بریکنگ نیوز
Home / کالم / تلخ یادیں!

تلخ یادیں!

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں تلخ و شیریں واقعات کے الگ الگ ابواب ہیں۔ بارہ اکتوبر کا دن 1999ء کے اس ماورائے آئین اقدام کی یاد تازہ کرتا ہے جب میاں نوازشریف کی منتخب حکومت اور اسمبلیوں کو برطرف کر کے آمریت مسلط کی گئی اور ایک منتخب وزیراعظم کو بے دست و پا کر کے ان کے اہلخانہ اور وزیراعظم ہاؤس میں موجود ساتھیوں سمیت حراست میں لیا گیا اور انہیں قید تنہائی میں ڈال کر ان کیخلاف طیارہ ہائی جیکنگ کا کیس درج کیا گیا جس میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے ذریعے انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی یہ ماورائے آئین اقدام اس لئے کیا گیا کہ ملک کے منتخب وزیراعظم نے اپنے صوابدیدی اختیار کے تحت جنرل پرویز مشرف کو چیف آف آرمی سٹاف کے منصب سے برطرف کر کے ان کی جگہ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل ضیا الدین بٹ کو چیف آف آرمی سٹاف تعینات کر دیا تھا انکے تقرر کا نوٹیفیکیشن جاری ہوتے ہی ایک فوجی دستے نے وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد پر دھاوا بول دیا اور سرکاری ٹیلی ویژن کو بھی اپنے کنٹرول میں لے لیا جنرل مشرف اس وقت سری لنکا کے سرکاری دورے پر تھے اور ملک کے منتخب وزیراعظم کو وزیراعظم ہاؤس سے حراست میں لینے کے جرنیلی اقدام کے وقت ملک واپسی کے لئے پرواز کر رہے تھے جن کا جہاز کراچی ائرپورٹ پر اتارا گیا اور جہاز سے باہر آتے ہی مشرف نے یہ کیس بنایا کہ وزیراعظم میاں نواز شریف کے حکم پر ان کا جہاز ہائی جیک کر کے اسے سکھر ائرپورٹ یا کسی خلیجی ریاست میں لے جانے کی کوشش کی گئی حالانکہ وزیراعظم اسوقت حراست میں لئے جا چکے تھے اور وزیراعظم ہاؤس کی ٹیلی فون لائنیں کاٹ کر ان کے تمام رابطے منقطع کئے جا چکے تھے۔

مشرف نے ملک واپس آتے ہی ملک کے چیف ایگزیکٹو کا منصب سنبھال لیا اور پہلے احتساب‘ پھر انتخاب کا نعرہ لگا کر اپنی یک و تنہاء آمریت مسلط کر دی۔ پاکستان کی اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ بانی پاکستان قائداعظمؒ کی جمہوری جدوجہد کے نتیجہ میں جمہوریت کی عملداری کے لئے تشکیل پانیوالے اس ملک خداداد میں جرنیلی آمروں نے‘ مفاد پرست سیاستدانوں‘ جاگیرداروں سے گٹھ جوڑ کر کے اس جمہوریت کو نقب لگانے کی منصوبہ بندی کی جسکی بنیاد پر اور جس کی خاطر اس ارض وطن کا وجود قائم ہوا تھا چنانچہ ایوب خان سے مشرف تک کے چار مارشل لاء ادوار اور جرنیلی آمریتوں نے وطن عزیز کے بتیس سال آمریت کی بھینٹ چڑھا کر ضائع کر دیئے جس کے باعث جمہوری اقدار کی کونپلیں پھوٹنے نہ دینے کا بھی شدومد کے ساتھ اہتمام کیا گیا اور آٹھ دس سال تک یک و تنہاء حکمرانی کا شوق پورا کرتے رہے جس کے دوران انہوں نے جمہوریت کا دم بھرنے والے سیاستدانوں اور سیاسی کارکنوں کو قید‘ قلعہ بندی‘ کوڑوں اور موت کی سزاؤں کیساتھ سلطانی جمہور کو پابند سلاسل رکھنے کے ہتھکنڈے اختیار کئے اور جمہوریت کے مقابل خود کو قوم کے مسیحا کے طور پر پیش کرتے رہے جبکہ ملک کا دولخت اور قومی ترقی کا پہیہ جامد ہونا‘ امریکی غلامی کے باعث ملکی سلامتی اور قومی غیرت و حمیت کو بٹہ لگنا ان جرنیلی آمریتوں کا شاخسانہ ہے جسکے دوران ہرممکن کوشش کی جاتی رہی کہ پٹڑی سے اتاری گئی جمہوریت کو ٹریک پر واپس نہ آنے دیا جائے۔ آمروں نے بنیادی جمہوریت اور عوام کو دہلیز تک اقتدار کے ثمرات پہنچانے جیسے بلدیاتی نظام لا کر بھی جمہوریت کی عوام میں موجود جڑیں کاٹنے کی کوشش کی اور انہیں جمہوریت اور اس سے وابستہ سیاستدانوں سے متنفر کرنے کے لئے جمہوری نظام کیخلاف پروپیگنڈے بھی کئے جاتے رہے۔

ان کے ایسے اقدامات سے جرنیلی آمریت کی چھتری کے نیچے پرورش پانے والے سیاستدانوں کی کھیپ تو ضرور تیار ہوئی تاہم عوام کے دلوں سے جمہوریت کیساتھ وابستگی والے جذبے کو نہ نکالا جا سکا۔اسی تناظر میں قوم ضیاء الحق کے جمہوریت کی بساط الٹانے والے پانچ جولائی 1977ء کے اقدام کے خلاف گزشتہ چالیس سال سے یوم سیاہ منا کر جرنیلی آمریتوں سے نفرت کا اظہار کر رہی ہے اور اسی طرح جنرل مشرف کے بارہ اکتوبر 1999ء کے اٹھارہ سال قبل والے ماورائے آئین جرنیلی اقدام کو بھی ہر سال قابل نفرت اقدام کے طور پر یاد کیا جاتا ہے اور جمہوری قوتیں آئندہ ایسے سیاہ اقدامات سے بچنے کے لئے ماضی جیسی غلطیوں کا اعادہ نہ ہونے دینے کے عزم کا اظہار کرتی ہیں۔بدقسمتی سے منتخب جمہوری حکمرانوں کے معاملات بھی کچھ ایسے نہیں رہے کہ وہ جمہوریت کی گاڑی کو سبک خرامی سے چلائے رکھنے اور سسٹم کو مستحکم کرنے کا باعث بنتے بلکہ ضیاء الحق اور پرویز مشرف کی جرنیلی آمریتوں کے لئے تو اس وقت کے جمہوری حکمرانوں کے نادر شاہی طرز حکمرانی کو جواز بنایا جاتا ہے اور ان کی اداروں کے ساتھ ٹکراؤ والی پالیسیوں کو طالع آزما جرنیلوں کے لئے ماورائے آئین اقدام کے مواقع پیدا کرنے سے تعبیر کیا جاتا ہے تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ جمہوریت کو شروع دن سے ہی چلنے نہ دینے کی سازشیں ہی جمہوریت کی بساط الٹانے پر منتج ہوتی رہی ہیں۔ اگر آج کے حالات کا ماضی کے ماورائے آئین اقدام والے حالات کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو آج بھی اسی طرح منتخب جمہوری نظام کی بساط لپیٹے جانے کی سازشیں نمایاں ہوتی نظرآرہی ہیں جن کے ماتحت منتخب جمہوری حکومت کو بے بس کر کے چلنے نہ دینے کی فضا ہموار کی جا رہی ہے۔
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: سیّد جمیل قاضی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)