بریکنگ نیوز
Home / کالم / تلخ حقیقت

تلخ حقیقت

گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے حامد کرزئی زور اول سے ہی امریکہ کا آدمی تھاامریکہ نے کئی برسوں تک اس کے ہی ذریعے افغانستان میں اپنا الو سیدھا کر نے کی کاوش کی اس کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہے جو کرزئی صاحب نے اب اچانک اپنا پینترہ کیوں بدلا ہے موصو ف کے اس تازہ ترین انکشاف پر کہ افغانستان میں امریکہ داغش کی حمایت کر رہا ہے واشنگٹن کافی سیخ پا ہے ان لوگوں کے لئے کرزئی کا یہ بیان البتہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں جو امریکہ کے بین الاقوامی امور میں دوغلاپن سے بخوبی واقف ہیں اردو زبان میں ایک پرانا محاورہ ہے چور سے کہے چوری کر ‘ ساہ سے کہے تیرا گھر لٹا یہ محاورہ اس آدمی یا ملک کیلئے استعمال ہوتا ہے کہ جو خود ہی کسی کا نقصان کرائے اور خود ہی پھر اس کا ہمدرد بنے۔ امریکی حکمران اس محاورے پر ہمیشہ سے عمل پیرا رہے ہیں موقع کی مناسب اور اپنے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے کبھی کسی ملک میں وہ فوجی آمریت کی حمایت کرتے ہیں تو کہیں جمہوریت کا راگ الاپتے ہیں کوئی عجب نہیں کہ افغانستان میں عسکریت پسندوں کو مریکیوں کی اشیرباد حاصل ہو پاکستان کا اب مزید امریکہ کے چرنوں میں بیٹھنا اس کے مفاد میں نہیں لیکن ہمیں بالکل یقین نہیں کہ ہمارے حکمران ‘ ہماری بیورو کریسی کے کرتا دھرتا اور اس ملک کی اشرافیہ امریکہ کو خیر آبا کہنے کے موڈ میں ہے کیونکہ ان لوگوں نے اپنا تن من دھن وار کراپنے لئے اور اپنی آ ل اولاد کے لئے نہ جانے کتنے جتن کرکے امرکہ کے گرین کارڈحاصل کئے ہوئے ہیں۔

وہ امریکہ کی چکا چوندھ طرز زندگی کے دلدادہ ہیں ان لوگوں سے کیسے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ امریکہ کو برملا کہہ سکیں کہ بھئی بہت ہو چکی اب تم لمبے بنو ‘‘ اپنا راستہ ناپو ہمارا پیچھا چھوڑو ڈاکٹر شکیل آفریدی کی طرح اس ملک میں بے شمار ایسے لوگ موجود ہیں کہ جو امریکی گرین کارڈ حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔ کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ پاکستان کا کوئی بھی صدر یا وزیراعظم اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد پہلا کام یہ کرتا ہو کہ وہ بیجنگ یا ماسکو جاتا ہے اس کے علی الرغم اس کا پہلا کام ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس کا طواف کرکے اور وہاں امریکی صدر کو اپنی Arrival roport دے اور اس سے ضروری ہدایات لیکر واپس آ کر اپنا کام شروع کرے ہاں راستے میں وہ سرکاری خرچے پر عمرہ ضرورادا کرے گا ان لوگوں کی اپنی مجبوریاں ہیں ان کا پیسہ امریکہ اور اس کے مغربی اتحادی ممالک کے بینکوں میں انوسٹ ہے ان کے اپارٹمنٹس پلازئے اور فلیٹس مغرب میں ہیں ان کی کرپشن کی داستانیں امریکن سی آئی اے اور ایف بی آئی کی فائلوں میں درج ہیں یہ تو ڈر کے مارے امریکی حکومت کی اجازت کے بغیر پر بھی نہیں مار سکتے کہ مباوا امریکن سی اے آئی ان کی کرپشن کی داستانوں کو آشکارا نہ کر دے اس ملک میں ذی حس اور ذی شعور لوگ سرنگ کے دوسرے پار سردست کوئی روشنی کی کرن نہیں دیکھ رہے اگر یہی نظام برقرار رہا ‘ کرپٹ عناصر قانونی موشگافیوں کے ذریعے جیل کی سلاخوں سے بچتے رہے ان کی حرام کی دولت اور جائیداد بحق سرکار ضبط نہ ہوئی نیب یا ایف آئی اے یا دوسرے اہم انتظامی اور مالیاتی اداروں سیاسی اثر رسوخ پر افراد تعینات ہوتے رہے الیکشن کمیشن کے سیٹ اپ میں خاطر خواہ تبدیلی نہ لائی گئی تو2018ء کے الیکشن میں بھی وہی پرانے چہرے یا ان کے نزدیکی رشتہ دار ایوان اقتدار میں آتے رہیں گے اور غریب کے روزمرہ کے مسائل جوں کے توں رہیں گے بدقسمتی یہ ہے کہ کوئی بھی تبدیلی پارلیمنٹ کی مرضی کے بغیر ناممکن ہے اور معذرت اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پارلیمنٹ میں جو لوگ براجمان ہیں ان میں اکثریتStatus Quoکو ختم کرنا چاہتی ہی نہیں۔