بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / ڈینگی: اُلٹی تدبیریں!

ڈینگی: اُلٹی تدبیریں!

رواں برس پشاور میں ڈینگی سے ہونیوالی ہلاکتوں کی تعداد نفسیاتی حد یعنی ’پچاس اموات‘ سے تجاوز کر گئی ہے‘ جبکہ سینکڑوں زیرعلاج مریضوں میں ہر روز اضافہ اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ ڈینگی پھیلانے والے مچھر کی افزائش روکنے کی ہزارہا کوششیں کروڑ ہا روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی کامیاب نہیں ہو رہیں۔ یہ نہایت ہی تشویشناک صورتحال ہے جس میں بہت بھی احتیاط سے کام لیا جائے اور ہر لفظ سوچ سمجھ اور پھونک پھونک کر لکھا جائے تو کوئی اُمید افزاء ایسی بات نہیں کہی جا سکتی جس سے پشاور کے متاثرہ شہری و دیہی علاقوں میں رہنے والوں کے لئے کوئی نوید چھپی ہو۔ صوبائی حکومت کو پشاور میں موسم گرما کی شدت کم ہونے کا انتظار ہے جس سے ڈینگی مچھر کی افزائش خودبخود کم ہو جائے گی لیکن گرمی کی لہر بھی کم نہیں ہو رہی! یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہر تدبیر الٹی ہو رہی ہے اور یہ بیماری آخر کام تمام کرکے ہی چھوڑے گی! اہل پشاور کے لئے اب دعا اور موسم کی تبدیلی کے سواء کوئی دوسری ایسی صورت نہیں رہی‘ جس میں انہیں ڈینگی سے بچاؤ کی کارگر صورت دکھائی دیتی ہو۔ محکمہ صحت خیبرپختونخوا کے حکام ڈینگی کی موجودہ وباء سے زیادہ آئندہ سال فروری سے شروع ہونیوالے موسم گرما کے بارے میں فکرمند ہیں اور ایسی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جس سے ڈینگی کی افزائش اور پھیلنے کے امکانات کم کئے جا سکیں۔ اِس سلسلے میں ایک تحریری لائحہ عمل بھی تشکیل دے دیا گیا ہے‘ جس کے مطابق ضلعی اور صوبائی سطح پر انسداد ڈینگی مہمات زیادہ فعال اور بڑے پیمانے پر کرنے کے انتظامات پیشگی کر لئے جائیں گے اور اِس سلسلے میں ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتالوں سے مسلسل رابطہ رکھا جائے گا‘ جہاں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق انسداد ڈینگی کی ادویات و ماہرین کو فوری بھیجا جا سکے گا۔ صوبائی حکومت ڈینگی ریسپانس یونٹ کو بھی جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے ذریعے مستقبل میں اِس وباء سے نمٹنے کی مہارت‘ آلات اور افرادی قوت سے استفادہ کیا جائے گا۔

اس سلسلے میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی تکنیکی و فنی امداد اور طبی و معاون طبی عملے کی تربیت سے متعلق امور بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کر لیاگیا ہے درحقیقت خیبر پختونخوا حکومت وفاقی اور پنجاب حکومت کی جانب سے ملنے والے طعنوں سے پریشان ہے‘ کیونکہ مسلم لیگ کی جانب سے تحریک انصاف کو الزام دیا جاتا ہے کہ یہ ’’ایک مچھر سے نہیں نمٹ سکے!‘‘ڈینگی کیخلاف جس زور و شور سے صوبائی حکومت نے ردعمل کا مظاہرہ کیا‘ اسے دیکھتے ہوئے کم سے کم یہ بات تو ضرور کہی جا سکتی ہے کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھی ہوئی لیکن اب تک کی کوششوں کے اگر خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہو رہے اور سینکڑوں کی تعداد میں صحت مند افراد اگر ڈینگی جرثومے سے متاثر ہو رہے ہیں تو حکومتی کوششوں کو ناکام بنانیوالوں کے خلاف بھی کاروائی ہونی چاہئے اندرون شہر پشاور کی مرکزی یونین کونسل گنج کے محلہ دفتر بنداں‘ تیلیان‘ ہودا‘ شیخ الاسلام اور ملحقہ رہائشی و تجارتی علاقوں میں رہنے والوں کا اس بارے تجربہ و تجزیہ خاصہ دلچسپ اور قابل ذکر ہے! آج تک ہم نے یہ تو سنا ہے کہ انسانوں کی آنکھوں میں دھول جھونکی جاتی ہے لیکن مچھروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے والوں نے ایسی ادویات کا چھڑکاؤ کیا جس سے نہ تو مکھی مچھروں کی تعداد میں کمی آئی اور نہ ہی ناخوشگوار بدبو پھیلی کہ جس سے اہل علاقہ کو احساس ہواکہ ان کے ہاں ادویات کا چھڑکاؤ ہوا ہے۔

اگر اندرون شہر کی یونین کونسلوں کا یہ حال ہے تو مضافاتی اور دیہی علاقوں پر مشتمل یونین کونسلوں کی صورتحال قطعی مختلف نہیں ہوگی۔ ایک عینی شاہد کے بقول جن ’حشرات الارض‘ پر دودھیا پانی پڑتا وہ نہ صرف زندہ رہتے بلکہ پہلے سے زیادہ متحرک بھی دکھائی دیئے گویا ’طاقتور بنانے کے لئے ٹانک‘ دیا جا رہا ہو! اِس سلسلے میں ضلع ناظم ارباب عاصم اور ٹاؤن ون ناظم زاہد ندیم سے درخواست ہے کہ وہ اِس معاملے کی تحقیقات کریں اور ’یونین کونسل گنج‘ میں مچھر مار ادویات کا اسپرے دوبارہ سے کرنے کے احکامات جاری کریں گورگٹھڑی (تحصیل) کے احاطے میں سبزہ زاروں کو بھی خصوصی توجہ دی جائے جہاں پانی کے دو تالاب موجود ہیں۔