بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / عدالتوں سے محاذ آرائی نوا زشریف کے مفاد میں نہیں ٗ چوہدری نثار

عدالتوں سے محاذ آرائی نوا زشریف کے مفاد میں نہیں ٗ چوہدری نثار

ٹیکسلا۔ سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ عدالت سے کسی قسم کی محاز آرائی نہیں ہونی چاہیے ،عدالت سے محاذ آرائی نواز شریف یا پارٹی کے مفاد میں نہیں ہے ،مسلم لیگ (ن) میں کوئی گروپ بندی نہیں، نہ کوئی فارورڈ بلاک ہے، اپنے گھر کو صاف کرنا اچھی بات ہے، وزیراعظم اور وزراء بیان بازی کے بجائے گھر کو صاف کرنے پر توجہ دیں، میرا خیال ہے کہ شیخ صاحب مایوس ہیں ان کا میں نے کوئی قرض نہیں دینا،اپنے ضمیر کے مطابق سیاست کروں گا۔

پاکستان میں دوسرے ملک کو آپریشن کرنے کا کہنا ہماری تضحیک ہے،، فوج اور انٹیلی جنس اداروں کی صلاحیتوں پر بھرپور اعتماد ہے، مجھے خدشہ ہوا، پارٹی میں میری باقتوں کو منفی لیا جا رہا ہے، مجھے مشاورتی عمل سے علیحدہ کر دیا گیا ، آئی بی کا خط میری تحقیقات کے مطابق جعلی ہے۔وہ جمعرات کو ٹیکسلا میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ حکومت کا حصہ نہیں لیکن قومی اسمبلی کا رکن ہوں، میں حلقے میں صبح سے میٹنگز کررہا ہوں۔

آج صرف آپ کے سوالوں کا جواب دوں گا، واضح کر دوں جس کلب کا حوالہ دے رہے ہیں، میں نے نہیں دیکھا نہ کوئی اخبار میں خبر پڑھی ہے، مجھے کسی نے بتایا تھا مختصر ، مجھے نہیں علم کہ وہ دو افراد کس خفیہ ادارے سے تھے یا نہیں، جب تک واضح نہ ہو اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا۔ جہاں تک نواز شریف اور ان کے خاندان کا تعلق ہے میرا پہلے دن سے موقف ہے کہ اس وقت ملک میں جمہوریت اور قانون کی بالادستی ہے ان کیسز کا فیصلہ عدالتوں میں ہونا ہے۔

اگر ایک عدالت سے انصاف نہیں ہوا تو دوسری عدالت میں جانا چاہیے۔ عدالتی کیسز کا فیصلہ عدالت کے علاوہ کہیں اور نہیں ہو سکتا۔ مجھے امید ہے کہ عدالت فیصلہ حقائق کی بنیاد پر کر رہی ہے۔ میں آگ پر تیل نہیں ڈالنا چاہتا لیکن میرا موقف رہا ہے کہ کیس عدالت میں لڑنا چاہیے اور عدالت سے کسی قسم کی محاذ آرائی نہیں ہونی چاہیے یہ نواز شریف ‘ پارٹی ‘ ملک اور اداروں کیلئے ٹھیک نہیں ہے۔

آج بھی اس موقف پر قائم ہوں میں نے خواجہ آصف کا بیان اخبار میں پڑھا ہے اس کی تصدیق یا تردید نہیں ہوئی لیکن یہ انتہائی تشویش ناک بیان ہے۔ کسی بھی خود مختار ملک کو اپنے ملک کے اندر جو ائنٹ آپریشن کی نا تو اجازت دے سکتا ہے اور نہ ہی اس قسم کا مشورہ دے سکتا ہے۔ پاکستان ایک نیو کلیئر طاقت اور جمہوریت ہے جس کی دنیا میں پانچ ویں بڑی فوج ہے۔ ہمیں فوج اور خفیہ اداروں کی صلاحیت پر اعتماد ہے۔

اگر ہم کسی اور طاقت کو کہیں کہ ہمارے ملک میں آ کر آپریشن کرے تو یہ باعث شرمندگی ہے۔ اگر انہوں نے نہیں کیا تو اس کی تردید ہونی چاہیے۔ اگر کوئی آپریشن ہوتا ہے تو ہماری افواج خود کریں۔ اگر کسی کو خوش کرناہے تو پھر وہ دو طرفہ ہونا چاہیے۔ اگر پاکستان کے اندر آپریشن ہوتا ہے تو افغانستان کے اندر بھی ہونا چاہیے۔ اگر ہمارے پاس ثبوت ہیں تو افغانستان کے بارے میں ۔ وہاں 12 ہزار غیر ملکی فوجی ہیں جن کی بھی ذمہ داری ہے۔

