بریکنگ نیوز
Home / کالم / امریکہ نہیں چین کو خوش رکھیئے

امریکہ نہیں چین کو خوش رکھیئے

لکھنا تو آج ہم کسی اور موضو ع پر چاہتے تھے لیکن پاکستان میں متعین چینی سفیر کے ایک جملے نے ہماری سوچ کا رخ چین کی طرف کر دیا پاکستان میں چین کے سبکدوش ہونے والے سفیر سن وائی دونگ نے بھری مجلس میں اپنی فٹنس اور سمارٹ ہونے کا راز کھولتے ہوئے کیا خوبصورت بات کہہ دی کہ صرف75 فیصد کھانا کھاتا ہوں بلا ضرورت کھانے سے پرہیز کرتا ہوں انہوں نے یہ بھی کہا کہ آدمی قلیل الخوراکی کی عادت اپنا لے تو اسے واک کی بھی ضرورت نہیں ہوتی کھانا زندگی کیلئے کھانا چاہئے زندگی کھانے کیلئے نہیں ہونی چاہئے اپنے ہاں تو الٹی گنگا بہتی ہے شادی کی محفلوں میں آپ چلے جائیں سیاسی پارٹیوں کی جانب سے دیئے گئے ظہرانوں اور عشائیوں میں شمولیت اختیار کر لیجئے وہاں شرکاء محفل کھانے کی میز پر ایسے ؁ٹوٹتے ہیں کہ جیسے بس وہ زندگی کا آخری کھانا کھا رہے ہو ں بسیار خوری میں ہم یدطولےٰ رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم میں ہر چھوتھا شخص یا شوگر کا مریض ہے اور یا پھر بلڈ پریشر کا اور پھر وہ عارضہ قلب میں مبتلا ہے بات کہیں سے شروع ہوئی اور کہاں نکل گئی چین کی باتیں کرنے اور اس کے بارے میں لکھنے سے جی خوش ہوتا ہے کیونکہ پاکستان کو چین کی شکل میں قدرت نے ایک ایسا ہمسایہ ملک عطا کیا ہے کہ جس کی ہر حکومت اور عوام نے پاکستانیوں سے ہمیشہ محبت کی ہے ہمارے اکثر بلکہ تقریباً تمام حکمران امریکہ نوازثابت ہوئے ہیں لیکن چینی قیادت نے کبھی بھی پاکستان سے دل میلا نہیں کیا اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ جانتی ہے کہ پاکستان کے عام آدمی کا دل ہمیشہ چینیوں کے ساتھ دھڑکا ہے وہ یہ بھی جانتی ہے کہ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد دل سے امریکہ کے ساتھ محبت نہیں کرتی اور یہ جو ہمارے حکمران ہر وقت امریکہ کی خوشامد کرتے آئے ہیں۔

ان کا یہ طرز عمل پاکستان کے عوام کے دلوں اور جذبات کی ترجمانی نہیں کرتا 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں جب ائیر مارشل اصغر خان چین گئے تو چواین لائی نے انہیں کہہ دیا کہ ہماری پوری ائیر فورس پاکستان کیلئے حاضر ہے لیکن بقول کسے چونکہ اس وقت کی پاکستانی قیادت بھی چونکہ حسب معمول امریکہ نواز تھی وہ چین کے ساتھ کوئی فوجی معاہدہ کرکے اپنے امریکی ان داتاؤں کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی لہٰذا اس نے چو این لائی کی کھلی پیشکش کو درخور اعتناء نہ سمجھا لیکن چینی حکومت اس کو پی گئی اور پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات نہیں بگاڑے یہ درست ہے کہ سی پیک سے سب سے زیادہ فائدہ چین کو ہو گا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس سے ہماری معیشت کی بھی کایا پلٹ جائے گی آج بھارت‘ امریکہ کی ضرورت بن چکا ہے اور چونکہ بھارت نے نہ کل چاہا تھا اور نہ وہ آج چاہتا ہے کہ پاکستان کسی طور پر بھی معاشی لحاظ سے مضبوط ہو وہ سی پیک کی مخالفت کر رہا ہے اور اب اسکی ہاں میں امریکہ نے بھی زور سے ہاں ملانا شروع کر دیا ہے کل تک پاکستان ‘ امریکہ کی رگ جان سے بھی زیادہ اس کے قریب تھا کہ وہ اسکے ذریعے افغانستان سے سوویت یونین کی افواج کو نکالنا چاہتا تھا ۔

کل تک تو امریکہ ہمیں اسلئے گھاس ڈالتا تھا کہ سوویت یونین کیخلاف سرد جنگ Cold war میں ہم اس کے فرنٹ سٹیٹ تھے اور آج ہم امریکہ کی نظر میں اس لئے برے ہو گئے ہیں کہ ہم نے چین کے ساتھ سی پیک جیسا عظیم معاہدہ کر لیا ہے اس چین کے ساتھ کہ جس کو آج امریکہ اسی طرح توڑنے کے درپے ہے کہ جس طرح اس نے سوویت یونین کو توڑا تھا ہماری قیادت کو اب ذرا غیرت کا مظاہرہ کرنا چاہئے اسے اب امریکہ کے کسی نئے جھانسے یا دباؤ میں بالکل نہیں آنا چاہئے اور چین کیساتھ سی پیک کا جو معاہدہ ہے اسے فوراً سے پیشتر پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہئے اگر ہم نے امریکہ کی خوشنودی کی خاطر چین کو خفا کر دیا تو پھر اس دنیا میں ہم بالکل سیاسی طور پر تنہا رہ جائیں گے ہمارے حکمرانوں کو بھی اب ہمت کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