشاوریوں کو چاہئے کہ دعا کریں کہ کل کو اللہ تعالیٰ پشاور اور صوبے کے دوسرے علاقوں میں برف باری کا اہتمام فرمائے تاکہ ہمیں ڈینگی سے جلد از جلد نجات مل جائے۔ تاکہ حکومت کو پوری تندہی سے دھرنے کا اہتمام کرنے کا موقع میسر ہو جائے ورنہ جس زور و شور سے ڈینگی لوگوں کو راہی ملک عدم کر رہی ہے شک ہے کہ سردیوں کے شروع ہونے تک اے این پی ‘ مسلم لیگ ن اور جمعیت علماء اسلام کے ووٹوں میں خاصی کمی آ جائے گی ہو سکتا ہے کہ تحریک انصاف کے ووٹ بھی کم ہو جائیں اسلئے دعا کا بہت جلد اہتمام کیا جائے کہ اس ماہ سے پورے صوبے میں برف باری کا سلسلہ شروع کر دے تاکہ ڈینگی کا خاتمہ ہو سکے اور ہماری حکومت فاٹا کو کے پی کے کا حصہ بنانے کے لئے یک سوئی سے دھرنا دے سکے۔ حالانکہ چاہئے تو یہ تھا کہ حکومت پوری تندہی سے ڈینگی پر کنٹرول کے لئے اقدامات کرتی جیسا کہ پنجاب حکومت نے اس مسئلے پر قابو کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے تھے ۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے نہ صرف خود بلکہ پوری انتظامیہ کو متحرک کئے رکھا بلکہ انہوں نے سری لنکا سمیت دیگر ممالک سے بھی ماہرین کو طلب کیا کروڑوں اربوں روپے کا بجٹ مختص کر کے ڈینگی کے پیچھے پڑے رہے بلکہ ہم نے تو یہاں تک دیکھا کہ وہ خود ہاتھ میں سپرے مشین لے کر جگہ جگہ سپرے کرتے رہے اور یہ بھی دیکھا کہ وہ آگاہی مہم میں پمفلٹ بانٹتے رہے تب ہی جا کے تین چار سال میں پنجاب کے اندر ڈینگی پر قابو پا لیاگیا ہماری بدقسمتی ہے کہ یہاں پر صوبائی حکومت کے اقدامات ضرورت سے بہت ہی کم ہیں نہ ہی ہمیں تجربہ ہے اور نہ ہی ہم باہر کے ماہرین کی خدمات سے استفادہ کرنے کا سوچ رہے ہیں ایسے میں اب دعا ہی باقی رہتی ہے۔