بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / مسکراہٹیں!

مسکراہٹیں!

ملک میں پکنے والی ’اَندرونی سیاسی کھچڑی‘ درحقیقت اِقتدار کیلئے ’رسہ کشی‘ ہے اُور اِس میں سے عام آدمی (ہم عوام) کو ایک نوالہ بھی ملنے کی اُمید نہیں اور نہ ہی اِس سے پاکستان کے اُن مالی وسائل کی واپسی ممکن ہو پائے گی جس سے مبینہ طور پر ملک کی سیاسی و عسکری اشرافیہ‘ افسرشاہی اور حسب آمدنی ٹیکس ادا نہ کرنیوالے سرمایہ داروں نے بیرون ملک اثاثے بنائے ہیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اور اُن کے داماد کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر کا استقبال کرنے والوں کی اکثریت اُس قومی اسمبلی اجلاس سے غیرحاضر رہی‘ جسے وہ طاقت کا سرچشمہ قرار دیتے ہیں۔ جس کی عزت‘ فیصلوں اور اختیارات کو ہر شے پر مقدم بیان کرتے ہیں! اس موقع پر موجود قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی کیوں بنے رہے؟ ائرپورٹ پر ان کے حق میں نعرے لگانے والوں سے نرمی کا برتاؤ کیا گیا‘ جس کا پس منظر ہر ذی شعور سمجھ سکتا ہے۔ اگر کوئی عام آدمی یہی حرکت کرتا تو کیا اُس کے ساتھ بھی پولیس اور ائرپورٹ سیکورٹی اہلکاروں کا یہی رویہ ہوتا؟ سوال :۔ کیا احتساب عدالت کے روبہ رو برطانیہ میں مقیم حسن نواز اور حسین نواز کو گرفتار کرکے پیش کیا جا سکے گا؟ جواب: پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ نہیں جس کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کے ملزمان کا تبادلہ کرے۔ اگر نوازشریف خاندان کے اہلکاروں نے برطانیہ میں جملہ سرمایہ کاری وہاں کے مقامی قوانین کے مطابق کی ہے۔ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کر رہے ہیں اور برطانوی قوانین کا پوری طرح احترام کر رہے ہیں تو بھلے ہی پاکستان کی عدالتیں اُنہیں سزا دے بھی دیں‘ برطانیہ کو اِس قسم کے کسی بھی عدالتی فیصلے میں دلچسپی نہیں ہوگی۔

اقوام متحدہ کا بدعنوانی کے خلاف ایک ضابطہ (کنونشن) موجود ہے‘ جس کے تحت برطانیہ پابند ہے کہ وہ پاکستان کے قومی مجرموں کو گرفتار کر کے ہمارے حوالے کرے۔ نیب کے قانون میں ہر کیس کی تکمیل کے لئے زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کا وقت تحریر ہے لیکن آج تک نیب کے صرف ایک ہی کیس کا فیصلہ ہو پایا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ نیب نوازشریف خاندان کو مہلت دے رہا ہے کہ وہ اسمبلیوں سے قانون سازی کر کے پورے معاملے اور نیب کیسیز کی بساط ہی لپیٹ دے۔ اس طرح نیب اور سپریم کورٹ کی عزت بھی رہ جائے گی اور عدالت کے بارے میں عوامی رائے بھی منفی نہیں ہوگی۔ اِس پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہنستے مسکراتے حسن نواز اور حسین نواز کا مؤقف ملاحظہ کیجئے جو کہتے ہیں کہ وہ ’’برطانوی شہری ہیں جنہیں پاکستان کی کوئی بھی عدالت اشتہاری قرار نہیں دے سکتی۔‘‘ قانون یہ کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص نیب کی عدالت میں طلبی کے باوجود حاضر نہ ہو تو اُسے تین سال کی سزا ہوسکتی ہے اور اس سزا کے لئے کسی مقدمے (ریفرنس) کے ہونے کی ضرورت بھی نہیں لیکن اگر حسن اور حسین حاضر ہی نہیں ہوتے تو نیب عدالت انہیں غیرحاضری کی صورت میں سزا نہیں دے سکے گی۔

کیونکہ یہ بھی قانون ہی ہے کہ ’’غیرحاضری میں سزا نہ دی جائے!‘‘ مسکراتے رہیں کیونکہ اگر یہ قانونی نکتہ عام آدمی (ہم عوام) کے علم میں بشکریہ ذرائع ابلاغ آ چکا ہے تو کروڑوں روپے کی فیسیں لینے والے نوازشریف خاندان کے وکلاء نے کیا یہی بات اپنے مؤکل کے گوش گزار نہیں کی ہوگی؟ یہی سبب ہے احتساب عدالتوں میں پیش ہونے کی بجائے معاملے کو اُس وقت تک طول دیا جاتا رہے گا جب تک ملک میں آئندہ عام انتخابات کا مرحلہ سر پر نہیں آن پہنچتا اور نواز شریف سمیت نوازلیگ کی قیادت عام انتخابات سے قبل ’احتساب مقدمات‘ میں کسی بھی قسم کی چھوٹی بڑی سزا ملنے سے خود کو بچانا چاہتی ہے تاکہ شریف خاندان کے افراد عام انتخابات میں بطور اُمیدوار حصہ لے سکیں۔ این اے ایک سو بیس کے ضمنی انتخاب کی طرح ’نوازلیگ‘ کے ووٹ بینک سے قومی اسمبلی میں عددی اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