بریکنگ نیوز
Home / شوبز / کون بنے گا کروڑ پتی کے ’’کمپیوٹر جی‘‘ کا راز کھل گیا

کون بنے گا کروڑ پتی کے ’’کمپیوٹر جی‘‘ کا راز کھل گیا

ممبئی: بھارتی ٹی وی کے مقبول ترین شو ’’کون بنے گا کروڑ پتی‘‘کے بارے میں شو کے سابق کھلاڑی نے ایک ایسا انکشاف کردیا ہے جسے آج تک امیتابھ سمیت شو کی پوری ٹیم نے لوگوں سے خفیہ رکھا ہواتھا۔

امیتابھ بچن کون بنے گا کروڑ پتی کے ذریعے گزشتہ کئی سالوں سے عوام کے دلوں پر راج کررہے ہیں؛فوٹوفائل

’’کون بنے گا کروڑ پتی‘‘گزشتہ 8 سیزن سے بھارت سمیت دنیا بھر کے لوگوں کا پسندیدہ ترین شو ہے، پروگرام کی مقبولیت میں بالی ووڈ کے بگ بی اور شو کے میزبان امیتابھ بچن کا بھی بہت بڑاہاتھ ہے، امیتابھ جب اپنے مخصوص انداز میں کہتے ہیں ’’کمپیوٹر جی لاک کیا جائے‘‘ تو لوگ ان کے دیوانے ہوجاتے ہیں اور ایسا لگتا ہے امیتابھ کے سامنے موجود کمپیوٹر کوئی مشین نہیں بلکہ جیتا جاگتا انسان ہے جو امیتابھ بچن کی تمام باتیں نہ صرف بغور سنتا ہے بلکہ ان کی تمام باتیں مانتا بھی ہے لیکن کیا یہ واقعی سچ ہے، اس بارے میں شو کے سابق کھلاڑی نے راز کھول دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ابھینو پانڈے نے امیتابھ بچن کے ’’کمپیوٹر جی‘‘ کے کچھ راز کھولے ہیں جو آج تک کبھی منظر عام پر نہیں آئے، ابھینو نے کہا کہ وہ کے بی سی کی ہاٹ سیٹ پر بیٹھنے سے پہلے کھیلا جانے والا ایک اور گیم ’’فاسٹر فنگر‘‘ میں امیتابھ بچن کی سیٹ کے بالکل پیچھے بیٹھے تھے اور ان کا دھیان شو کے ساتھ باقی تمام چیزوں پر بھی تھا۔ امیتابھ کے کمپیوٹر جی میں ایک کالے رنگ کا زون ہوتا ہے جس کے ذریعہ دونوں کمپیوٹر یعنی امیتابھ کا اور ان کے سامنے بیٹھے شخص کاکمپیوٹر آپریٹ ہورہا ہوتا ہے اس کے علاوہ اس زون میں پورے شو کا مواد تحریر ہوتا ہے۔

ابھینو کا کہنا ہے کہ امیتابھ کی جانب سے پوچھے گئے تمام سوالات ان کے آپشنز، صحیح جواب، جیتے ہوئے پیسوں کی فہرست اس کے علاوہ سامنے بیٹھے شخص کی کتنی لائف لائن ختم ہوچکی ہیں اور کتنی باقی ہیں یہ سب کچھ ان کے کمپیوٹر میں موجود ہوتا ہے۔اس کے ساتھ ہی کھلاڑی کی تمام تفصیلات بھی امیتابھ  کے کپمیوٹر جی میں ایک طرف آرہی ہوتی ہیں یہاں تک کہ اس کی نوکری، رہائش ہر چیز اسکرین پر موجود ہوتی ہے۔جسے دیکھ کر وہ کپمیوٹر کو ہدایات جاری کرتے ہیں اور ہمیں ایسا لگتا ہے جیسے وہ کمپیوٹر جی سے براہ راست بات کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ ابھینو پانڈے نے شو میں 12 لاکھ 50 ہزار روپے کی رقم جیتی تھی۔