بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / نیپرا ایکٹ میں ترمیم ٗ وفاق اور صوبوں میں معاملات طے

نیپرا ایکٹ میں ترمیم ٗ وفاق اور صوبوں میں معاملات طے

اسلام آباد۔ نیپرا ایکٹ میں ترمیم اور ملکی صارفین پر مہنگی بجلی کا بم گرانے کیلئے حکومت نے صوبوں کے ساتھ مشاورت کرکے معاملات طے کر کئے، سندھ اور کے پی کے تحفظات دور ہو گئے ہیں جلد عمل درآمد شروع ہو جائیگا، ذرائع کے مطابق ورلڈ بینک کی منشا کے مطابق حکومت نیشنل الیکٹرک پاور ریگولٹری اتھارٹی نیپرا ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے صوبوں کو اعتماد میں لے لیا ہے جس کے بعد اب بجلی کی قیمتوں کا تعین وزارت توانائی کریگی نیپرا ایکٹ کا قیام دسمبر 1997میں عمل میں آیا جس کا مقصد بجلی کے ٹیرف کا تعین شرح، چارجز اور بجلی کی پیداوار ترسیل اور تعمیر کے بارے میں دیگر شرائط ضوابط طے کرنا نیپرا کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

ورلڈ بینک نے حکومت پر ضرور دیا کہ وہ ریگولیٹری باڈی کو ختم کرے اور بجلی کی قیمتوں کا تعین اپنے پاس رکھے جس کیلئے حکومت نے صوبوں کے ساتھ مشاورت کر کے ایکٹ میں ترمیم کو حتمی شکل دیدی ہے، شروع میں سندھ اور کے پی کے کو تحفظات تھے لیکن اب وہ تحفظات ختم ہو چکے ہیں، ذرائع کے مطابق ورلڈ بنک نے پاکستان کو لون دینے میں کافی تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اس حوالے سے وزارت خزانہ نے خبروں کی تردید کی ہے لیکن حقیقت میں یہی ہے کہ ورلڈ بنک ملک میں بجلی کی قیمتی بڑھانا چاہتا ہے ۔

جس مقصد کیلئے حکومت نے نیپرا ایکٹ میں ترمیم کرنے کا قدم اٹھایا، ذرائع کے مطابق اگر نیپرا ایکٹ میں ترمیم ہو گئی تو ملک میں بجلی کی قیمتیں دو گنا ہو جائیں گی اور ایک صارف کیلئے بجلی کے بل ادا کرنا مشکل ہو گا، ماہرین کے مطابق اگر بجلی کا ٹیرف عوام کو مدنظر رکھے پھر بڑھایا جاتا ہے تو ملک میں ایک اور بحران سر اٹھا لے گا ایک طرف بیروزگاری ہے اور دوسری طرف بجلی کے بھاری بل سے نچلے تک کے عوام بس کر دہ جائیں گے، واضح رہے کہ موجودہ حکومت نے گزشتہ4سالوں میں بجلی کی قیمتیں 50فیصد کم ہونے کے باوجود بجلی کی60فیصد قیمت بڑھائی ہے جس پر اپوزیشن نے شدید احتجاج بھی کیا لیکن حکومت نے لائن لاسز کا بہانہ بنا کر معاملے کو دبا دیا۔