بریکنگ نیوز
Home / کالم / بلا تفریق احتساب

بلا تفریق احتساب

موجودہ حالات میں نیب جیسے ادارے کے چیئرمین کا منصب پھولوں کا ہار نہیں بلکہ کانٹوں کی سیج ہے اردو زبان میں دوکہاوتیں ہم معنی ہیں اولاً یہ کہ دودھ کا جلا چاچھ بھی پھونک کرپیتا ہے اور ثانیاً سانپ کا ڈسا رسی سے بھی ڈرتا ہے ماضی میں بھی قومی اسمبلی میں قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف نے بطور چیئرمین نیب ایسے شخص کا انتخاب کیا تھا جس نے حتی الوسع کوشش کی کہ پی پی پی اور (ن) لیگ کے بعض رہنماؤں کیخلاف میگا کرپشن مقدمات کولڈ سٹوریج میں ہی پڑے رہیں یہی وجہ تھی کہ جب سابق چیئرمین نیب کی ملازمت کی میعاد ختم ہونے لگی تو ان کے جانشین کے انتخاب کے طریقہ کار پر کافی لے دے ہوئی کیونکہ اسے بھی انہی سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً انہی لوگوں نے چننا تھا جنہوں نے دس اکتوبر 2017ء کو ریٹائر ہونے والے چیئرمین نیب کو منتخب کیا تھا اور جو عوامی توقعات پر پورا نہ اترا تھا خدا کرے نیب کے نئے چیئرمین عوامی توقعات پر پورا اتریں عوامی توقعات کیا ہیں؟ قوم ان سے یہ توقع بھی رکھتی ہے کہ وہ نیب کی عدالتوں کو تین ماہ کا ٹارگٹ دیں گے کہ دن رات کاروائی کرکے وہ اس عرصے میں ان کا فیصلہ بھی کردیں ٹائم فریم اس لئے اہم ہے کہ شنید یہ ہے کہ ان مقدمات میں ملوث لوگوں کے چونکہ لمبے ہاتھ ہیں وہ اس کوشش میں مصروف ہیں کہ فی الفور پارلیمنٹ کے ذریعے نیب کا قانون بدل کر اس کے منہ سے سارے دانت نکال دیں اور ایک ایسا نیا پھس پھسا نیب آرڈی نینس لے آئیں کہ جس کی رو سے وہ تمام بڑے بڑے کرپٹ لوگ جو ملکی خزانہ لوٹ کر باہر لے گئے ہیں ۔

وہ بچ جائیں اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ اس ملک اور قوم کی انتہائی بدقسمتی ہوگی چنانچہ وقت کم ہے اور مقابلہ سخت‘ نئے چیئرمین نیب کو خدا نے نادر موقع فراہم کیا ہے کہ وہ دلیری اور غیر جانبداری سے اپنے فرائض سرانجام دے کر عدالتی دنیا میں اپنے لئے ایک منفرد مقام بنالیں ایک ایسا مقام کہ جسے دنیا یاد رکھے اس قوم کی اس سے زیادہ بڑی خدمت بھلا اور کیا ہوگی کہ ان کی کوشش سے اس قوم کا لوٹا ہوا مال باہر سے ملک واپس آجائے گاجب تک کرپٹ عناصر کو تختہ دار پر نہیں لٹکایا جائے گا ‘اس ملک سے کرپشن کا خاتمہ ناممکن ہے چین میں کچھ عرصے سے اس قسم کے مجرموں کو پھانسی دی جارہی ہے علاؤالدین خلجی کی بادشاہت کے دوران اسے یہ اطلاع پہنچی کہ دلی کے دکان دار اشیائے خوردنی فروخت کرتے وقت تولنے میں ڈنڈی مارتے ہیں اور کم تولتے ہیں تواس نے حکم دیا کہ جو بھی کم تولتے پکڑا گیا اس کے جسم سے اس قدر گوشت کاٹ لیا جائے گاکہ جتنا اس نے کم تولا ہو ایک دن دلی کے دوقصابوں کے جسم سے بادشاہت کے سپاہیوں نے اس قدر گوشت کاٹ ڈالا کہ جتنا انہوں نے گاہکوں پر گوشت فروخت کرتے وقت کم تولا تھا کہتے ہیں ۔

اس واقعہ کے بعد دوبارہ علاؤ الدین خلجی کے دور حکومت میں پھر کسی دکاندار کو سودا سلف فروخت کرتے وقت کسی چیز کو کم تولنے کی جرأت نہ ہوئی ایک محاورہ ہے کہ ڈنڈا علاج ہے تگڑے تگڑے لوگوں کا‘ نیب کی عدالتوں کو اب ڈنڈے سے کام لینا ہوگا اس قسم کے کرپٹ لوگوں کو قانونی موشگافیوں کے ذریعے عدالتوں سے چھڑانا ہمارے بعض قابل احترام وکلاء کیلئے کوئی قابل قدر کام نہیں اسلئے بہتر ہے کہ وہ انکے مقدمات کی پیروی نہ ہی کریں تو بہتر ہے آپ نے یہ بات بھی ضرور نوٹ کی ہوگی کہ ہرایساملزم جب کسی مقدمے میں ضمانت حاصل کرکے عدالت سے باہر آتا ہے تو ٹیلی ویژن کے سامنے آکر اپنی دو انگلیوں سے وکٹری کا سائن بناتا ہے بھئی یہ سائن اگر سرونسٹن چرچل نے بنایا تھا تو ان کو زیب دیتا تھا کہ انہوں نے دوسری عالمگیر جنگ جیتی تھی ہر نتھو خیرے کو ہرگز یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اس قسم کا سائن بنائے۔