بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / کالجز میں بورڈ آف گورنرز کے پلان خاتمے کا اعلان

کالجز میں بورڈ آف گورنرز کے پلان خاتمے کا اعلان

پشاور ۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ پرویز خٹک نے صوبے کے سرکاری کالجوں اور یونیورسٹیوں کے انتظامات چلانے کیلئے مجوزہ بورڈ آف گورنرز کے قیام کا حکومتی پلان واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔اس کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں پروفیسرز اینڈ لیکچرز ایسوسی ایشن کے وفد کے ساتھ ملاقات کے دوران کیا۔ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اعلیٰ تعلیم مشتاق غنی ، متعلقہ انتظامی سیکرٹری اور ایسوسی ایشن کے عہدیدار بھی اس موقع پر موجود تھے۔ایسوسی ایشن نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کے دوران صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات سے متعلق بعض اقدامات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیاجس پر وزیراعلیٰ نے کالجز میں انتظامی بورڈ آف گورنرز کے پلان کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کااظہار کیا کہ بعض ذاتی مفادات کیلئے حکومت پر دباؤ ڈالنا ، طلبا و طالبات کو بھی سڑکوں پرلانا اورسرکاری کالجز کی تالہ بندی کرنا صوبائی حکومت کو کسی صورت قابل قبول نہیں۔

انہوں نے کہاکہ محکمہ اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات کا مجموعی پلان ایک نیک جذبے کے ساتھ بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کے اس پر خلوص اقدام کے خلاف احتجاج بلا جواز ہے جس کی وجہ سے پورا معاشرتی تانابانا بگاڑ کا شکار ہو سکتا ہے تاہم صوبائی حکومت کسی پر یکطرفہ دباؤ ڈالنے اور ضد پر قائم رہنے کی بجائے افہام و تفہیم کا راستہ اپنانا ضروری سمجھتی ہے۔ پرویز خٹک نے کہاکہ تعلیمی اداروں کی بندش اور اصلاحات کے خلاف پروپیگنڈہ کسی صورت نہیں ہونا چاہیئے۔ احتجاج ریکارڈ کرنے کے دوسرے کئی طریقے ہو سکتے ہیں اور یہ لامحالہ حکومت تک پہنچتے بھی ہیں۔انہوں نے کہاکہ انتہائی دباؤ ، پروپیگنڈہ اور بچوں کے مستقبل پر سیاست شروع ہونے کے سبب جبکہ طلباء کو تعلیمی اداروں سے نکال کر سڑکوں پر احتجاج کے لئے مجبور کیا گیا تو صوبائی حکومت نے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے صوبے میں تعلیمی اصلاحات سے بورڈ آف گورنرز کا صیغہ نکالنے اور اس بارے میں اپنا فیصلہ واپس لینے کو ہی بہتر سمجھا۔

وزیراعلیٰ نے کہاکہ مستقبل میں اس احتجاج اور شور شرابے اور اس کے نتیجے میں مجبوراً حکومتی فیصلے کی واپسی کا نقصان سب پر جلد آشکارہ ہو گامگر تب ایسا کرنے والے ہی مورد الزام ٹہرائے جائیں گے اور اس کا نقصان اُن کو بھی ہو گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اُن کی حکومت تبدیلی کے ایجنڈے کے ساتھ برسراقتدار آئی ہے اور اس تبدیلی کا مقصد فرسودہ اور زنگ آلود حکومتی نظام کو شفاف اور عوام دوست پالیسیوں کے ساتھ بدلنا ہے۔انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے اسی مقصد کے تحت محکمہ اعلیٰ تعلیم کے زیر اہتمام تعلیمی اداروں کے لئے بورڈ ز آف گورنرز کے قیام کا فیصلہ کیا تھا تاکہ ان اداروں کے انتظامی اور مالی حالات بہتر ہوں اور اُنہیں ہر لحاظ سے خود مختاری دے کر مقابلے کی فضاء قائم کی جائے۔انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ فیصلے کی واپسی کے باوجود تعلیمی اداروں کے اعلیٰ انتظامات اور معیار تعلیم کی بہتری کا سفر زور و شور سے جاری رہے گا۔انہوں نے کہاکہ اُن کی حکومت اساتذہ ، لیکچررز اور پروفیسر برادری کو بیوروکریسی کے چنگل سے آزادی دلانا چاہتی ہے اور اُنہیں زیادہ سے زیادہ اختیارات دینے کی حامی ہے تاکہ وہ تعلیمی اداروں کی ترقی و استحقام کے لئے زیادہ فعال کام کرسکے اور معیار تعلیم دن دُگنی رات چوگنی بہتر بنے۔

اگر اساتذہ برادری اپنے ہی مفاد کے کسی اقدام کے ساتھ متفق نہ ہو تو حکومت کے پاس ایسا فیصلہ اور پلان واپس لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔پرویز خٹک نے واضح کیا کہ اس فیصلے کے باوجو دتعلیمی اداروں میں اصلاحات کا عمل جاری رہے گااور بالخصوص ڈیوٹی سے غیر حاضری جیسی لعنت کے خاتمے کیلئے بائیو میٹرک سسٹم اور مانیٹرنگ نظام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ اساتذہ سمیت تمام سرکاری ملازمین تنخواہ تو باقاعدگی سے لیں مگر ڈیوٹی اپنی مرضی سے کریں چاہے قوم کا نقصان ہی کیوں نہ ہو۔اُنہیں ڈیوٹی بھی لازمی کرنی ہوگی اور سو فیصدحاضری یقینی بنانا ہو گی ۔انہوں نے اساتذہ کے لئے پروفیشنل الاؤنس سمیت بعض مطالبات کو غیر منطقی قرار دیتے ہوئے کہاکہ اگرچہ صوبائی حکومت اساتذہ سمیت تمام طبقوں کی فلاح و بہبود کی ضامن ہے مگر قوم پر غیر ضروری معاشی بوجھ نہیں بڑھنے دے گی ۔

انہوں نے واضح کیاکہ صوبے کے مجموعی ساڑھے پانچ کھرب روپے کے وسائل میں سے چار کھرب روپے سے زائدصرف تنخواہوں پر خرچ ہو جاتے ہیں۔ صوبائی بجٹ کے صرف ایک کھرب 15 ارب روپے کا ترقیاتی پلان بنتا ہے جس میں سے بھی 30 ارب روپے بلدیاتی اداروں کو منتقل ہو جاتے ہیں۔ اس لئے اگر پروفیشنل الاؤنس جیسے مزید مراعات کا بوجھ غیر منطقی انداز میں خزانے پر ڈالا گیا تو یہ پورے صوبے کا بٹہ بٹھانے کے مترادف ہو گاکیونکہ اونٹ پر بھی اُس کی بساط سے زیادہ بوجھ ڈالا جائے تو وہ بھی بالاآخر بیٹھ جاتا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ وہ پروفیسرز اور لیکچررز کیلئے ایک بہتر فلاحی پلان کا ارادہ رکھتے تھے اور یہ صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کے سلسلے میں کافی بہتر تھا تاہم اگر اساتذہ برادری اس کو اپنے مفاد میں بہتر نہیں سمجھتی تو بورڈ آف ڈائریکٹرز کے قیام کا فیصلہ واپس لے لیتے ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے محکمہ اعلیٰ تعلیم کو ضروری ہدایات بھی جاری کردی ہیں۔