پاکستان کے اندر آپریشن کر نے کیلئے ہماری افواج تیار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ شیخ رشید کا کوئی قرض نہیں دینا کہ میں ان کی خواہشوں پر اپنی سیاست کو چلاؤں میں نے اپنے طریقے سے سیاست کرنی ہے۔ اپنے ضمیر کے مطابق۔ میرا خیال ہے کہ شیخ رشید صاحب بالغ ہیں۔ میری سیاست کا محور شیخ رشید کی مایوسی نہیں ہے۔ کوئی اصل خطرہ مسلم لیگ (ن) میں نہیں ہے۔ جب میں وزیر داخلہ تھا تو ہم نے ایسے لوگوں کی نشاندہی کی اور گرفتاریاں کیں وہ عدالتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

یہ ہمارے آئین کا حصہ ہے کہ اداروں پر تنقید نہیں ہوئی ۔ اگر عدالتو ں نے فیصلے کرنے ہیں تو ان سے محاذ آرائی نہیں کرنی چاہیے۔ اگر آج انصاف نہیں ملا تو ایک سال بعد مل جائے گا۔ شاہد خاقان عباسی نے بھی اداروں پر تنقید سے روکا کابینہ میں۔ شہباز شریف صاحب بھی کہہ چکے ہیں اس کی خلاف ورزی کیوں ہو رہی ہے یہ دیکھنا حکومت کا کام ہے۔ اپنے گھر کو صاف کرنے سے کسی نے نہیں روکا۔

اس پر بیان بازی کی ضرورت نہیں۔ وزراء بیان بازی کی بجائے کام کریں تو فائدہ مند ہو گا۔ بیان بازی سے امریکہ ‘ انڈیا کے بیانئیے کو تقویت ملے گی۔ یہ کام مت کریں۔ گھوڑا بھی حاضر ہے اور میدان بھی اپنا گھر صاف کریں اور قوم کو بتائیں۔ میرا خیال ہے کہ ثالثی کی ضرورت نہیں ہے۔ پالیسی تو پارٹی قیادت بناتی ہے۔ اداروں سے محاذ آرائی پارٹی پالیسی نہیں ہے۔ اس پر عملدرآمد کرانے کی ضرورت ہے۔

آئی بی کا خط میری معلومات کے مطابق جعلی ہے۔ کوئی مقدمہ تحقیقات سے پہلے درج کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ زرداری صاحب کی بات پر جواب نہیں دینا چاہتا۔ اگر ہر مفروضے پر اظہار خیال کیا جائے تو کتابیں بن جائیں گی۔ مسلم لیگ (ن) میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں بن رہا۔ میں نے ا یک جماعت سے ساری زندگی وفاداری نبھائی ہے۔ میں غلط ہو سکتا ہوں لیکن جو میں سمجھتا ہوں وہ کہتا ہوں۔

2013ء کے پہلے ایک واقعہ بتا دیں کہ میں پارٹی سے ناراض ہو اہوں۔ 2013ء کے بعد دو تین واقعات ہوئے۔ میرا مشورہ سنا جاتھا تھا پہلے بعد میں مجھے خدشات آئے کہ میری صحیح بات کرنے کی عادت کو منفی انداز میں لیا جا رہا ہے۔ میں نواز شریف کے پاس گیا اور کہا کہ وفاداری ہے کہ میں سچ بات کرتا ہوں میری باتوں کو منفی انداز میں لیا جاتا ہے اس لئے میں آئندہ اپنی بات نہیں کروں گا۔

ایک خاص موقع آیا کہ مشاورتی عمل سے مجھے علیحدہ کر دیا گیا یہ بنیادی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جو میرا موقف تھا آج بھی وہی ہے، مسلم لیگ (ن) میں کوئی دو دھڑے نہیں ہیں، سپریم کورٹ کسی بھی ملک کے فیصلے کرتی ہے ہمیں اس سے محاذ آرائی نہیں کرنی چاہیے، اگر کوئی اور راستہ ہے تو مجھے بتایا جائے، پاکستان کی افواج اس جنگ کی صورتحال میں ہیں ہمیں ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

یہ تاثر نہیں دینا چاہیے کہ فوج اور سول قیادت میں کوئی مسئلہ ہے، اگر مسئلہ ہو بھی تو مل بیٹھ کر حل کرنا چاہیے اور یہ حکومت کا کام ہے، ہم پبلک میں کسی پر الزام نہ لگائیں، میں اس موقف پر آج بھی قائم ہوں، جس جماعت کے ساتھ 33سال سے کھڑا ہوں اور جس طریقے س چل رہا ہوں، اس طریقے سے چلوں گا، مشورہ ضرور دوں گا اور کوش شکروں گا کہ جو پارٹی کے بہترین مفاد میں ہے، اس کے مطابق پارٹی کو بتاؤں ،میں اب بھی سیاست کا طالب علم ہوں، مشرف کے دور میں اینٹیں اکھاڑی گئیں۔