بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / حلف نامے کی بحالی

حلف نامے کی بحالی

قومی اسمبلی نے اتفاق رائے سے کا غذات نامزدگی میں ختم نبوت پر ایمان کا حلف نامہ اپنی اصلی حالت میں بحال کر کے پاکستانی قوم میں اس حساس ایشو پر پیدا ہونے والی تشویش اور ردعمل پر قابوپا کر جس دانشمندی کا مظاہرہ کیا ہے وہ یقیناًایک قابل ستائش عمل ہے‘اس نازک اور حساس معاملے کیساتھ چیڑچھاڑ یا اسکے حوالے سے کوئی ابہام پیدا کئے جانے کو چونکہ معمولی درجے کا ایمان رکھنے والا گنہگار شخص بھی کبھی برداشت کرنے کاسوچ بھی نہیں سکتا اسلئے جب یہ بات سامنے آئی کہ حکومت نے پارٹی صدر کی نااہلی سے متعلق ترمیم میں کاغذات نامزدگی فارم میں ختم نبوت سے متعلق حلف نامے کو منسوخ کردیا ہے تو اس پر ملک کے طول وعرض میں احتجاج اور ان کا اس ترمیم کو واپس لینے کیلئے حکومت پر دباؤ کے لئے سڑکوں پر آنا ایک فطری امر تھا۔ ختم نبوت ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی جزو ہونے کے علاوہ پاکستان چونکہ ایک خالص نظریاتی اسلامی مملکت ہے اور اسکے قیام کا جواز اور بنیاد چونکہ اسلام کا آفاقی نظر یہ حیات ہے اسلئے پاکستان کے تینوں آئینوں میں نہ صرف بالاتفاق پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست تسلیم کیا گیا ہے بلکہ پاکستان کا پورا آئین اور اسکی روشنی میں بننے والے قوانین کو اگر ایک طرف اسلام کے سانچے میں ڈالنے کی حتی الامکان کو شش کی گئی ہے تو دوسری جانب 1973کے متفقہ آئین میں واضح طور پر لکھ دیا گیا ہے کہ پاکستان میں کوئی قانون قرآن وسنت کے خلاف نہیں بنایا جاسکے گا۔

اسی طرح1973 کے آئین میں چونکہ واضح طور پر پاکستان کو ایک اسلامی جمہوری مملکت قرار دیا گیا ہے اور قرآن وسنت کو ملک کے اعلیٰ ترین قانون کی حیثیت دی گئی ہے اور اس آئین سے وفاداری کے حلف میں بھی عقیدہ ختم نبوت کا ذکرچونکہ واضح طورپر موجود ہے اسلئے کوئی بھی مسلمان نہ تو اس حلف کے مندرجات میں کسی قسم کی ترمیم کوبرداشت کر سکتا ہے اور نہ ہی اسکے حذف کئے جانے پر خاموش رہ سکتا ہے ۔نامزدگی فارم میں ختم نبوت سے متعلق حلف نامے کو خذف کر دیا گیا ہے تواس اہم ایشوپر پارلیمان سمیت عوامی سطح پر ایک بڑے ردعمل کا سامنے آنا ایک فطری عمل تھا ویسے بھی پاکستا ن جیسی نظریاتی مملکت جس کی بنیاد ہی نظریہ اسلام اور عقیدہ ختم نبوت پر رکھی گئی ہے کے آئین میں درج مسلمان کی تعریف کو مد نظر رکھتے ہو ئے ممبران پارلیمنٹ کے کاغذات نامزدگی فارم کے عقیدہ ختم نبوت کے الفاظ میں ترمیم یا اس کا حلف نامے سے حذف کیا جاناکوئی معمولی واقعہ نہیں ہے ۔ یہ اس ایشو کی حساسیت اور نزاکت کی وجہ ہی ہے کہ جب یہ بات سامنے آئی کہ قومی اسمبلی نے پارٹی صدارت کیلئے نا اہلی کی شرط کے خاتمے کے ساتھ ساتھ کاغذات نامزدگی کے فارم میں عقیدہ ختم نبوت کے حلف نامے کی شرط بھی ختم کر دی ہے تو اس پر اپوزیشن جماعتوں نے بلاتفریق جو زبردست احتجاج کیا اور اس ضمن میں حکومت اور متعلقہ وزرات کو جس طرح آڑے ہاتھوں لیا گیا یہ اسی دباؤ کا نتیجہ تھا کہ حکومت نہ صرف بلا توقف اپنی غلطی تسلیم کرنے پر آمادہ ہو گئی۔

بلکہ کوئی لمحہ ضائع کیئے بغیر اس نے قومی اسمبلی سے نیاترمیمی بل بھی فی الفور منظور کرو اکرایک جانب اگر اپنی بلنڈر نماغلطی پر شرمندگی کا اظہار کیاہے تو دوسری جانب اس فوری ایکشن کے ذریعے اس نے اپوزیشن اور پوری قوم کو بھی یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ یہ سب کچھ غلط فہمی کی بنیاد پرہواہے۔سوال یہ ہے کہ حکومت کواپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی اس نے جس تیزی سے مجوزہ ترمیم اسمبلی سے منظور کرائی ہے اس کے پیچھے اپوزیشن بالخصوص مذہبی جماعتوں کا دباؤ کارفرما تھا یا پھر حکومت کی متذکرہ غلطی چونکہ واقعی کسی غلط فہمی کا نتیجہ تھی اسلئے اسے احساس ہوتے ہی اس نے نہ صرف فوراًپنی غلطی تسلیم کر لی بلکہ اس کی تصحیح کرنے میں بھی دیر نہیں لگائی لیکن حیرت اس بات پرہے کہ جب حکومت میاں نواز شریف کی نا اہلی کے بعد شدید دباؤ میں ہے ایسے میں اسے مذہبی جذبات اور ایمان وعقیدے سے تعلق رکھنے والے ایک حساس معاملے کو چھیڑنے کی ضرورت آخر کیوں کر درپیش ہوئی ۔