بریکنگ نیوز
Home / کالم / یادگارزمانہ ہیں ہم لوگ

یادگارزمانہ ہیں ہم لوگ


تاج لکشمی مینشن کراؤڈ کا’سازشی‘ کردار تھا…نہ صرف بطخ اور بکرے کو زچ کرنے کیلئے بلکہ منٹو صاحب سے چھیڑ چھاڑ کرنے کیلئے جتنے منصوبے تیار ہوئے ان سب کا ماسٹر مائنڈ تاج تھا’’ راکھ‘‘ میں اس کا تفصیلی تذکرہ موجود ہے تاج عرف مچھڑ نے بالآخر مجھے تقریباً پینتالیس برس کے بعد تلاش کرلیا اور میرے نئے ڈیفنس والے گھر میں ملاقات کیلئے چلا آیا…ہم تب ملے تھے جب ہر درخت سرسبز ہوتا ہے اور ہر بطخ ایک راج ہنس دکھائی دیتی ہے اور پھر اب ملے ہیں جب درختوں کے ہاتھ خالی ہوچکے ہیں‘ اگر کسی ٹہنی پر کوئی ایک آدھ پتہ موجود ہے تو وہ فنا کی ہواؤں کی سیاہ پھونکوں سے لرزتاہے‘ اگر کوئی گل ہے تو اندیشۂ زوال میں ہے‘ راج ہنس بھی بطخیں دکھائی دیتے ہیں کہ یوں بھی اب کم کم دکھائی دیتا ہے… نواب تاج اب بھی اک چھریرے قد کا میری عمر کا نوجوان ہے اور جیسا کہ وہ کہتا تھا کہ میں کبھی شادی کے جھنجھٹ میں نہیں پڑوں گا تو وہ نہیں پڑا…بقیہ بھائیوں کے گھر آباد ہوگئے پر وہ جان بوجھ کر آباد نہ ہوا اب بھی لنڈوراپھرتا ہے…ہم دونوں تقریباً نصف صدی کے بعد ملے تو پرانی یادوں کے سب بادبان کھل گئے ان میں گئے دنوں کی ہوائیں بھرگئیں اور سب کشتیاں ہماری گم شدہ محبتوں‘ اذیتوں اور جوانی کے سنہرے دنوں کے پانیوں پر سفر کرتیں ہمیں واپس اس ماضی کی جانب لے گئیں جو بڑھاپے کی دھند میں روپوش ہوتا جاتا تھا…ہم نے بیت چکے زمانوں کی گردآلود کتاب کے ورق الٹائے تو وہ اتنے بوسیدہ ہوچکے تھے کہ خزاں آلود پتوں کی مانند جھڑتے جاتے تھے… اور اس دوران ہم بیڈن روڈ کی جانب نکل گئے…اس کی باتیں کرنے لگے… لکشمی مینشن…جس کے بارے میں بہت لکھ چکا‘ ناولوں اور کالموں میں اس کے نوحے لکھے کہ تاجر مافیا جسے تاجر حکومت کی سرپرستی حاصل تھی اس نے اس یادگار زمانہ سکونت گاہ کو ڈھادیا‘ پلازے تعمیر کرلئے…

یہاں تک کہ سعادت حسن منٹو کے گھر کے باہر اس کے نام کی آویزاں تختی کو اکھاڑ کر کوڑے میں پھینک دیا تو اس لکشمی مینشن کا مرکزی داخلہ ریگل چوک سے ذرا ادھر ہال روڈ پر واقع تھا اور خارجی راستہ جو قدرے تنگ تھا بیڈن روڈ پر کھلتا تھا… ہال روڈ ان دنوں ایک مکمل ویرانہ تھا‘ ادھر نسبت روڈاور چیمبر لین روڈ سے ہونے والے تانگے شام کے بعد ہال روڈ آنے سے گریز کرتے تھے یہ اس قدر ویران اور تاریک سڑک ہوا کرتی تھی اور دوسری جانب بیڈن روڈ ایک شوخ و شنگ چلبلی لڑکی کی مانند زندگی کی سب ملاوٹوں میں گھلی ہوئی تھی چنانچہ ہم جو لکشمی مینشن والے تھے ہال روڈ سے گریز کرتے نکلتے تھے تو بیڈن روڈ کی جانب نکلتے تھے…یہ لکشمی مینشن کی ایک ایکسٹن شن یا ذیلی شاخ تھی جس کی ڈال ڈال پر ہم روز وشب چہکتے پھرتے…لکشمی مینشن سے نکلتے‘ انصاری ہوٹل اور خان جوس کارنر کے پہلو میں سے نکلتے تو عین سامنے’’ خان میڈیکوز‘‘ ہوا کرتا تھا اور وہاں مطب کرنے والے ڈاکٹر خان ہمارے گھریلو فزیشن تھے جنہوں نے ایک مرتبہ میری’’ مرچکی‘‘ بہن شائستہ کو زندہ کردیا تھا…’’ خان میڈیکوز‘‘ کے برابر میں ’’ کیری ہوم‘‘ ریستوران‘ ان زمانوں میں’’ دیسی کھانوں کا اعلیٰ مرکز‘‘ شہر بھر میں مشہور ریستوران تھا جواب بھی موجود ہے…

