بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / نندی پور پاور پلانٹ سے خزانے کو اربوں کا نقصان

نندی پور پاور پلانٹ سے خزانے کو اربوں کا نقصان

اسلام آباد۔پارلیمنٹ کی پبلک اکاونٹس کمیٹی میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ نندی پور پاور پلانٹ سے کم بجلی پیدا ہونے سے 9ارب 12 کروڑ کا نقصان ہوا ۔ جولائی2015 سے جون 2016 کے دوران 1ارب 32 کروڑ 16 لاکھ یونٹ بجلی پیدا کی گئی۔

اس دوران پلانٹ کی پیداواری صلاحیت 2ارب 23 کروڑ 38 لاکھ یونٹ تھی۔ اکیانوے کروڑ اکیس لاکھ یونٹ کم بجلی پیدا ہونے سے نو ارب بارہ کروڑ کا نقصان ہوا،چیئرمین کمیٹی خورشید شاہ نے کہا کہ منصوبے کی لاگت بائیس ارب سے بڑھ چھیاسٹھ ارب کیسے ہو گئی۔کمیٹی نے نندی پور پاور منصوبے کی لاگت میں اضافے کی رپورٹ مانگ لی۔آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کے الیکٹرک وفاق کے 20ارب کا نادہندہ ہے جس پر خورشید شاہ کے الیکٹرک پر برس پڑے اور کہا کہ کے الیکٹرک خود وفاق کا 20 ارب روپے کا نادہندہ ہے۔

کے الیکٹرک کا بل بھرنے میں 3 دن تاخیر ہوتو بجلی کاٹ دی جاتی ہے، کے الیکٹرک نے صارفین کا بیڑا ہی غرق کردیا ہے، مہینے کے آخر میں بل دیتے ہیں اورایک دن میں بل جمع کرانا ہوتا ہے، کے الیکٹرک کا بل کی وصولی میں رویہ ظالمانہ ہے، ایک دن کے تاخیر پر بھاری جرمانہ لیتا ہے، عوام سے سوتیلوں والا سلوک کرتی ہے، کمیٹی نے اگلے اجلاس میں این ٹی ڈی سی سمیت وزارت توانائی سے ٹرانسمیشن کے حوالے سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ طلب کرلی۔

کمیٹی نے لیسکو کی جانب سے 3ارب روپے کی اووربلنگ کے مسئلے کے حل نہ ہونے پر سردار عاشق حسین گوپانگ کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی بنا دی، جس میں راجہ جاوید اخلاص اور صاحبزادہ نذیر سلطان ممبر ہوں گے۔اجلاس میں مظفر گڑھ پاور پلانٹ جو کہ 85میگاواٹ کا تھا اورشاہدرہ پاور پلانٹ 260میگاواٹ کے حوالے سے انکشاف ہوا کہ دونوں پاور پلانٹس بند ہیں،مگر ان پرایک ارب 47کروڑ 66لاکھ روپے سے زائد کے اخراجات ہوئے ہیں،جس پر کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ 2پاور پلانٹس بند پڑے ہیں اور اخراجات ہو رہے ہیں۔

107لوگوں کی تنخواہ بھی ایک ارب نہیں بنتی،ایک ہزار بندوں کی 36مہینوں کی تنخواہ بھی اگر لگائی جائے تو اتنے اخراجات نہیں ہوتے۔ کمیٹی نے ایم ڈی پیپکو کو اس معاملے کی تحقیقات کی ہدایت کر دی،کمیٹی نے وزارت توانائی کے جاری منصوبوں پر تاخیر پر وزارت ترقی و منصوبہ بندی اور کابینہ ڈویژن کو طلب کرلیا، کمیٹی نے تینوں وزارتوں کو مشترکہ بریفنگ دینے کی ہدایت کر دی۔جمعرات کو پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس کمیٹی چیئرمین سید خورشید شاہ کی زیر صدارت ہوا۔

اجلاس میں وزارت توانائی ڈویژن کے مالی سال 2016-17کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزارت توانائی ڈویژن کی بجٹ گرانٹ پر کمیٹی نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک 2012میں شروع ہونے والے منصوبے پر کام کی رفتار سست ہے، پانی کا مسئلہ درپیش ہے، موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والا پاکستان پانچواں ملک ہماری تقدیر کا کیا حال ہو گا، پہلی سہ ماہی کی ریلیز اب تک نہیں ہوئی۔

