بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / فاٹا اصلاحات

فاٹا اصلاحات

وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا سے ملحقہ قبائلی علاقوں کو صوبے میں ضم کرنے اور فاٹا اصلاحات کے لئے قائم خصوصی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد میں تاخیر سے گریز کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ یہ یقین دہانی فاٹا اصلاحات میں تاخیر کے خلاف وفاقی دارالحکومت کے مشہور ڈی چوک میں دھرنے کے دوران قبائلی رہنماؤں سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی گزشتہ شب لیٹ آور میں ہونے والی ملاقات میں کرائی گئی جس کے بعد فاٹا کے عوام اور مختلف سیاسی جماعتوں کے زیر اہتمام دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیاگیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نے قبائلی رہنماؤں پر مشتمل وفد کو ایف سی آر کے نام سے قانون کے خاتمے فاٹا میں ملکی قوانین کے اطلاق اور عدالتی دائرہ کار سے متعلق اقدامات کا یقین دلایا۔ فاٹا کے رکن قومی اسمبلی نے دھرنے کے شرکاء کو کہا ہے کہ قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے، فاٹا کو پشاور ہائی کورٹ وسپریم کورٹ کے ساتھ منسلک کرنے اور ایف سی آر کے خاتمے کیلئے اقدامات جلد اٹھائے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم سے قبائلی رہنماؤں کی ملاقات سے قبل اسلام آباد میں قبائلیوں اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے ڈی چوک تک رسائی حاصل کی اور دھرنا دیا۔ فاٹا اصلاحات کاعزم لیکر حکومت نے خود کمیٹی بنائی اور خود ہی اس کی سفارشات پر عملدرآمد کیلئے ایک طویل ٹائم شیڈول دے دیا۔

اس ٹائم فریم پر پیش رفت انتہائی سست روی کا شکار رہی جس پر سیاسی جماعتوں نے بار بار توجہ مبذول کرائی۔ اب جبکہ وزیراعظم ایک بار پھر اصلاحاتی پروگرام پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرا رہے ہیں تو ضرورت یہ بھی ہے کہ اس پراگر کسی کے کوئی تحفظات اور خدشات ہوں تو وہ بھی دور کئے جائیں۔ اصلاحاتی ایجنڈے پرعمل اسی صورت بروقت پایہ تکمیل کو پہنچ سکتا ہے جب محاصل کی تقسیم جیسے معاملات کو پہلے دیکھاجائے۔اس مقصد کیلئے این ایف سی ایوارڈ کا اجراء ناگزیر ہوگا جس کیلئے خیبر پختونخوا اور دوسرے صوبے بار بار مطالبہ کررہے ہیں فاٹا ریفارمز خود موجودہ حکومت کا اقدام ہے اور اسی حکومت کے دور میں عملدرآمد کا مرحلہ تاخیر کا شکار ہونا اس بات کا متقاضی ہے کہ خود وزیراعظم سارے عمل کی براہ راست نگرانی کریں۔

نمک منڈی فوڈ سٹریٹ

پشاور کے ضلع ناظم نے نمک منڈی فوڈ سٹریٹ پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ڈسٹرکٹ ناظم کو رپورٹ میں بتایاگیا ہے۔ سٹریٹ پر کام نومبر کے آخر تک مکمل کرلیاجائے گا۔ عرصہ دراز سے پڑی سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی پراپرٹی پر فوڈ سٹریٹ کا قیام بلاشبہ ایک اچھا منصوبہ ہے ۔ پشاور میں اس وقت کھانے پینے کی اشیاء اس طرح فروخت ہو رہی ہیں جس سے جگہ جگہ غیر اعلانیہ فوڈ سٹریٹس کا احساس ہوتا ہے۔ اس وقت ضرورت کھانے پینے کی اشیاء کے معیار کو یقینی بنانے کی ہے۔ یہ معیار ایک آدھ چھاپے سے بہتر اور یقینی نہیں ہوسکتا انسانی صحت اور زندگی سے جڑا یہ معاملہ ہر مرحلے پر احتیاط کا متقاضی ہے بازاری کھانوں کی کوالٹی کے ساتھ ریٹس کو بھی ایک باقاعدہ دائرے میں لانے کی ضرورت اپنی جگہ موجود ہے من مانے نرخوں سے سب سے زیادہ متاثر ، محنت کش طبقہ ہوتا ہے جو دن بھر مزدوری کے دوران کھانا بازار سے لیتا ہے اس طبقے کو بازار میں چھابڑی والے سے اکثر روٹی بھی معمول سے کم وزن کی ملتی ہے۔ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ بے شک سٹریٹس بنائے لیکن کھانے پینے کی اشیاء پر چیک رکھنے کا سسٹم پہلے منظم کرنا ہوگا۔