بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / ملکی معیشت کے ملے جلے اشارے

ملکی معیشت کے ملے جلے اشارے

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ قومی سلامتی کو معاشی استحکام سے جڑا قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ملکی معیشت ملے جلے اشارے دے رہی ہے ‘ معیشت اور سلامتی سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ انفراسٹرکچر اور انرجی سیکٹر بہتر ہو رہا ہے شرح نمو بھی اوپر جارہی ہے تاہم وہ اس ارضی حقیقت کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ قرضے بھی آسمان کوچھو رہے ہیں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس حق میں نہیں ہے‘ جنرل قمر جاوید باجوہ کشکول توڑنے کیلئے ٹیکس نیٹ میں اضافہ بھی نا گزیر گردانتے ہیں کسی بھی ریاست کا انتظام و انصرام اس کی اکانومی ہی سے جڑا ہوتا ہے وطن عزیز کے اقتصادی اعشاریوں کا گراف جتنا بھی اوپر نیچے ہوتا رہا اس میں بیرونی قرضے مسلسل بڑھتے ہی گئے اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک قرضے کی قسط ادا کرنے کے لئے دوسرا قرضہ بھی لینا پڑا اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی معیشت کی بحالی کو ترجیحات میں سرفہرست قرار دیا انرجی سیکٹر میں گردشی قرضوں کا خاتمہ اور بجلی کی پیداوار کے منصوبے ریکارڈ کا حصہ ہیں ۔

اسی طرح این ایل جی کی طلب اور رسد میں توازن کے لئے کام ہوا تاہم انکار اس بات سے بھی نہیں کیا جا سکتا کہ حکومتی اقدامات کے باوجود عام آدمی کو یوٹیلٹی بلوں یا پھر مارکیٹ میں اشیائے ضرورت کے نرخوں میں کمی کی صورت کوئی ریلیف ملنا تو دور کی بات غریب اور متوسط لوگ گرانی کی چکی میں پس کر رہ گئے دوسری جانب خبر رساں ایجنسی کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں تجارتی خسارہ 9ارب ڈالر تک پہنچ گیا اس خسارے میں اضافہ کی شرح 29فیصد بتائی جارہی ہے ایکسپورٹ میں اضافہ 11 فیصد اور درآمدات میں 22فیصد بتایا جارہا ہے امپورٹ کا حجم 4ارب 26کروڑ ڈالر دیا جارہا ہے اس وقت چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ مستقبل میں ملکی معیشت کے استحکام میں معاون ضرور ہوگا تاہم یہ اس صورت صحیح طور پر ممکن ہے جب اس پراجیکٹ کے لئے ہوم ورک درست خطوط پر ہو معاشی استحکام کیلئے اقدامات کے ساتھ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ مرکز اور صوبوں کے درمیان این ایف سی ایوارڈ جیسے معاملات بروقت طے کر لئے جائیں تاکہ صوبے اپنے منصوبوں کو بھی عملی شکل دینے کے قابل ہوسکیں ‘ اس سب کے ساتھ حکومت کو کڑی نگرانی کا ایسا مکینزم دینا ہوگا کہ اعلیٰ سطح پر عوامی بہبود کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کا براہ راست فائدہ عام شہری کو پہنچ سکے ۔

غیر تسلی بخش منصوبے

صوبائی معائنہ ٹیم نے تنگی چارسدہ روڈ منصوبے کو غیر تسلی بخش قرار دیا ہے چیئرمین فرخ سیر کی سربراہی میں معائنہ ٹیم نے سڑک دورویہ بنانے کیلئے پراجیکٹ کے ڈیزائن اور کام پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے ‘ تعمیراتی منصوبہ ہو یا عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کوئی بھی اقدام اگر اس میں سارا کام یخ بستہ کمروں میں بیٹھ کر فائلوں میں لگے کاغذوں کی روشنی میں کیا جائے تو اس کے برسرزمین نتائج کم ہی ضروریات کے مطابق ہو کر ثمر آور نظر آتے ہیں کسی علاقے میں ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کیلئے اگر فلائی اوورضرورت کے ادراک کے بغیر اور ٹریفک انجینئرنگ کی تکنیکی مہارت سے عاری ہو تو سڑک پر ٹریفک جام اور فلائی اوور سنسان نظر آتا ہی رہتا ہے اصلاح احوال ذمہ دار حکام کے موقع پرموجود ہونے اور پلاننگ کے تمام مراحل میں احتیاط سے جڑی ہے جس کیلئے منظم حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی ۔