وزارت خزانہ نے کہا کہ اگست کے مہینے میں وزارتیں علیحدہ ہوئیں، اگر یہ اس سے پہلے لے آتے تو وزارت فنڈز جاری کر دیتی، کمیٹی نے بجٹ گرانٹ پر 15دن میں تفصیلات طلب کرلیں۔ کمیٹی رکن شیری رحمان نے کہا کہ تمام منصوبوں کا یہی حال ہے، سیکرٹری توانائی ایم ڈی جیز کے فنڈزآخر میں جاری ہوتے ہیں،2016میں فنڈز جاری ہوئے اور مالی سال ختم ہونے میں کچھ وقت تھا، کابینہ ڈویژن کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس کو دیکھتے ہیں۔

شیری رحمان نے کہا کہ دیہی علاقوں کے پی سی ون بنانے میں تاخیر برتی جا رہی ہے۔ آڈٹ حکام نے کہا کہ یہ 2015-16کے بجٹ گرانٹ ہے، جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ دو سال میں منصوبوں کے پی سی ون نہیں بنائے گئے، اس سے بڑی کمزوری کیا ہو گی، سیکرٹری توانائی ڈویژن نے کہا کہ 32فیصد کام ایم ڈی جیز پر کام مکمل ہو گیا ہے، تین ہزار آٹھ سو سے زائد سکیمیں ہیں، 3ہزار 156مکمل ہو چکی ہیں۔

711سکیموں پر کام جاری ہیں۔ چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ نے کہا کہ سیکرٹری توانائی کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ اعظم سواتی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے پسماندہ علاقوں کی 6سکیمیں ہیں، ہمیں آج تک مطمئن نہیں کیا جا سکا، کہا گیا تھا کہ مطمئن کریں گے۔ کمیٹی رکن شاہدہ اختر علی نے کہا کہ ایم ڈی جیز کا اسٹیٹس بھی تبدیل ہو رہا ہے اور یہ اس ڈیز جیز رہا ہے، کمیٹی نے وزارت توانائی کے جاری منصوبوں پر تاخیر پر وزارت ترقی و منصوبہ بندی اور کابینہ ڈویژن کو طلب کرلیا، کمیٹی نے تینوں وزارتوں کو مشترکہ بریفنگ دینے کی ہدایت کر دی۔

نیساک کے آڈٹ اعتراضات کے جائزے کے موقع پر کمیٹی نے ایم ڈی نیسپاک کی عدم تعیناتی پر برہمی کا اظہار کر دیا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ ایم ڈی کی پوسٹ کو مشتہر کیا جائے، جس پر وزارت حکام نے کہا کہ یکم اکتوبر کو پوسٹ مشتہر کی گئی ہے۔ کمیٹی رکن شیری رحمان نے نیسپاک کے آڈٹ اعتراضات پر کہا کہ جن کمپنیوں کو ٹینڈر دیا گیا ہے وہ ایک رات کی بریف کیس کمپنیاں ہیں، یہ مشکوک لوگ ہیں جن کو خلاف ضابطہ ٹینڈر دیئے گئے ہیں۔

نیسپاک حکام نے بتایا کہ یہ ٹینڈر ایمرجنسی بنیادوں پر سابق ایم ڈی امجد علی خان نے دیا۔ آڈٹ حکام نے کہا کہ ہمارے پاس جو دستاویزات ہیں، اس کے مطابق ان کے پاس وقت تھا اور نیسپاک اپنے ٹینڈر کو بڑی آسانی سے کنسلٹنسی فرم کو بذریعہ ٹینڈر دے سکتا تھا۔ کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی، اس پر تحقیقات کرے اور ایک ماہ میں رپورٹ کمیٹی کے سامنے لائی جائے۔ کمیٹی اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ قطر میں قائم ریجنل آفس سے کروڑوں روپے وصول نہیں کئے گئے۔

وہاں دفتر بنایا گیا، جس پر نیسپاک حکام نے کہا کہ گزشتہ دس سال سے وہاں دفتر ہے اور پاکستان ایمبیسی سمیت وہاں کی وزارتوں سے بھی ٹھیکے لئے گئے، کمیٹی نے استفسار کیا کہ 10سال میں قطر میں کتنے منصوبے حاصل کئے گئے، جس پر قائمقام ایم ڈی نے بتایا کہ وہاں پر ایئرپورٹ سمیت میونسپل کے ٹھیکے سمیت سیوریج کے کام کی کنسلٹنسی کا کام کیا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