بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ جلد بازی نہ کیا جائے، مولانا فضل الرحمن

فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ جلد بازی نہ کیا جائے، مولانا فضل الرحمن

اسلام آباد۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے مطالبہ کیا ہے کہ فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کی عوام سے پوچھ کر کیا جائے،فاٹا کے معاملے پر احتجاج کر کے اپنی سوچ کو دوسروں پر مسلط نہ کیا جائے ،سیاسی جماعتوں کے ورکروں کو اسلام آباد لا کر یہ کہنا کہ قبائل کے لوگ آئے ہیں اس طرح کے کاموں سے قوم کو دھوکہ نہ دیا جائے، سکاٹ لینڈ سے برطانیہ کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے اور برطانیہ کے لوگوں سے یورپی یونین کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کے متعلق پوچھا جاتا ہے تو یہاں کیوں نہیں،فاٹا کے مستقبل کے فیصلے میں جلد بازی نہ کی جائے، پارلیمنٹ میں اس حوالے سے جامع بحث ہو، ختم نبوت کے حوالے سے شق میں تبدیلی پر پورے ایوان سے اجتماعی گناہ ہوا، جس میں پی ٹی آئی بھی شامل ہے،شق میں تبدیلی کرنے والا چاہے کوئی چھوٹا ہے یا بڑا اس کی نشاندہی کی جائے اور اس کو اس کی سزا دی جائے۔

وہ بدھ کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کررہے تھے۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ دو مہینے سے ملک سے باہر تھا میرے بعد ملک میں دو مسائل ابھرے جنہوں نے پوری قوم اور امت مسلمہ کو جھنجھوڑا۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن بل میں ختم نبوت کے حوالے سے شق میں تبدیلی سے پورے ایوان سے اجتماعی گناہ ہوا ہے جس میں پی ٹی آئی بھی شامل ہے۔ اس موقع پر تحریک انصاف کے ارکان نے احتجاج کیا اور مولانا فضل الرحمن کے الفاظ کو حذف کرنے کا مطالبہ کیا جس پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ میں ایوان میں کھڑا ہو کر یہ بات کررہا ہوں کہ پی ٹی آئی بھی اس میں برابر کی شریک ہے۔ آج نہیں تو کل یہ بات ثابت ہوگی اس لئے میرے الفاظ کو حذف نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے مسئلے پر کسی ایک دھڑے کی اجارہ داری نہیں اس پر تمام متفق ہیں۔ انتخابی اصلاحات بل پر قائم کمیٹی کے 126اجلاس ہوئے مگر سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد اس بل میں نئے نکات شامل کئے گئے حکومت کے پاس اکثریت ہے جس طرح باقیوں کا حق ہے حکومت کا بھی یہ حق ہے کہ وہ نکات شامل کرسکتی ہے ان نکات پر ایک ہنگامہ برپا ہوا اس ہنگامے میں ختم نبوتؐ کے حوالے سے شق میں بھی تبدیلی کردی گئی جس کی تحقیقات ہونی چاہئیں کہ یہ غلطی کس نے کی۔

