بریکنگ نیوز
Home / کالم / جنگ ستمبر۔ ایک کھیل

جنگ ستمبر۔ ایک کھیل

لکشمی مینشن کی باغ و بہار گراؤنڈ جس کے اردگرد فلیٹوں کی قطاریں ہیں اور ان میں سے ایک فلیٹ کی بالکونی میں مینشن کی سب سے حسین پارسی لڑکی رتی پے ماسٹر بیٹھی ہے اور وہ حیرت سے تک رہی ہے کہ وہ گراؤنڈ جہاں یہ داستاں گو بچپن میں کرکٹ کھیلا کرتا تھا اور سعادت حسین منٹو کی کھڑکیوں کے شیشے توڑتا تھا۔ وہاں نہایت سنجیدگی سے خندقیں کھودی جارہی ہیں تاکہ ہوائی حملے کی صورت میں مینشن کے باسی ان میں پناہ لے سکیں۔ خندقیں جو پورے ملک میں سکولوں‘ کالجوں‘ محلوں میں کھودی جارہی ہیں جب مکمل ہوتی ہیں تو ہوائی حملے کی صورت میں ان میں پناہ لینے کی ریہرسل کی جاتی ہے۔ بچے خندقوں میں بھاگتے پھرتے ہیں جیسے کوئی بھول بھلیوں کا کھیل کھیلتے ہوں۔

بلی خاتون / ویسے میری بلو رانی۔ جی تو میرا بھی چاہتا ہے کہ میں اور کچھ نہ سہی تلوار سونت کر ہی دشمن پر حملہ کردوں انہیں مزہ چکھا دوں۔
بلو رانی / (ہنستے ہوئے) مزہ تو وہ چکھ لیں گے اور کیا تم سمجھتی ہو کہ صرف تم ہی محب الوطن ہو۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ دشمن کو دیکھتے ہی نیست ونابود کرے، میری طرف دیکھو میں نے اپنے سینے پر’’کرش انڈیا‘‘ کا سٹکر لگا یاہوا ہے۔ ویسے تم نے سنا ہے کہ آپا نور جہاں کے قصور والے آبائی محلے پر ہندوستانیوں نے بم گرا کر اسے تباہ کردیا ہے تو توبہ استغفار کرواکہ کہیں ہمارے محلے پر بھی کوئی بم نہ آگرے‘(لاہور کے قریب بمباں والا بیدیاں کے مقام پر بی آر بی نہر کا پل تباہ ہوچکا ہے۔ جنگ ستمبر کے اختتام کو کچھ دن گزر چکے ہیں اس کے باوجود عام لوگوں کو ادھر جانے کی اجازت نہیں کہ جگہ جگہ ایسے راکٹ اور بم پڑے ہوئے ہیں جو پھٹ نہیں سکے۔ بی آر بی نہر کے پانیوں میں شہیدوں کے لہو کی آمیزش ہوچکی ہے اور وہ سرخی مائل دکھائی دے رہے ہیں۔ کناروں پر کھڑے اشجار کے پتوں پر ان ٹینکوں کی دھول ہے جو لاہور کے دفاع کے لئے واقعی سیسہ پلائی دیوار ہوگئے تھے۔ فضا میں ایک نامعلوم اداسی ہے۔ کوئی پرندہ نہیں چہکتا کہ کچھ پرندے تو جل گئے اور بقیہ یہاں سے کوچ کر گئے۔ نہر کنارے خاکی رنگت کی چھولداریوں میں پوشیدہ ایسے چہرے ہیں جن پر جنگ ستمبر کے سترہ دنوں کی تاریخ کھدی ہوئی ہے۔ ان چہروں پر فخر کی سرخی ہے کہ ہم نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو روک لیا۔ ان کا لاہور فتح کرنے کا خواب چکنا چور کردیا۔ وہ جام توڑ دیا جس میں انڈین جنرل نے جم خانہ کلب میں شراب چھلکانے کا اعلان کیا تھا اور ان چہروں پر اس جنگ کے دوران بچھڑ جانے والے ساتھیوں کا غم ہے۔ وہ ہنسنا بھول گئے ہیں۔ یہ منظر دھول آمیز ہمارے سامنے کھلتا ہے اور نہر کنارے ایک اجڑ چکا مورچہ ہے جہاں داستان گو کھڑا ہے)

