بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / فاٹاانضمام کیلئے دھرنا

فاٹاانضمام کیلئے دھرنا


پارلیمنٹ میں قبائل کے سابق پارلیمانی لیڈر اورخیبر ایجنسی سے ممبر قومی اسمبلی الحاج شاہ جی گل آفریدی کی اپیل پر سوموار کو اسلام آباد کے ڈی چوک میں ہزاروں قبائل اور مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے مشترکہ احتجاجی دھرنے سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے قبائلی علاقوں کو فی الفور خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا مطالبہ ایک بارپھر دہرایا ہیقبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوامیں انضمام میں تاخیر کے خلاف 9اکتوبر کو اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کیا گیا تھا اور عام تاثر یہ تھا کہ شاید اس دھرنے کی نوبت نہیں آئے گی اور وفاقی حکومت متذکرہ دھرنے سے قبل ہی فاٹا کو خیبر پختونخوامیں ضم کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیگی لیکن جب قبائل نے دیکھا کہ انکے ساتھ کیا گیا وعدہ ایفا نہیں کیا جا رہاہے تو انہوں نے حکومت کو اس کا وعدہ یاد دلانے کیلئے اسلام آباد میں نہ صرف دھرنے کا اعلان کیا بلکہ اپنے اس اعلان پر سوموار کے روز احتجاجی دھرنے کے ذریعے عمل بھی کر دکھا یا ہے۔

اس دھرنے سے مسلم لیگ(ن) کے ممبر قومی اسمبلی شہاب الدین خان، الحاج شاہ جی گل آفریدی، پارہ چنار سے ممبر قومی اسمبلی ساجد حسین طوری‘ جماعت اسلامی فاٹاکے سابق امیر اور سابق ممبر قومی اسمبلی صاحبزادہ ہارون الرشید ، پیپلز پارٹی فاٹا کے صدر اور سابق ممبر قومی اسمبلی اخونزادہ چٹان کے علاوہ اے این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخارحسین،اے این پی کے ممبر قومی اسمبلی حاجی غلام احمد بلور،سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر،جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سراج الحق اور پیپلز پارٹی کے مرکزی راہنما سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بھی خطاب کیا۔فاٹا کے بندوبستی علاقوں سے ادغام کے لئے کئے جانے والے اس دھرنے میں عام قبائل کیساتھ ساتھ انضمام کی حامی سیاسی ومذہبی جماعتوں کے کارکنان اور عہدیداران کی بڑی تعداد میں شرکت نے اس بات پر ایک بار پھر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ قبائل کی غالب اکثریت نہ صرف فاٹاکے خیبر پختونخوامیں انضمام کے حق میں ہے بلکہ وہ اس عمل کی تکمیل جلد از جلد بھی چاہتے ہیں۔دراصل اس فیصلے میں جتنی تاخیر کی جائیگی اس سے قبائل کے احساس محرومی میں مزید اضافہ ہوتا جائے گااور ایسی کسی بھی کیفیت میں قبائل اور بالخصوص وہاں کے نوجوانوں کو ورغلانے اور انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرنا کسی بھی ملک دشمن قوت کے لئے آسان ہو گا۔

قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے لئے جاری تگ ودو ویسے تو عرصہ دراز سے جاری ہیں لیکن اس ضمن میں پچھلے چند سال کے دوران جو سب سے بڑی تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے وہ متذکرہ اصلاحات کے حق میں پہلی دفعہ منتخب ممبران پارلیمنٹ کی جانب سے آواز کا اٹھایا جانا ہے ‘۔ فاٹا انضمام کے لئے دیئے جانے والے اس دھرنے کی ایک اور خاص بات انضمام کی حامی تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کا تمام تر سیاسی اور جماعتی اختلافات سے قطع نظر انضمام کے ایشو پر یک زبان ہونا ہے۔ ان جماعتوں میں اے این پی،پیپلز پارٹی،قومی وطن پارٹی جیسی قوم پرست جماعتوں کے علاوہ جماعت اسلامی اور جمعیت(س) جیسی مذہبی جماعتوں کے علاوہ پی ٹی آئی جیسی لبرل جماعتیں قابل ذکرہیں۔یہ تمام جماعتیں پچھلے کچھ عرصے سے فاٹا اصلاحات کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ رابطوں اور مشترکہ سرگرمیوں کے ذریعے جس سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کر رہی ہیں وہ قبائل کے نقطہ نظر سے یقیناًایک مستحسن اور قابل قدر پیش رفت ہے۔ توقع ہے کہ حکومت قبائل کے صبر کا مزید امتحان نہیں لے گی اور فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے اور قبائل کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی سمیت انہیں ایف سی آر اور پولیٹیکل انتظامیہ کے غلامانہ نظام سے نجات دلا کر سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ تک رسائی فراہم کرنے میں مزید کسی تاخیر سے کام نہیں لے گی۔