بائیں جانب’’ امرتسر سویٹ شاپ‘‘ یا مٹھائیوں کی وہ دکان تھی جس کی مٹھائیوں کی لذت بے مثال تھی‘ اگرچہ یہ مٹھائیاں دکان کے پچھواڑے میں لکشمی مینشن کے فلیٹوں کے عقب میں ایک گلی میں’’ مینوفیکچر‘‘ کچھ یوں کی جاتی تھیں کہ اگر کوئی انہیں تیار ہوتا دیکھ لے‘ شیرے کی کڑاہیاں اور ان میں تلتی جلیبیاں اور اتنی ہی تعداد میں تلی جانے والی مکھیاں وغیرہ اور وہ جوننگ دھڑنگ حلوائی حضرات ان میں کڑچھے چلاتے تھے ان کے بدنوں سے بہتے پسینے کی آمیزش…تو جو شخص بھی انہیں تیار ہوتا دیکھ لے‘ بقیہ زندگی مٹھائیوں سے پرہیز شدید کرے…اگرچہ انہی قدرتی عوامل کی آمیزش سے ہی ان کے ذائقے تخلیق ہوتے تھے…جیسے ایک لاہوری کا کہنا ہے کہ جب تک کھلے عام فروخت ہوتے تکے کبابوں‘ سری پائے اور نہاری کے تسلوں میں گھوڑوں کی لید کی آمیزش نہ ہو تو ذائقے کی چاشنی کی تکمیل نہیں ہوتی’’امرتسری سویٹ شاپ‘‘ سے چند قدم آگے پارسی بیرٹ کی بیکری تھی جس کی ڈبل روٹی کی مہک آج بھی میرے بدن میں مہکتی تھی برابر میں ہمارے اکلوتے فیروز قصائی کی دکان تھی…مجھے تو گوشت کی کچھ پہچان نہ تھی البتہ خالو جان قبلہ فیروز کی دکان میں الٹے لٹکے تین چار بکروں کو تادیر پرکھتے رہتے اور پھر ایک ایک بوٹی کو ناپ تول کر ترازو میں رکھواتے…چند قدم آگے پان سگریٹ کی ایک دکان گاہکوں کی تواضح کرتی تھی اور میرا ہم جماعت اور دوست‘ اگرچہ شیخ لیکن کیا ہی درازقامت اور سوہنا شیخ نجم‘ بوسکی کے شلوار قمیض میں ملبوس یہیں دن رات کرتا…بیڈن روڈ محض چند دکانوں‘ بیکریوں‘ پان سگریٹ کے کھوکھوں وغیرہ سے عبارت نہ تھی وہاں کچھ یادگار زمانہ لوگ بھی رہا کرتے تھے…جیسے استاد امام دین گجراتی نے کیا ہی یادگار شعر کہا ہے کہ

یادگار زمانہ ہیں ہم لوگ
قصۂ و ناولو‘ افسانہ ہیں ہم لوگ
اس شعر کے اوزان اگر خطا ہوتے ہیں تو ہو جانے دیجئے‘ صرف اس کی معنویت پر سر دھنیے‘ بیڈن روڈ پر واقعی زمانے کی یادگار ایسے لوگ رہتے تھے جو اب تو ایک قصہ پارینہ ہوچکے‘ ناولوں اور افسانوں کے کردار بن چکے…بیڈن روڈ کے عین درمیان میں میرے مسلم ماڈل ہائی سکول کے زمانوں کا ہم جماعت عسکری میاں ایران رہا کرتا تھا… اس کے والد ایک مذہبی سکالر ہونے کے علاوہ کمال کے طبیب تھے‘ عسکری بعد کے زمانوں میں ایک ایسا نابغۂ روزگار مصور اور خطاط ہوا کہ اسے رنگوں کا ایک جیولر‘ ایک سنیار کہاگیا…اس کے قدیم تعویزوں اور عجیب نقشوں کی مصوری نے ایک دنیا کو مسخر کرلیا… وہ ایک طویل مدت نیشنل کالج آف آرٹس میں پڑھاتا رہا…اس کی تصویروں کے قدیم نقش اور خطاطی کے معجزے دیکھ کر یقین نہ کرتا تھا کہ یہ کسی عہد حاضر کے مصور اور نقاش کے کرشمے ہیں‘ وہ گئے زمانوں کے کسی بغداد کے شاہکار لگتے تھے…