بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / محکمہ تعلیم میں جعلی بھرتیوں کا سکینڈل بے نقاب

محکمہ تعلیم میں جعلی بھرتیوں کا سکینڈل بے نقاب

پشاور۔محکمہ انٹی کرپشن خیبر پختونخوانے محکمہ تعلیم میں بعض افسران کی ملی بھگت سے جعلی اوربوگس آرڈرز کے ذریعے خواتین کو اساتذہ کی پوسٹوں پر بھرتی کرنیکا سکینڈل بے نقاب کردیا عدالت عالیہ کے احکامات پربوگس خواتین اساتذہ کی نشاندہی ہونے پر اورجعلی بھرتیاں کرنیوالے مردوخواتین افسران کیخلاف وسیع پیمانے پر تحقیقات کاآغاز کردیاگیا ہے جبکہ اس کے علاوہ بھی محکمہ تعلیم خیبرپختونخوامیں وسیع پیمانے پر جعلی آرڈرز کے ذریعے اساتذہ کی بھرتیوں ٗ تنخواہیں ہڑپ کرنے اور پنشن نکالنے کا خدشہ ظاہر کیاگیا ہے۔

ڈائریکٹر انٹی کرپشن خیبرپختونخوا زیب اللہ خان کوعدالت نے ہدایت کی تھی کہ محکمہ تعلیم بٹگرام میں بعض خواتین اساتذہ جعلی آرڈرز کے ذریعے بھرتی کیاگیاہے اوربعدازاں انہی خواتین اساتذہ کو دوبارہ جعلی ٹرانسفرآرڈرز کے ذریعے دوسرے اضلاع میں تعینات کیاگیاجس پر حکومتی خزانے کوتنخواہوں کی مد میں لاکھوں روپے کانقصان پہنچایاگیاہے جس پر ڈائریکٹر انٹی کرپشن نے سرکل آفیسر چارسدہ قاضی اسلم کو مزید انکوائری کی ہدایت کردی اوررپورٹ مرتب کرکے عدالت میں پیش کرنے کاحکم دیاگیا ۔

محکمہ انٹی کرپشن کے مطابق ڈی ایم ٹیچر کی جانب سے جب سکیل پندرہ سے چودہ میں پروموشن کی درخواست دی گئی تو محکمہ تعلیم نے اس کی تنخواہ روک دی جس پر اس نے عدالت سے رجوع کرلیا تاہم محکمہ تعلیم نے عدالت کوبتایاکہ مذکورہ خاتون جعلی آرڈر پر بھرتی ہوئی ہے جس پر عدالت نے محکمہ انٹی کرپشن کو مزید تحقیقات کی ہدایت کردی تاہم جب محکمہ انٹی کرپشن نے تحقیقات شروع کی تو معلوم ہواکہ ڈی ایم ٹیچر کیساتھ ساتھ اے ٹی ٹیچر ،پی ای ٹی ٗ ایس ایس ٹی اور پی ایس ٹی ٹیچرزکے بھرتیوں کے آرڈز جعلی ہیں اورانہی جعلی بھرتی آرڈرز پر بٹگرام اوردوسرے اضلاع سے انکے جعلی ٹرانسفر آرڈرز جاری کئے گئے۔

تحقیقات کے دوران محکمہ تعلیم میں جعلی آرڈرز کے ذریعے اساتذہ کی بھرتیاں کرنے والے مرد وخواتین افسران کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں ڈی ای او فیملی چارسدہ صوفیہ تبسم ،ڈی ای او فیملی پشاور الفت بیگم، ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفیسر بٹگرام محمد ایاز، اسسٹنٹ اکاؤنٹ آفیسر حامد یونس، سینئر آڈیٹر محمد ریاض ،کے پی او عمران اللہ ،اے ٹی او بٹگرام طارق محمود ،سینئر آڈیٹر اورنگزیب ،سینئر کلرک محمدامین اورسپرنٹنڈنٹ شانگلہ محکمہ تعلیم مشتاق احمد کے علاوہ علی رحمان سپرنٹنڈنٹ ،مظہر حسین جونیر کلرک،سنیئرکلرک محمداسحاق،پی ایس ٹی ٹیچر سہیل اور جونیئرکلرک سرتاج کیخلاف تحقیقات کی جارہی ہیں واضح رہے کہ اس ضمن میں رابطہ کرنے پر ترجمان انٹی کرپشن اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسلم نواز خان کا کہناتھاکہ محکمہ تعلیم میں وسیع پیمانے پرتحقیقات کی جارہی ہے ۔