بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / قومی اداروں کی حالت

قومی اداروں کی حالت

وزیر اعظم کے مشیر ہوا بازی سردار مہتاب کے الفاظ کہ’ قومی ائیر لائن ٹائی ٹینک بن چکی ہے ‘ دراصل قوم کو یہ بتا رہے ہیں کہ جس طرح ٹائی ٹینک نامی معروف سمند ری جہاز ایک برفانی تودے سے ٹکرانے کے نتیجے میں ڈوب گیا تھا اسی طرح پی آئی اے کا مسلسل معاشی بحران اور شدید مالی خسارے کا شکاررہنااسے غرقابی سے دوچار کر سکتا ہے‘باالفاظ دیگر اگر پی آئی اے کو حالیہ خسارے جو چار ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے سے نکالنے اور اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کیلئے نتیجہ خیز حکمت عملی کے تحت آگے نہیں بڑھا جا تا تو یہ ادارہ مکمل تباہی سے نہیں بچ سکتا ‘پی آئی اے کے ماضی پر نظر ڈالی جائے تو ایک وقت تھا جب اس کا شمار دنیا کی چند بڑی اور تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ائیر لائنز میں ہوتا تھالیکن جس طرح ملک کے کئی دیگر اداروں نے وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کے بجائے تنزلی کا سفر طے کیا ہے اسی طرح پی آئی اے کے حصے میں بھی ترقی معکوس آئی ہے جس کی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ مختلف ادوار میں برسراقتدار رہنے والے حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں سے جڑے عوامل ہیں‘ان عوامل میں ویسے توسرکاری اداروں کے سربراہان کی خلاف میرٹ تقرریاں انہیں حاصل اختیارات کا ناجائز استعمال ‘ قومی اداروں کے مالی وانتظامی امور بجٹ تقاضوں کے مطابق چلانے کے بجائے بد انتظامیوں کے نتیجے میں ایک مد کیلئے مختص رقوم کا دوسری مدآت کے تحت خرچ ‘جعلی بلوں کے ذریعے بھاری رقوم کا جیبوں میں چلے جانا اوراوپر سے لے کر نیچے تک ہونیوالی مختلف النوع بدعنوانیاں بھی شامل ہیں ۔

لیکن سب سے بڑھ کرجو روش قومی اداروں خصوصاً’’ کارپوریشنز‘‘کی بربادی میں کار فرماملتی ہے وہ گنجائش اور ضرورت سے زیادہ بھرتیاں ہیں سرکاری محکموں کے مقابلے میں کارپوریشنزمیں بھرتیاں خصوصاً کنٹریکٹ تعیناتیاں ہمیشہ نسبتاً آسان رہی ہیں اسلئے اثرو رسوخ ‘اقرباء پروری اور نذرانوں کی بنیاد پر ہونیوالی بھرتیوں کا زیادہ بوجھ کارپوریشنز ہی کو اٹھانا پڑا ہے ۔پاکستان کا کوئی بھی خود مختار ادارہ ایسا نہیں جس میں ملازمین کی تعداد ادارے کیلئے قانونی طور پر منظور شدہ آسامیوں کی تعداد سے ہم آہنگ ہو بلکہ ہر کارپوریشن میں منظور شدہ آسامیوں کی تعدادکے مقابلے میں ہزاروں اضافی ملازمین بھرتی کئے گئے پی آئی اے کو اس حال جس کا ذکر سردار مہتا ب نے کیا ہے تک پہنچانے کی بڑی وجہ بھی خلاف میرٹ تقرریوں ہی کو قرار دیا جاتا ہے‘نیب ریفرنسز کا سامنا کرنے والے سابق وفاقی وزیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم کے خلاف چارج شیٹ میں شامل اس الزام کو کہ انھوں نے پی پی پی دور حکومت میں سوئی سدرن گیس کمپنی میں ڈھائی ہزار غیر قانونی بھرتیاں کیں بھی قومی اداروں میں ہونے والی غیر ضروری بھرتیوں کے حوالے کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے ۔

پاکستان سٹیل ملز کو درپیش بحران کی وجوہات میں بھی یہی روش کافی نمایاں نظر آتی ہے‘ خیبر پختونخوا میں ورکرز ویلفےئر بورڈکے ملازمین کو درپیش مسائل کے پس پشت بھی یہی معاملہ کا رفرما ہے الغرض شاید ہی کوئی ایسا قومی خود مختار و نیم خود مختار ادارہ ہوگاجس کی بنیادوں کو خلاف میرٹ اضافی بھرتیوں کے بوجھ نے کمزور نہ کیا ہو ۔ عزیزوں‘رشتہ داروں‘پارٹی ورکرزاورووٹرزکو سفارش پرخلاف میرٹ بھرتی کرتے ہوئے یا پھر بالائی آمدنی کے حصول کی غرض سے تعیناتیاں عمل میں لاتے وقت با اثر سیاسی و سرکار ی شخصیات نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت گوارہ نہیں کی کہ وہ ان سرکاری اداروں پر جو بوجھ ڈال رہے ہیں اس کے نیچے دب کر اداروں کے وجود کا برقرار رہنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جائیگانتائج کی جانب سے آنکھیں بند کر کے تسلسل کیساتھ سرکاری اداروں پر ڈالے جانے والے غیر ضروری اور اضافی بوجھ ہی کا نتیجہ ہے کہ متعدد سرکاری کارپوریشنز سے وابستہ ملازمین کو تنخواہوں کی بروقت ادائیگی نہیں ہو پاتی جبکہ ایسے کئی اداروں میں تنخواہوں سے ہٹ کر الاؤنسز کی ادائیگی کی صورتحال اس سے بھی زیادہ مخدوش ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ان اداروں کے ملازمین کو اپنی تنخواہوں اور الاؤنسز کی وصولی کیلئے احتجاج تک کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ پی آئی اے اور ان دیگر اداروں کو جو بحرانوں کی لپیٹ میں ہیں ’کرائسز‘ سے نکالنے اور پھر سے پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے موجودہ حکومت نے جس حکمت عملی کا تعین کیا ہے اس پر عمل درآمد کی رفتار سست ہے۔ اس سلسلے میں تیزی سے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے جن میں سے ایک عمل یہ بھی ہے کہ مذکورہ اداروں میں گنجائش اور ضرورت سے زیادہ ملازمین کی تعداد کاتعین کیا جائے اور پھر نہ صرف اس انداز میں ان اداروں سے ملازمین کا اضافی بوجھ کم کیا جائے کہ انکی ماہانہ آمدن متاثر نہ ہو بلکہ آئندہ کیلئے غیر ضروری خلاف میرٹ بھرتیوں کا راستہ بھی بند کیا جائے۔