بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / ادھورے کام!

ادھورے کام!

صرف نیت اور بیانات ہی کافی نہیں ہوتے بلکہ عملی اقدامات کا ہونا بھی ازبس ضروری ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت نے اسی ضرورت کے پیش نظر تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ کیا اور چار سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد صوبے کے تعلیمی منظرنامے کو اس حد تک تبدیل کر کے رکھ دیا گیا ہے کہ اس میں اساتذہ کی بھرتیاں بناء اہلیت ممکن نہیں رہیں‘ بائیومیٹرک کے ذریعے اساتذہ کی حاضری یقینی بنا دی گئی ہے۔ سرکاری سکولوں کے نتائج بہتر بنانے کے لئے محکمانہ ترقیاتی اور تعیناتیاں کارکردگی کی بنیاد پر ہوتی ہیں۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات و ضروریات کی فراہمی اور طلباء و طالبات کی تعداد پر نظر کے لئے الگ سے مانیٹرنگ یونٹ قائم کر دیا گیا ہے۔ ماڈل سکول اور تدریسی عملے کی تربیت کا اہتمام کرنے سمیت سرکاری تعلیمی اداروں سے منسلک اساتذہ کی تنخواہوں اور دیگر مراعات میں اس حد تک اضافہ کرنا خوش آئند تھا کہ اساتذہ یک سوئی سے اپنی تمام تر توجہات صرف اور صرف تعلیم پر مرکوز رکھیں لیکن کیا ایسا ہوسکا؟ سرکاری سکولوں میں جدید عصری علوم متعارف کرانے کے علاوہ طلباء و طالبات کے لئے ہم نصابی سرگرمیاں اور بالخصوص کھیلنے کودنے کے مواقع فراہم کئے گئے ہیں اور ان جیسے بہت سی دیگر اصلاحات کا نتیجہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ خیبرپختونخوا میں چار سال قبل قریب پچیس لاکھ بچے سکول نہیں جاتے تھے لیکن اب یہ تعداد کم ہو کرپندرہ لاکھ رہ گئی ہے!تعلیمی اداروں کی سرکاری سرپرستی میں اضافہ اور سکولوں سے استفادہ نہ کرنے والے بچوں کی تعداد معلوم کرنے کیلئے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ پولیسی سائنسز سے معاہدہ کیا ہے‘ جس کے تحت ایسے بچوں کیلئے شام کے اوقات میں تعلیم کا خصوصی بندوبست کیا جائیگا جو دو وجوہات کی بناء پر سکول نہیں جا سکتے۔

پہلی وجہ غربت ہے کہ جس کے باعث اس بات کو ترجیح دی جاتی ہے کہ بچوں کوطالب علم کی بجائے ہنرمند بنایا جائے اور بچے بچیوں کی سکولوں سے استفادہ نہ کرنیکی دوسری وجہ یہ ہے کہ سرکاری تعلیمی ادارے انکی رہائشگاہوں سے فاصلے پر ہوتے ہیں خیبر پختونخوا میں متعارف کی گئی نئی حکمت عملی ’سسٹین ایبل ٹرانزیشن اینڈ ری ٹینشن اِن ڈیلیورنگ ایجوکیشن المعروف STRIDE کے ذریعے ان سبھی محرکات کا جائزہ اور ان کمی یا کوتاہیوں کو دور کرنے کی ٹھان لی گئی ہے‘ کہ جن کی وجہ سے باوجود مفت کتابیں‘ یونیفارم اور حتیٰ کہ ہر ماہ ایک خاص رقم کی ادائیگی کے باوجود بھی سکولوں اور بچوں کے درمیان فاصلے موجود ہیں!اس حکمت عملی سے بالخصوص لڑکیوں کو فائدہ ہوگا جنہیں سرکاری سکولوں کے دور اور آمدورفت کے حسب ضرورت وسائل و بااعتماد ذرائع نہ ہونیکی وجہ سے چاردیواریوں تک محدود کر دیا جاتا ہے خیبرپختونخوا کے تمام سرکاری سکولوں میں پک اینڈ ڈراپ کی سہولت کی فراہمی فی الوقت زیرغور نہیں لیکن STRIDE نامی حکمت عملی کے تحت ایسی بچیوں اور طالبات کو آمدورفت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی جو محض سکولوں یا اعلیٰ تعلیم کے اداروں سے دوری کی وجہ سے درسی سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکتیں۔

‘ اس حکمت عملی کا آغاز تجرباتی طور پر خیبرپختونخوا کے ’دو اضلاع‘ صوابی اور کوہاٹ میں کیا گیا ہے جہاں 30 پرائمری اور مڈل سکولوں میں نہ صرف شام کی کلاسز شروع کی جائیں گی بلکہ انہیں آمدورفت کے لئے ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی دی جائیگی بہرکیف قابل ذکر ہے کہ خیبرپختونخوا سرکاری سکولوں میں زیرتعلیم ہر طالب علم پر سالانہ 3 ہزار 110 روپے خرچ کر رہی ہے جبکہ اس نئے منصوبے کے تحت فی طالب علم آنے والی لاگت میں سالانہ 925 روپے فی طالب علم کا اضافہ ہو جائے گا ابتدائی طور پر ایک ہزار طالب علموں میں چارسو بچیوں کو چنا جائیگا۔ شام کی کلاسز کے لئے 103 اساتذہ کی خدمات سے استفادہ کرتے ہوئے 43 خواتین اساتذہ ہم سفر ہوں گی اور ان سرکاری اساتذہ سے اضافی کام لینے کے عوض اضافہ ادائیگیاں کی جائیں گے۔ ہیڈٹیچرز کو 13ہزار روپے ماہانہ جبکہ ٹیچر کو 12ہزار روپے ماہانہ اضافی دیئے جائیں گے‘ بلاشک و شبہ ابتدائی اور ثانوی تعلیم ہی وہ شعبہ ہے‘ جس میں بہتری لائے بغیر شرح خواندگی میں اضافے کا ہدف حاصل نہیں کیا جاسکتا لیکن اگر شام کی کلاسز کونصابی تعلیم کی حد تک محدود کرنے کی بجائے اس میں فنی تعلیم بھی شامل کر لی جاتی تو اس سے حکمت عملی کی جامعیت میں کمی کی بجائے اضافہ ہوتا تعلیم پر سالانہ اربوں روپے خرچ کرنے سے اگر کسی کا بھلا ہو رہا ہے تو وہ اساتذہ‘ معاون تدریسی عملہ اور محکمہ تعلیم کے سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ ساز ہیں تحریک انصاف خیبر پختونخوا کا کمال یہ ہے کہ ایک کام ختم نہیں ہوتا‘ نتائج معلوم نہیں ہوتے کہ راتوں رات دوسرا کام شروع کر دیا جاتا ہے فکر و عمل کے دائرے وسیع کرنے کی ضرورت ہے‘ تبدیلی صرف مالی وسائل خرچ کرنے اور انواع و اقسام کے تجربات کی حد تک محدود نہیں ہونی چاہئے۔