بریکنگ نیوز
Home / کالم / معیشت کی بری حالت

معیشت کی بری حالت


وہی حکومت ہے‘وہی وزیر خزانہ ہے تو پھر یہ کس کو بیوقوف بنانے کے لئے کہا جارہا ہے کہ اگر میاں نوازشریف کو وزارت عظمیٰ سے فارغ نہ کیا جاتا تو آج ہماری معیشت یوں نہ ڈوب رہی ہوتی؟ بھئی میاں صاحب کے جانے کے بعد کیا پی پی پی ‘پی ٹی آئی یا اور کوئی سیاسی پارٹی تو مرکز میں برسراقتدار نہیں آئی!اسحاق ڈار کے بڑے چرچے کئے جاتے تھے کہ اس جیسا تو وزیر خزانہ کوئی آیا ہی نہیں آج اسکی غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے اس ملک کا دیوالیہ نکل چکا ہے اگر ہمیں بین الاقوامی اداروں سے فی الفور مزید قرضہ نہ ملا تو ہم معاشی طور پر تباہ ہوجائیں گے کیا وزیر خزانہ صاحب قومی اسمبلی کو یہ بتانے کی جسارت کرینگے کہ آخر ایسا کیوں ہوا کیوں وہ گزشتہ ساڑھے چار برس سے قوم کو سبز باغ دکھاتے رہے وہ توکہتے تھے کہ 200ارب ڈالر کے قریب پاکستانیوں کا کالا دھن بھی سوئس بینکوں میں ہے جو وہ پاکستان لارہے ہیں یہ بات انہوں نے 2014ء میں کہی تھی کہاں گیا ان کا وہ وعدہ اور ارادہ؟ دکھ کی بات یہ ہے کہ وہ تمام سیاسی رہنما جو حکومت وقت کے سیاسی حلیف ہیں اور اسکے مصاحب کا کردار ادا کررہے ہیں ان میں کسی کی بھی اتنی جرأت نہیں کہ وہ کھل کر پارلیمنٹ میں حکومت سے سوال کرسکے کہ اس نے کیوں ملک کے محاصلات زیادہ کرنے کے لئے اس کلاس سے تعلق رکھنے والوں پر انکم اور ویلتھ ٹیکس نہیں لگایا کہ جو کئی کئی کنال پر محیط محل نما کوٹھیوں میں رہتے ہیں۔

جن کی بڑی بڑی ایک نہیں کئی کئی قیمتی گاڑیاں ہیں جن کے بال بچے اندرون ملک یا بیرون ملک مہنگے ترین تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیں جو ہر سال کئی کئی مرتبہ بزنس یا فرسٹ کلاس میں یورپ اور امریکا یا دبئی کے کئی کئی چکر لگاتے ہیں ان پر تو باآسانی ٹیکس لگایا جاسکتا ہے کہ اب کے تو تمام اخراجات دستاویزی شکل میں موجود ہیں حکومت کا غریب عوام پر ہی بس چلتا ہے وہ ان کے بجلی کے بلوں میں ہر قسم کا ٹیکس ٹھونس دیتی ہے اور غریب عوام پر غصہ اس لئے آتا ہے کہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے وہ بار بار انہی افراد کو اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھا دیتی ہے جنہوں نے ان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہوتا ہے عوام کو اب یہ کہہ کر مزید بے وقوف نہ بنایا جائے کہ ہم مزید قرضے لینے کیلئے اس لئے مجبور ہوئے کہ نوازشریف وزیراعظم نہ تھا یہ چورن اب مارکیٹ میں نہیں بکے گا ادھر کھانے کو پیسے نہیں اور دوسری طرف آپ نے پچاس وزراء پر مشتمل بھاری بھر کم مرکزی کابینہ بنا ڈالی ہے کہ جس پرکروڑوں روپے کا خرچہ ہر ماہ اٹھ جاتا ہے۔

وزیر خزانہ کی ساکھ اتنی خراب ہو چکی ہے کہ وزیراعظم کو اب کی بار وزیر خارجہ کو امریکہ بھیجنا پڑا کوئی بھی وزیرخزانہ سے نہیں پوچھ رہا کہ بھئی تم بلاشرکت غیرے ساڑھے چار برس اس ملک کے وزیر خزانہ رہے یہ تمہارا گل کھلایا ہوا ہے کہ آج ہم نے پھر قرضوں کے لئے ہاتھ میں کشکول پکڑ لیا ہے ایک امریکی کہاوت ہے کہ دنیا میں فری لنچ نامی کوئی شے نہیں جوآپ کو قرضہ دے گا وہ پھر اپنی مرضی کا سود بھی آپ سے وصول کریگا اور وہ ہر وقت آپ کے گریبان پرہاتھ بھی ڈالے گا کمال کی بات یہ ہے کہ اس ملک میں جن لوگوں کے سٹیل کے کارخانے ہیں ان کے اپنے کارخانے تو منافع پر منافع کمارہے ہیں پر ملک کی سٹیل ملز جو سرکاری شعبے میں کام کرتی ہے اس کا بٹھا بیٹھ گیا ہے ابن خلدون نے سچ ہی تو کہا تھا کہ حیف ہو اس قوم پر کہ جس کے حکمران تاجر ہوں وہ پیسے کے بل بوتے پر اقتدار میں آتے ہیں اورپھر اقتدار میں آکر مزید پیسہ بناتے ہیں سردار مہتاب عباسی صاحب نے بجا کہا کہ پی آئی اے ٹائی ٹینک بن گیا ہے پر یہ کب بنا یہ گزشتہ دس برسوں میں بنا اور ان دس برسوں میں اس ملک میں جو لوگ برسراقتدار تھے وہ کون تھے کیا ہمیں ان کے نام لینے کی ضرورت ہے؟۔