بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / بیرون ملک جائیدادیں

بیرون ملک جائیدادیں


 

کیا پاکستان غریب ملک ہے اگر نہیں تو پھر ملک کی ساٹھ فیصد سے زائد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی کیوں بسر کر رہی ہے؟ملکی وسائل لوٹنے والے کون ہیں اور اس غربت کے معلوم ان ذمہ داروں سے دو دو ہاتھ کیوں نہیں کئے جا رہے‘ جنہوں نے ملک کی فیصلہ سازی کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنا مستقبل‘ اہل وعیال‘ اثاثہ جات اور سرمایہ کاری بیرون ملک کرنے کو زیادہ محفوظ سمجھا؟ فروری دوہزار پندرہ میں عرب ملک کے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر تاحال زیرگردش دستاویزی ثبوت عام ہوئے‘ جن کے مطابق سال دوہزارتیرہ اور سال دوہزار چودہ کی درمیانی مدت میں پاکستانیوں نے متحدہ عرب امارت کی مختلف ریاستوں بشمول دبئی میں مجموعی طور پر سولہ ارب یو اے ای درہم یعنی چار سو ارب پاکستانی روپے سے زائد مالیت کی املاک خریدیں جبکہ اسی عرصے کے بھارت کی شہریت رکھنے والوں نے چھتیس ارب درہم کی سرمایہ کاری کی تھی پاکستانیوں نے دوہزارچودہ کے دوران ساڑھے سات ارب درہم یعنی دوسو ارب روپے مالیت کی جائیدادیں خریدیں‘ چنانچہ وہ دبئی میں غیرملکی خریداروں کی فہرست میں دوسری بڑے درجے پر رہے تاہم سال دوہزار چودہ میں بھارتی سرمایہ کاروں نے اٹھارہ ارب درہم سے زیادہ کی سرمایہ کاری کے ذریعے سرفہرست رہے جبکہ دوہزارتیرہ میں ان کی سرمایہ کاری اٹھارہ ارب درہم تھی۔ دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے اعداد وشمار کے مطابق دوہزارتیرہ میں ساڑھے آٹھ ارب درہم کی سرمایہ کاری کی بنیاد پر پاکستانیوں کی کل خریداری سولہ ارب درہم سے زیادہ رہی۔ سوال یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات میں خریداری کرنے والے کون ہیں؟

یقین کیجئے کہ ایک بھی عام پاکستانی کا نام فہرست میں شامل نہیں جبکہ پشاور سے کراچی تک ناموں کا تعلق سیاست‘ سرکاری ملازمین اور ملک کی معروف کاروباری گھرانوں سے ہے جو حسب آمدنی نہ تو ٹیکس ادا کرتے ہیں اور نہ ہی پاکستان میں اپنا سرمایہ رکھنا پسند کرتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں سرمایہ کاری کرنے والے صرف پاکستانی اور بھارتی ہی نہیں بلکہ غیرعربوں میں امریکہ‘ کینیڈا اور جمہوری اسلامی ایران کے باشندے شامل ہیں لیکن جس قدر بڑے پیمانے پر پاکستانیوں نے سرمایہ کاری کر رکھی ہے‘ اُس کا جواب نہیں ہے! ’یو اے اِی‘ میں عرب ممالک سے تعلق رکھنے والوں نے مجموعی طور پر ’’بارہ ارب درہم‘‘ مالیت کی سرمایہ کاری کی ہے۔پاکستان کی تعمیروترقی کے بارے سوچنے اور اپنی توجہات مرکوز کرنے والوں کے کرتوت دیکھ کر سر‘ شرم سے جھک جاتا ہے۔ ضروری نہیں کہ عدالت میں جرم ثابت ہونے پر ہی کوئی مجرم قرار پائے‘ نجانے خوداحتسابی‘ حب الوطنی اور شخصی ضمیر کہاں کھو گئے ہیں کہ کم سے کم مالی خوردبرد کرنے والے قوم سے معافی ہی مانگ لیں۔ اگر بیرون ملک اثاثہ جات فروخت کئے جائیں تو پاکستان کے کل قرضہ جات ادا ہو سکتے ہیں! رواں ہفتے کے دوران قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی جانب سے’متحدہ عرب امارات‘ میں جائیدادیں خریدنے والے پاکستانیوں کی آٹھ ارب ڈالر سرمایہ کاری کی نشاندہی کا نوٹس لیا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کو تحقیقات کا حکم دیا گیا۔ چیئرمین ایف بی آر نے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ دبئی پراپرٹی میں سرمایہ کاری کرنے والے پاکستانیوں کی معلومات حاصل کرنے کے لئے دبئی اتھارٹی کو خطوط لکھے گئے تاہم انکی جانب سے اب تک جواب موصول نہیں ہوا۔ یہ جوابات اس لئے بھی موصول نہیں ہو رہے کیونکہ پاکستان میں کلیدی عہدوں پر فائز کئی سرکاری ملازمین متحدہ عرب امارات میں مستقل قیام اور اقامے رکھتے ہیں۔

پہلے تو اُن تمام حاضر سروس و ریٹائرڈ حکام اور ملازمین کی فہرستیں مرتب کی جائیں تاکہ معلومات حاصل نہ ہونے کے اسباب بھی سامنے آ سکیں۔ اس صورتحال کی خاموش تماشائی سٹیٹ بینک ہے جس کے حکام نے یہی کہنے پر اکتفا کیا ہے کہ گزشتہ چار سال کے دوران متحدہ عرب امارات میں سرمایہ کاری کے لئے کسی بھی پاکستانی نے سٹیٹ بینک سے باقاعدہ اجازت نہیں لی۔‘‘ اِس بات کا مطلب یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات میں ہوئی تمام سرمایہ کاری غیرآئینی ہے جسے کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی ہو سکتی ہے۔ تشویشناک امر ہے کہ گذشتہ چار برس میں پاکستانیوں نے مجموعی طور پر آٹھ ارب ڈالر جبکہ دوہزار تیرہ اور چودہ کے درمیان ہمارے پاکستانیوں نے چار ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں بلکہ ایک ایسی کھلی حقیقت ہے جس کی کھوج کرنے سے وہ تمام کردار بے نقاب ہو سکتے ہیں‘ جنہوں نے نہ صرف قوم بلکہ الیکشن کمیشن کی آنکھوں میں بھی دھول جھونکی۔ پاکستان میں جاری اِحتساب کی لہر اُور احتساب کی طلب کبھی بھی اِس قدر بلند سطح پر نہیں رہی۔ قوم کی اکثریت چاہتی ہے کہ ’ونس فار آل‘ یہ معاملہ نمٹ جائے کیونکہ ایک جوہری طاقت کے لئے بدعنوان حکمرانوں اور فیصلہ سازوں کی موجودگی میں ترقی کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن حد تک دشوار ہے۔ قوم نے ایک عرصے سے خوشخبری نہیں سنی۔ کوئی تو اچھی خبر بھی سننے میں آنی چاہئے۔ اِس اندرون ملک خوردبرد‘ بدعنوانی‘ ٹیکس چوری اور بیرون ملک سرمایہ کاری جیسے معاملات کا منطقی انجام تک پہنچنا ناگزیر حد تک ضروری ہو چکا ہے۔