انتخابات نزدیک ہیں اس معاملے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن بل میں کچھ نئے نکات بھی ایسے سامنے آئے ہیں جن پر اعتراض ہے جیسے سیون سی اور سیون بی کا قانون کا حصہ نہ ہونا ہے اس کو بھی قانون کا حصہ بنایا جائے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ناموس رسالتؐ کا قانون اقلیتوں کے خلاف استعمال ہورہا ہے ممتاز قادری کو تو پھانسی دیدی گئی مگر اس معاملے کی جو وجہ بنی اس کی جانب کسی نے توجہ نہ دی وہ خاتون آج بھی جیل میں ہے اس کو بھی سزائے موت سنائی گئی ہے مگر اس پر عمل درآمد آج تک نہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سینٹ میں ختم نبوت کے حوالے سے شق میں تبدیلی پر سینیٹر حافظ حمد اﷲ نے توجہ دلائی مگر مسلم لیگ (ن) کے علاوہ کسی نے ان کا ساتھ نہیں دیا پھر یہ معاملہ قومی اسمبلی میں آگیا جس میں شیخ رشید نے اس معاملے کی نشاندہی کی ۔ مولانا فضل الرحمن نے مطالبہ کیا کہ ختم نبوتؐ کے حوالے سے شق میں تبدیلی کرنے والا چاہے کوئی چھوٹا ہے یا بڑا اس کی نشاندہی کی جائے اور اس کو اس کی سزا دی جائے۔ جے یو آئی کے سربراہ نے فاٹا اصلاحات کے حوالے سے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا اصلاحات کے حوالے سے اس ایوان میں بہت سی بحث ہوچکی ہے۔ جے یو آئی کا اس حوالے سے جو موقف ہے وہ 2012ء سے ہے جب خیبرپختونخوا اسمبلی نے فاٹا کو صوبے میں ضم کرنے کے حوالے سے قرارداد منظور کی۔ اس وقت پشاور میں ایک جرگہ بلایا گیا جس میں فاٹا کا صوبے میں انضمام ‘ فاٹا سے کالے قوانین کا خاتمہ اور فاٹا کا سٹیٹس برقرار رکھتے ہوئے وہاں اصلاحات کی تجاویز سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت فاٹا میں آپریشن ہورہے ہیں جن کی وجہ سے لوگ دربدر ہیں۔ فاٹا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے ان حالات میں فاٹا کے مستقبل کا تعین کرنا مناسب نہیں پہلے وہاں کے لوگوں کو آباد کیا جائے پھر ان کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آپ فاٹا کا 125سالہ سٹیٹس ختم کرنے جارہے ہیں اور آئین میں فاٹا کے حوالے سے چار شقیں تبدیل کررہے ہیں اس لئے ایسا کرنے سے قبل وہاں کے لوگوں سے پوچھ لیا جائے۔ اگر سکاٹ لینڈ سے برطانیہ کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے اور برطانیہ کے لوگوں سے یورپی یونین کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کے متعلق پوچھا جاتا ہے تو یہاں کیوں نہیں۔ اس بات میں کیا گناہ ہے کہ قبائلی لوگوں سے پوچھ لیا جائے کہ وہ کے پی کے میں انضمام چاہتے ہیں یا الگ صوبہ۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام جھگڑا نہیں اور نہ ہی ہم الگ صوبہ بنانا چاہتے ہیں ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے کہ فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ کرنے سے قبل وہاں کی عوام سے پوچھا جائے۔ اس ایوان میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانے کے لئے رواج ایکٹ پیش کیا گیا جس کی صرف ہم نے مخالفت کی مگر آج سب کہہ رہے ہیں کہ رواج ایکٹ ٹھیک نہیں کیونکہ وہاں لوئر کورٹس نہیں ہیں۔ فاٹا اصلاحات کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق وہاں ترقیاتی کاموں کے لئے دس سال تک 90ارب روپے دیئے جائیں گے تو پھر جلدی کس بات کی ہے مرحلہ وار تمام مراحل طے کئے جائیں۔ رواج ایکٹ میں آپ نے 2018 کے الیکشن میں فاٹا سے صوبائی نشستیں مقرر کردیں اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی بجائے پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھانے کی تجویز دی اگر یہ انضمام نہیں تو اور کیا ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ فاٹا کے مستقبل کے فیصلے میں جلد بازی نہ کی جائے۔ پارلیمنٹ میں اس حوالے سے جامع بحث ہو۔ کچھ ہم آپ کو سمجھائیں کچھ آپ ہمیں سمجھائیں اور معاملہ کوبات چیت کے ذریعے حل کریں مگر جب آپ فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنے کیلئے احتجاج کریں اور اپنی سوچ کو دوسروں پر مسلط کریں تو یہ طریقہ درست نہیں۔ سیاسی جماعتوں کے ورکروں کو اسلام آباد لا کر یہ کہنا کہ قبائل کے لوگ آئے ہیں اور وہ اپنا حق مانگ رہے ہیں اس طرح کے کاموں سے قوم کو دھوکہ نہ دیا جائے دو دن بعد پشاور میں یوتھ کنونشن ہے جس میں قبائل کے لوگ ہوں گے سب دیکھ لینا کہ قبائل یہاں آئے تھے کہ وہاں ۔ وہ دور گزر چکا ہے جب آپ محلات میں بیٹھ کر فیصلے کرتے تھے اور ان کو لوگوں پر مسلط کرتے تھے۔