بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / بہتر ہوگا کہ……

بہتر ہوگا کہ……

اصولاً ہونا تو یہ چاہئے کہ مملکت کی سیاسی جماعتیں بالخصوص وہ سیاسی جماعتیں جو ملکی یا صوبائی سطح پرجانی مانی جاتی ہیں عوام کو اپنے پروگرام و منشور کی بنیاد پر اپنی جانب متوجہ کریں یعنی ہر جماعت عوام کو یہ بتائے کہ اگرحق رائے دہی کا وزن اسکے پلڑے میں ڈالا جاتا ہے اور اسے صوبائی یا وفاقی سطح پر مسند اقتدار تک رسائی حاصل ہوتی ہے تو وہ ایسا کیا کریگی جو اب تک کے حکمرانوں نے نہیں کیا مثلاًاگر ملک کی معاشی حالت تباہی سے دوچار ہے تووہ کون سا لائحہ عمل ہو گا جسکے تحت ملک کو اربوں ڈالر کے بیرونی اور اندرونی قرضوں سے نجات دلائی جائے گی ، برآمدات اور درآمدات کے باہمی فرق پر کنٹرول اورروپے کی قدر میں اضافے کو ممکن بنایا جائے گا اور بحیثیت مجموعی ملک کو معاشی بحران سے نکال کر معاشی ترقی و خوشحالی کے راستے پر ڈالا جائے گا ‘اسی طرح اگر ملک کی موجودہ خارجہ پالیسی عوامی مفادات کے تابع نہیں ہے تو اس کی وجوہات کا خاتمہ کیسے ہو گا‘ اس پالیسی کو قومی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے کون کون سے اقدامات اٹھائے جائیں گے اور وہ اقدامات کس بنیاد پر قابل عمل قرار دیئے جا سکتے ہیں‘علاوہ ازیں اگر بدعنوانی ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے اور احتساب سے متعلق موجودہ ادارے کرپشن کے خاتمے میں ناکام ہیں توایسا کون سا روڈ میپ ہوگا جو ملک کو کرپشن فری ریاست بنانے کے راستے پر گامزن کرکے نہ صرف آئندہ کیلئے بدعنوانی کا راستہ روکے گا بلکہ قومی دولت کے لٹیروں کو نشان عبرت بھی بنائے گا۔

اگر قومی اتفاق رائے کے حامل نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا تو کس حکمت عملی کے تحت نیشنل ایکشن پلان کی تمام شقوں پر یکساں طور پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائیگا اور وہ بیانیہ کیا ہوگاجس کے سائے میں ساری قوم کا نظریاتی اتحاد ممکن ہو سکے گا‘ایسے اور بھی متعدد چیلنجز ہیں جن سے مقابلے اور جنہیں زیر کرنے کیلئے واضح اور قابل عمل سیاسی پروگرام کا سامنے آنا ضروری ہے،تو بات یہ ہورہی تھی اصولاً ہونا تو یہ چاہئے کہ مملکت کی سیاسی جماعتیں بالخصوص وہ سیاسی جماعتیں جو ملکی یا صوبائی سطح پرجانی مانی جاتی ہیں عوام کو اپنے پروگرام و منشور کی بنیاد پر اپنی جانب متوجہ کریں لیکن ایسا نہیں ہو رہا اور اس کے بجائے ایک دقیانوسی قسم کا طرز سیاست دیکھنے میں آرہا ہے جسکے تحت سیاسی جماعتیں مخالف سیاسی قوتوں پرلعن طعن اور سچے جھوٹے الزامات کے سہارے مخالف کو پچھاڑنے اور اپنے لئے سیاسی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں ،سوال یہ ہے کہ اس طرز عمل کے تناظر میں عوام کا رد عمل کیا ہونا چاہئے؟ملک جن مسائل و مشکلات سے دوچار ہے ان کا تقاضا ہے کہ مملکت کے عوام آنیوالے عام انتخابات کو غیر اہم یا معمول کی کاروائی کی حیثیت دینے کے بجائے ان عام انتخابات میں حق رائے دہی کے استعمال کو اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کا موقع جانیں ‘اس حوالے سے ضروری ہے کہ جس طرح سیاسی جماعتوں نے آنے والے عام انتخابات کیلئے تیاریاں شروع کر رکھی ہیں عوام بھی ان انتخابات میں اپنے کردار سے متعلق ابھی سے پیش بندی کریں‘ا س سلسلے میں عوام کیلئے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں انتخابی امیدواروں کے تعین کیلئے کیا طریق کار اختیار کئے ہوئے ہیں‘کون کون سی جماعت کس کس بنیاد پر پارٹی ٹکٹس دے رہی ہے یا دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

، کس کس جماعت میں فیصلہ سازی کا اختیار اعلیٰ تعلیم یافتہ رہنماؤں کے ہاتھ میں ہے اور اس اختیار کوکس حد تک جمہوری تقاضوں کے تحت استعمال میں لائے جانے کا امکان ہے‘اب تک کی کارکردگی اور مستقبل کے پروگرام و منشور کی بنیاد پر کون سی جماعت کہاں کھڑی ہے اس حوالے سے یہ جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ کونسی سیاسی جماعت یا جماعتیں ایسی ہیں جنہوں نے اپنے طور پر مختلف شعبوں کے ماہرین کے تھنک ٹینکس تشکیل دےئے ہیں تاکہ مملکت کو درپیش مسائل کے پائیدار حل تلاش کرنے کیلئے پالیسیوں کا تعین کیا جائے یا پھر اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کی کوئی اور تیاری نظر آرہی ہے یا نہیں‘یہ اس لئے ضروری ہے کہ اگر سیاسی جماعتیں اپنے پروگرام و منشور کے مطابق اصلاحات کیلئے ماہرین کی آراء پر مبنی پالیسیاں تیار نہیں کرتیں اور ان میں سے کسی جماعت کو صوبائی یا وفاقی حکومت مل جاتی ہے تو اس کے پاس ملک کے موجودہ نظام کے تابع کام کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا اور افسر شاہی کے چنگل میں پھنسے ہوئے اس نظام کے تحت کام کرتے ہوئے اصلاح احوال کی جانب تیز تر پیش قدمی نا ممکن ہے۔