داستان گو / خواتین و حضرات میرے ساتھ اس مورچے کے کھنڈ رمیں چلے آئیے کہ یہاں ہماری تاریخ کا ایک سنہری باب رقم ہوا تھا۔ نیلی آنکھوں اور گھنگھریالے بالوں والے ایک شخص نے نہر کے پار دشمن کی یلغار کو اپنے سینے پر روک لیا تھا اور وہ میجر عزیز بھٹی تھا۔ سورڈ آف آنر جیتنے والے خوش شکل مدھ بھری آنکھوں والا عزیز بھٹی جسے پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر عطا ہوا۔ ان اینٹوں اور دھول میں اب تک اس کے خون کی مہک رچی ہوئی ہے۔ بی آر بی نہر کے پانیوں میں اس کے لہو کی آمیزش بھی ہے جو سرخ ستاروں کی مانند بہتی جاتی ہے۔ آئیے اپنا سفر جاری رکھتے ہیں۔ آپ کے ذہن میں یہ سوال تو اٹھتا ہوگا کہ میں کیسے ادھر آنکلا تو میرے ایک عزیز دوست بیکو انڈسٹری میں پاکستان کی پہلی سائیکل کا ڈیزائن بنانے والے محمد حنیف کا کچھ رقبہ نہر کنارے واقع تھا اور اسے ادھر آنے کی سرکاری اجازت تھی تو میں بھی اس کے ہمراہ اپنا مووی کیمرہ سنبھالتا چلا آیا۔ بی آر بی نہر کے کناروں پر ہم ایک اور مورچے میں داخل ہوتے ہیں اور میجر شفقت بلوچ ہمارا استقبال کرتے ہیں۔ اگر یہ پابندی نہ ہوتی کہ نشان حیدر صرف شہید فوجیوں کو ہی عطا کیا جاتا ہے تو میجر شفقت بلوچ سے بڑھ کر اور کوئی شخص اس اعزاز کا مستحق نہ ہوتا۔ وہ ہمیں جنگ کی کہانیاں سنا رہے ہیں۔ سترہ دنوں کی داڑھی ان کے چہرے پر سجی ہے جسے انہوں نے عمر بھر کے لئے رکھ لیا۔ ہم ان کی پیش کردہ چائے پیتے سترہ دنوں کی جنگ کی باتیں کرتے ہیں اور بی آر بی نہر دھیرے سے بہتی جاتی ہے۔

(چونڈہ کا کھنڈر ہوچکا ریلوے سٹیشن۔ جس کی عمارت گولوں‘ راکٹوں اور گولیوں سے چھلنی ہوچکی ہے۔ یہاں تک کہ سٹیشن کے آغاز میں برطانوی عہد سے چلا آتا۔ ’’چونڈہ ریلوے سٹیشن‘‘ کا جو بورڈ ہے اس میں بھی درجنوں سوراخ ہیں۔ ہم کچھ دیر اس کے خالی پلیٹ فارم پر چہل قدمی کرتے ہیں۔ پلیٹ فارم پر اینٹیں اور بموں کے خالی خول بکھرے ہوئے ہیں۔ ہم ابھی ابھی سیالکوٹ کے ٹرنک بازار کے ملبے کو دیکھ کر آئے ہیں جہاں ایک ہزار پاؤنڈ وزنی بم گرایا گیا تھا۔ یہاں چونڈہ کے میدان کارزار میں ابھی باہر کے لوگوں کی آمد پر پابندی ہے لیکن داستان گو کا ایک عزیز دوست میاں محمد اظہر سیالکوٹ کا اسسٹنٹ کمشنر ہے جس کے توسط سے ہم ادھر آنکلے۔ فوج کی جیپوں میں سوار چونڈہ کے سٹیشن سے پرے اس میدان میں جانکلے جہاں ایک روایت کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی لڑی گئی۔ ہماری جیپیں کھیتوں کو روندتی چلی جاتی ہیں۔ افق پر تین پاکستانی ٹینک نمودار ہوتے ہیں۔ جو دھول اڑاتے ہمارے قریب سے گزر جاتے ہیں اور ان کی دھمک سے ہماری جیپیں لرزنے لگتی ہیں۔ کھیتوں میں جگہ جگہ بھسم شدہ انڈین ٹینکوں کے ڈھانچے پڑے ہیں۔ میں ان تمام مناظر کی فلم بندی کرتا جاتا ہوں۔ بہت کم لوگ آگاہ ہوں گے کہ محبوب دوست شفیق الرحمن بھی چونڈہ کی جنگ میں شریک تھے۔ ہم ایک تباہ شدہ انڈین ٹینک کے قریب رکتے ہیں۔ اس کے اندرجھانکتے ہیں ۔ ٹینک کے قریب کیکر کے ایک درخت پر دو پرندے براجمان ہیں جو آپس میں گفتگو کررہے ہیں۔