بریکنگ نیوز
Home / کالم / اساتذہ کے مسائل

اساتذہ کے مسائل

ہم نے ہمیشہ دلائل اور اپنے تجربے سے لکھا ہے کہ حکومتوں کو اساتذہ کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا چاہئے۔اس میں شک نہیں کہ اساتذہ کے مسائل کو کبھی کسی بھی حکومت نے سنجیدگی سے نہیں لیا جبکہ سب کو معلوم ہے کہ جب بھی اساتذہ اور طلباء سڑکوں پر نکلے تو پھر کوئی بھی حکومت اپنا وجودقائم نہیں رکھ سکی اور نتیجہ مارشل لا ء نکلا ہے یا حکومت کی برطرفی ہوئی ہے۔ ان سابقہ مثالوں کو دیکھتے ہوئے بھی حکومتیں کوئی سبق حاصل نہیں کرتیں اور اسی طرح اساتذہ کو تنگ کیا جاتا ہے جسکی وجہ سے طلباء کا اور قوم کا وقت ضائع ہوتا ہے۔کے پی میں اشتہاروں کی حد تک ہمیں تعلیم اور صحت کے شعبے ساتویں آسمان پر نظر آتے ہیں مگر حالت یہ ہے کہ اساتذہ اپنے صوبے کی حکومت کے سامنے رو ر و کر تھکے ہیں اور آخر کار اُن کو عمران خان کے گھر کا رخ کرنا پڑا ہے اور بنی گالا میں عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دینا پڑا۔اساتذہ کے مسائل اتنے بڑے بھی نہیں ہیں کہ کوئی حکومت ان کو حل نہ کر پائے مگر جب شوق صرف اشتہاروں کی حد تک ہو اور زمینی حقائق سے منہ چھپایا جائے تو مسائل حل نہیں ہوا کرتے‘ ان میں اضافہ ہو ا کرتا ہے اساتذہ کی وطن دوستی کا یہ حال ہے کہ باوجود اپنے مسائل کے وہ اپنے بچوں کو سڑکوں پر آنے سے منع کرتے ہیں حالانکہ یہ وہ فورس ہے کہ ایک دفعہ اس کو کھلا چھوڑا جائے تو پھر حکومت کی ساری مشینری فیل ہو جایا کرتی ہے اور ماضی اس کا گواہ ہے۔ ایوب خان جیسی دبنگ حکومت بھی جب طلبا ء کے مقابل آئی تو اُس کا نام و نشاں مٹ گیا۔ اسلئے کہ طلباء جانتے ، سمجھتے اور قوتوں کے سامنے سینہ سپر ہونے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیںیہ وہ مخلوق ہے کہ جسے چار دیواری کے اندر ہی بند رکھنا کسی حکومت کی کامیابی کا مظہر ہے ورنہ اگر یہ اپنی چار دیواری سے ایک دفعہ باہر نکلے تو ان کو دوبارہ کوئی بھی حکومت اس چار دیواری کے اندر بند نہیں کر سکی اور اسے خود گھر جانا پڑا ہے۔

اساتذہ اگر سڑکوں پر ہوں گے تو طلباء کب تک ان کی واپسی کی امید میں بیٹھے رہیں گے آخر کار ان کو بھی باہرآنا ہی پڑیگا خدا نہ کرے کہ ایسا ہو اسلئے حکو مت کو اشتہار بازی سے باہر نکل کر حقیقت کی دنیا میں آنا چاہئے اور اساتذہ کے مسائل حل کرنے چاہئیں‘ اگر اساتذہ اور طلباء اپنے اداروں کی پرائیواٹائزیشن نہیں چاہتے تو ان کو کیوں اس پر مجبور کیا جا رہا ہے اور کنٹریکٹ بھرتیوں سے کب تک کام چلایا جاتا رہے گا۔ تعلیم ٹھیکوں پر نہیں چل سکتی جب تک آپ استاد کو مطمئن نہیں کریں گے تب تک تعلیم کا حصول ممکن ہی نہیں ہو گا۔اگر آپ اساتذہ کو ٹھیکے پر رکھیں گے تو ظاہر ہے اُس سے آپ اُس دل جمعی کی امید نہیں رکھ سکتے کہ جس کی ایک استاد کو کلاس میں ضرورت ہے اگر استاد کے سر پر اخراج کی تلوار لٹکتی رہے گی اُس سے کام کی توقع عبث ہے ہم یہ نہیں سمجھ سکے کہ کون سے افلاطون اس حکومت میں آ گئے ہیں کہ جو استاد کو کنٹریکٹ پر رکھنے کی بات کر رہے ہیں اور اس حکومت کو اپنے فرض سے دور کر رہے ہیں اس لئے کہ اپنے عوام کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ہر حکومت کا بنیادی فرض ہوتا ہے جو حکومتیں اپنے اس بنیادی فرض سے بھاگتی ہیں ان کو حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ہاں اگر سازش یہ ہے کہ صرف ایلیٹ کلاس کے ہی بچے تعلیم حاصل کریں ۔

تو وہ الگ بات ہے اسلئے کہ حکومتیں جتنا ان اداروں پر خرچ کرتی ہیں کہ جن میں ان کے بچے پڑھتے ہیں اتنا ان اداروں پر بھی خرچ کریں کہ جن میں عام آدمی کا بچہ پڑھتا ہے تو شاید ان کو شک ہو کہ ان کے بچوں سے عام آدمی کا بچہ آگے نکل جائے گا تو بات الگ ہے اور نظر یہی آتا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ عام پاکستانی کا بچہ ہمیشہ بڑوں کی اولاد کا مطیع ہی رہے۔ مگر ایک بات کو نظر میں رکھنا چاہئے کہ آج کا دور ایسا نہیں ہے کہ کوئی اپنی خواہشوں کو دوسروں پر تا دیر مسلط رکھ سکے۔ یہ میڈیا کا دور ہے اور پل پل کی خبریں اور حالات پر تبصرے عام آدمی تک بھی پہنچ رہے ہیں اور یہی اس بات کو ثبوت ہے کہ کوئی بھی حکومت کوئی قانون عوام سے چھپا کر اُن پر مسلط نہیں کر سکتی۔ہم نے ایک عمر تعلیم کے شعبے میں گزاری ہے اورہم یہ پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ جب تک استاد اس ملک میں مطمئن نہیں ہو گا توآپ ملک کی ترقی کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے اگر استاد ہر وقت روٹی روزی اور اپنے بچوں کے کپڑے لتے اور خواہشات میں گھر ا رہے گا تو و ہ اپنے طلباء کو وہ توجہ نہیں دے پائے گا جس کی طلباء کو ضرورت ہے ۔ اس لئے استاد کو معاشی طور پر مستحکم کر کے ہی ترقی کی جا سکتی ہے ورنہ یہ بھڑوں کا چھتہ ہے اس میں ہاتھ ڈالا گیا تو سلامتی ممکن نہیں ہو گی۔