بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / امریکہ پر انحصار کے دن ختم

امریکہ پر انحصار کے دن ختم


وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان کے امریکہ پرانحصار کے دن ختم ہو چکے ہیں دنیا کو دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو ماننا چاہئے پاکستان سے زیادہ کوئی بھی افغانستان میں قیام امن کا خواہشمند نہیں عرب ٹی وی کو اپنے انٹرویو میں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کو ہمسایوں کی جانب سے چیلنجز کے علاوہ دہشت گردی کا بھی سامنا ہے وزیراعظم کا نجی ٹی وی کو ایک انٹرویو میں یہ بھی کہنا ہے کہ بھارتی سرکارکی مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سنجیدگی تک مذاکرات کا کوئی امکان نہیں‘ پاکستان واضح کر رہا ہے کہ وہ افغانستان میں قیام امن کا سب سے زیادہ خواہشمند ہے یہ بھی کلیئر کیا جا رہا ہے کہ بھارت کیساتھ مذاکرات کے لئے مسئلہ کشمیر کے حل میں سنجیدگی کی ضرورت ہے ‘ ۔

ایسے میں امریکہ کی جانب سے افغانستان میں ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر گرانا صرف اپنے چہرے کو بچانے کے مترادف ہے دوسری جانب یہی کوشش بھارت بھی کر رہا ہے کہ کسی طرح کشمیر پر عالمی ادارے کی قرار دادوں کو سردخانے میں رکھے اور خودارادیت کا مطالبہ کرنے والوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جانے پر کوئی اس جانب متوجہ ہی نہ ہوپاکستان کی خطے میں امن کے لئے کاوشیں سب کے سامنے ہیں خود پاکستان نے اس خواہش میں قیمتی انسانی جانیں قربان کی ہیں تو دوسری طرف اکانومی کا نقصان بھی برداشت کر رہا ہے عالمی بینک کا کہنا ہے کہ 2018ء میں پاکستان کی معیشت کو درپیش چیلنجز قابل تشویش ہیں بینک کا کہنا ہے کہ جار ی خسارہ ادائیگیوں کا توازن خراب کر رہا ہے جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ جانے سے مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہو سکتا ہے اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے بینک برآمدات میں اضافے کو ناگزیر قرار دیتا ہے تاکہ ادائیگیوں کا توازن بہتر کیا جاسکے‘ پاکستان کا یہ کہنا ایک آزاد اور خود مختار ریاست کا حق ہے کہ ہمار ے امریکہ پر انحصار کے دن ختم ہو چکے ہیں تاہم اب ضرورت خود انحصاری کو مزید آگے بڑھانے کے لئے معاشی استحکام کی ہے جس کیلئے ٹھوس اور مربوط پلاننگ کرنا ہوگی‘ ضرورت ایک موثر خارجہ حکمت عملی کی ہے تاکہ دنیا پر پاکستان کا نکتہ نظر واضح کیا جاسکے اور پاکستان مخالف پروپیگنڈے کا توڑ یقینی بنایا جائے‘ اس سب کیلئے سیاسی قیادت کو ایک میز پر اکٹھے ہوکر سوچ بچار کرنا ہوگی۔

سپورٹس یونیورسٹی کا قیام

ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد نے کہا ہے کہ ہمیں اپنے مسائل کے حلکے لئے ایجوکیشن ڈپلومیسی اپنانا ہوگی اس کیساتھ ہی وہ وفاقی دارالحکومت میں سپورٹس یونیورسٹی کے جلد قیام کا عندیہ بھی دیتے ہیں‘ وہ جامعات کے درمیان اولمپکس مقابلوں کے انعقاد کا اعلان بھی کرتے ہیں‘ اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں ایچ ای سی کا کردار انتہائی فعال ہے جس میں سپورٹس یونیورسٹی کا قیام ایک بڑا منصوبہ ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس یونیورسٹی کے کیمپس صوبائی دارالحکومت اور دوسرے شہروں میں بھی ہوں اس کے ساتھ ضرورت تعلیم کو دستور میں ترمیم کیساتھ صوبائی سبجیکٹ قرار دئیے جانے کے بعد صوبوں کی تعلیمی حکمت عملی کو ایچ ای سی کے ساتھ ہر سطح پر شیئر کرنے کی بھی ہے تاکہ اعلیٰ تعلیم کا فروغ ممکن ہوسکے اور ایچ ای سی کی معاونت سے موثر پلاننگ پر عمل کیا جاسکے۔