بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / حکومت کی ترجیحات

حکومت کی ترجیحات


وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ حکومت فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے وعدے پر قائم اور پرعزم ہے‘ گورنر خیبرپختونخوا انجینئر اقبال ظفر جھگڑا کیساتھ بات چیت میں وزیراعظم کا یہ کہنا ہے کہ فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کیاجائیگا‘ دریں اثناء نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ قومی فضائی کمپنی کے مسائل کا واحد حل نجکاری ہے‘ وہ پی آئی اے کے معاملات میں ناکامی کااعتراف بھی کرتے ہیں‘ وزیراعظم یہ بھی کہتے ہیں کہ عدالتی فیصلوں نے مالی بحران پیدا کیا‘ وہ اداروں کے مابین اتفاق رائے سے متعلق یہ بھی کہتے ہیں کہ اس میں وقت لگے گا‘ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ وہ ایل این جی معاہدے کے نفع نقصان کے ذمہ دار ہیں‘ کسی بھی ریاست یا اس کی انتظامی اکائی میں حکومتی نظام ترجیحات کے تعین کا متقاضی ہوتا ہے‘ ترجیحات اگر حقائق کی بنیاد پر تکنیکی مہارت کیساتھ طے کرلی جائیں تو ثمر آور نتائج کی جانب بڑھاجاسکتا ہے‘ پی آئی اے کے ساتھ بعض دیگر ادارے بھی خسارے کا شکار ہیں‘ قومی اداروں کو تباہی کے دھانے تک پہنچانے والے عوامل کا خاتمہ بھی ترجیحات میں شامل ہوناچاہئے‘ اس کیساتھ مالی بحران کے خاتمے کیلئے اقدامات تجویز کرنا بھی ضروری ہیں‘خود وزیراعظم اس بحران کا اعتراف کرتے ہیں‘ بینک دولت پاکستان اور دیگر ذمہ دار اداروں کے اعداد وشمار بھی اقتصادی صورتحال پر توجہ کا تقاضا کررہے ہیں‘

بیرونی قرضوں میں اضافہ‘ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور درآمدات پر انحصار کے نتیجے میں امپورٹ بل کا بڑھتا حجم فوری توجہ کا متقاضی ہے‘ حکومت کو اپنی ترجیحات میں یہ بات بھی مدنظر رکھنا ہوگی کہ معاشی استحکام سیاسی ماحول سے جڑا ہوتا ہے‘ سازگار سیاسی ماحول معاملات کو سیاسی انداز میں نمٹائے جانے سے ممکن ہوتا ہے‘ ہمارے ہاں اکانومی سے منسلک مسائل برسوں سے چلے آرہے ہیں‘اس صورتحال کی اصلاح قومی قیادت کی انتہائی سنجیدگی سے ہی ممکن ہے‘ اس میں اب تک کی ناکامیوں اور ان کی وجوہات پر کھلے دل سے غور کرنا ہوگا‘ اصلاح احوال کیلئے سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک دوسرے کا موقف سنناہوگا‘ فاٹا اصلاحات کیساتھ این ایف سی ایوارڈ اور مشترکہ مفادات کونسل میں زیرالتواء معاملات کو بات چیت کے ذریعے نمٹانا ہوگا‘ بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرتے ہوئے گرانی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

پینے کا صاف پانی؟

سینئر سرجن پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف کی سربراہی میں قائم تنظیم نے ذمہ دار اداروں سے پشاور میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے اقدامات کو ناگزیر قرار دیاہے‘ ایک ایسے وقت میں جب ماحولیاتی آلودگی ملاوٹ شدہ اور ناقص وغیر معیاری اشیاء خوردنی عام ہوں‘ پانی کا آلودہ ہونا تشویشناک ہے‘ ہمارا سیوریج سسٹم پہلے ہی بلاک ہے‘ اس میں سے گزرنے والے بوسیدہ اور زنگ آلود پائپ بیماریاں پھیلانے والے جراثیم پانی میں شامل کرنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں‘ حکومت کی جانب سے صوبائی دارالحکومت کو پانی کی فراہمی کیلئے باڑہ اور جبہ ڈیموں کے عندیئے متعدد مرتبہ مل چکے ہیں‘ تاہم عملی اقدامات کاہنوز انتظار ہی ہے‘ پشاورمیں لگائے گئے فلٹریشن پلانٹس معمول کی دیکھ بھال کے متقاضی ہیں‘بوسیدہ پائپوں کی تبدیلی کے ساتھ اوور ہیڈ ٹینکس کی صفائی کا موثر انتظام اور صفائی کیلئے ٹائم پیریڈ کاتعین بھی ضروری ہے۔