بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پیپلز پارٹی نے ملک میں معاشی ایمرجنسی لگانے کا مطالبہ کر دیا

پیپلز پارٹی نے ملک میں معاشی ایمرجنسی لگانے کا مطالبہ کر دیا

پشاور۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ جب بھی مسلم لیگ کو حکومت ملی اس نے ملک کو کنگال کیا ٗملک معاشی لحاظ سے کمزور ہو رہا ہے تو کوئی تو ذمے دار ہوگا ٗملک میں معاشی ایمرجنسی لگائی جائے ٗ جب بھی پیپلزپارٹی حکومت میں آئی ایکسپورٹ اور فنانس بڑھی ٗ این اے 120 میں ضمنی الیکشن ہوئے تو لوگوں کو روزگار ملا میاں صاحب کے حلقے میں مریم نوازگئیں تو راتوں رات کام ہوگئے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا اس موقع پر صوبائی صدر انجینئر ہمایون خان اور صوبائی جنرل سیکرٹری فیصل کریم کنڈی بھی موجود تھے آصف علی زرداری نے کہا کہ لوگوں کو سولر سسٹم ٗگیس اور ٹرانسفارمر کی ضرورت ہے میں خوش ہوں کہ دو چار ضمنی انتخابات آجائیں تا کہ غریبوں کو سہولیات ملیں لاہور این اے 120میاں نواز شریف کا حلقہ تھا وہاں چار سال میں کوئی کام نہیں ہوا جیسے الیکشن قریب آیا تو مریم نواز وہاں پہنچیں اور راتوں رات غریبوں کو راستہ اور نوکریاں ملیں۔

این اے 4میں ہمیں اچھے نتائج کی امید ہے انہوں نے ہمارے 11ہزار لوگوں کو نوکری سے نکال دیا تھا وہ نوکریاں ہم نے ہائیکورٹ میں لڑ کر ان سے واپس لی ہیں پی پی کا ہمیشہ یہ منشور رہا ہے روٹی ٗ کپڑا اور مکان ہم جب بھی حکومت میں آتے ہیں لوگوں کو نوکریاں دیتے ہیں ان سے لیتے نہیں ہیں ہمارا وعدہ ہے کہ اگر اللہ تعالی نے ہمیں دوبارہ موقع دیاتو دوبارہ وہی کریں گے جو پہلے کیا ہے ہم دوبارہ نوکریاں دیں گے۔

فاٹا کو کے پی کے کے ساتھ ملا کر اسے ایک صوبہ بنائیں گے جب وہاں رٹ ہو جائے گی تو خانہ جنگی بھی کم ہو جائے گی کے پی کے کے لیے ایک خاص پیکج بنایا جائے گا جب تک یہاں کے نوجوانوں کو روزگار نہیں ملتا اسے کوئی بھی غافل بنا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ روز پرویز خٹک کے گاؤں گئے تھے وہاں نیا پاکستان تو نظر نہیں آیا البتہ کچرے کے ڈھیر ضرور نظر آئے کپتان کی نظر میں سب سے اچھا انسان پرویز خٹک ہے ہم نے پختونوں کو شناخت دی اس دھرتی سے پیار ہے سندھ اب تک ڈیڑھ سو میگاواٹ بجلی دے چکا ہے مگر انہوں نے ایک میگاواٹ بھی نہیں دی پہلے کہتے تھے ہم تین ماہ میں بجلی پوری کر دیں گے۔

پچھلی دفعہ ہماری حکومت نہیں تھی ہم حکومت میں شریک تھے حکومت کسی اور کی تھی بہرحال ہم اس ذمہ داری سے ہم اپنے آپ کو مبرا نہیں کر سکتے اس دفعہ ہم لحاظ نہیں کریں گے جو ترقی کرنی ہے وہ کریں گے ہر جگہ پہنچیں گے اور لوگوں کی خدمت کریں گے ن لیگ حکومت نے بہت قرضہ لے لیا ہے جتنا قرضہ اس نے بڑھا دیا ہے اس کو کسی طرح لوٹانا بھی ہے ہمارے زمانے میں ہمیں کچھ جج صاحب ٹکر گئے تھے میرے وزیر اعظم کو انہوں نے گھر بھیج دیا تھا۔

اس کے باوجود ہم نے صاف شفاف منتقلی کی ہم نے کوئی جلوس نہیں نکالے تھے یوسف رضا گیلانی کو احتجاج کا نہیں کہا تھا یہ ان کا طریقہ ہے یہ مری سے نکلتے ہیں جب اسلام آباد پہنچتے ہیں تو کہتے ہیں لوگ کم ہیں تو رک جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں ہمیں کیوں نکالا ؟ انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیم کیسے جمہوری تنظیم ہو سکتی ہے ہمارے ہاں ایک نیا لیڈر آیا ہے جو بار بار ہاتھ کھڑے کرتا ہے بہرحال ان کو بھی سیاست کا حق ہے مولانا صاحب تو ہمارے ساتھ رہے ہیں ۔

مذہبی جماعتیں تو سیاست میں پہلے سے ہی ہیں اب ایک نئی چیز آرہی ہے میں نہیں سمجھتا یہ ہماری قوم کے لیے اچھا پہلو ہے اب دیکھنا ہے شریف فیملی جیل جاتی ہے یا نہیں جو جدوجہد کرتا ہے اس کو اس کا پھل ملتا ہے واپس آکر جیلوں میں جائیں جدوجہد کریں اپنی پوزیشن بنائیں تو شاید کچھ بن جائے دیکھتے ہیں نواز شریف تکلیفیں برداشت کرتے ہیں یا نہیں ہم نے سوات کی جنگ کی آئی ڈی پیز کو سنبھالا وزیر ستان سے شرپسندوں کو بھگایا ہم ایک جنگ کی حالت میں تھے ۔

اس وقت حالات ایسے نہیں تھے جو آج ہیں آج فاٹا کو ساتھ ملانے کا وقت ہے سابق صدر نے کہا کہ ہمیں خطرات تو شروع سے ہی رہے ہیں تین جنگیں ہوئی ہیں خطرات تو ہیں ان خطرات کو سامنے رکھتے ہوئے بھی ملک کو چلانا ہے انہوں نے کہا کہ پی پی نے فاٹا کو سپریم کورٹ کے ماتحت لانے کا مطالبہ کیا تھابی بی جیل میں تھیں تو نعرہ تھا پی پی دوبارہ نہیں آئے گی مگر سب نے دیکھا وہ آئی۔