بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / جمہوریت کاعمل چلے گاتوخرابیاں خوددورہوجائینگی ٗ شاید خاقان عباسی

جمہوریت کاعمل چلے گاتوخرابیاں خوددورہوجائینگی ٗ شاید خاقان عباسی


کراچی۔وزیراعظم شاید خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سی پیک مستقبل کی ترقی کاضامن ہے،ہماری حکومت نے لواری ٹنل کومکمل کیا،جب بھی آمریت آئی ہے،ملک نے ترقی نہیں کی،جمہوریت کاعمل چلے گاتوخرابیاں خوددورہوجائیں گی،یقین ے ملک میں جمہویت آگے بڑھے گی،جمہوریت میں خرابیاں ضرورہونگیں، پاکستان کے عوام نے ہربار اچھے فیصلے کیے ہیں،ملک میں چیلنجزموجودہیں،ان کامقابلہ کیاجائیگا، پہلے بھی جس حکومت نے عوامی مسائل حل نہ کیے اسے گھر بھیج دیا گیا۔

ٹرمینل سمیت دیگر کام چار سال میں مکمل کیا اور یہ کوالٹی کے اعتبار سے دنیا کا بہترین ٹرمینل ہے، حکومتیں پراجیکٹس کا اعلان کرتی ہیں اور 4 ، 5 حکومتیں اس کو مکمل کرتی ہیں لیکن پاکستان کی تاریخ کی واحد حکومت ہے جس نے اپنے دور میں کام شروع کیے اور اسی دور میں ختم بھی کیے۔ہفتہ کوکراچی میں پورٹ قاسم پر پاکستان کے پہلے کول ، کلنکر اور سیمنٹ ٹرمینل کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مسلم لیگ(ن)کی حکومت عوام کی جیب میں پیسے ڈالتی ہے نکالتی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ(ن) لیگ تاریخ کی وہ واحد حکومت ہے جس نے کام شروع کرکے اپنے ہی دور میں مکمل بھی کیے، اس حکومت نے تعطل کا شکار پرانے منصوبے بھی مکمل کیے، باتیں کرنے والی اور کام کرنے والی حکومتوں میں یہی فرق ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس کول ، کلنکر اور سیمنٹٹرمینل کی بڑے عرصہ سے ضرورت تھی ۔ جو کوالٹی اس ٹرمینل کی ہے دنیا میں اس طرح کے بہت کم ٹرمینل ملیں گے ۔ یہ کیپٹن حلیم صدیقی کی وژن ہے ۔

انہوں نے پہلے بھی جو ٹرمینل بنائے وہ بھی کوالٹی کے اعتبار سے دنیا کے بہترین ٹرمینل تھے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر نجی شعبہ کو موقع دیا جائے تو وہ سرمایا کاری بھی کرتا ہے اور ڈیلیور بھی کرتا ہے اور یہ حلیم صدیقی نے ایک دفعہ نہیں کئی بار کر کے دکھایا ہے جبکہ دوسرا بڑا عنصر حکومت کی سپورٹ ہوتی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیشہ یہ تاثر ہوتا ہے کہ حکومت کام روکتی ہے کام ہونے نہیں دیتی ۔ صرف یہی ٹرمینل نہیں یہاں پر دیگر ٹرمینل جو یہاں لگے ہیں اور جو انفراسٹرکچر بنا ہے جو پاور پلانٹ لگ رہا ہے یہ سب چار سال کے عرصہ میں مکمل ہوا ہے ۔ حکومتیں کام شروع کرتی ہیں اور وہ کام تین چار حکومتوں کے بعد ختم ہوتا ہے ۔

موجودہ حکومت پاکستان کی تاریخ کی واحد حکومت ہے جس نے کام شروع بھی کئے اور اپنے دور میں مکمل بھی کئے ۔ نہ صرف اپنے کام بلکہ وہ کام جو عشروں سے پڑے ہوئے تھے جن کا بہت دفعہ افتتاح ہوا لیکن آٹھ ، آٹھ ، دس ، دس سال اور بیس بیس سال وہ منصوبے پڑے رہے اور کسی نے مکمل نہیں کئے وہ بھی موجودہ حکومت نے مکمل کئے ہیں ۔ لواری ٹنل کا چالیس پنتالیس سال قبل دوالفقار علی بھٹو نے افتتاح کیا تھا جبکہ محمد نواز شریف 28 ارب روپے خرچ کر کے لواری ٹنل کو مکمل کیا ۔ یہ فرق ہوتا ہے ۔ وہ حکومتیں جو صرف باتیں کرتی ہیں اور جو حکومتیں ڈیلیور کرتی ہیں ۔ آج جو ٹرمینل لوگ دیکھ رہے ہیں ۔

اس پر 285 ملین ڈالر خرچ ہوئے ہیں جو کہ بہت بڑی رقم ہے ۔ حلیم صدیقی اگر پلاٹ لے لیتے تو کھرب پتی ہوتے ۔ یہ مستقبل کا ٹرمینل ہے ۔ آج پاکستان سے سیمنٹ کی کوئی برآمد نہیں ہے لیکن اس ٹرمینل کا تیسرا حصہ ملک سے کلنکر اور سیمنٹ کی برآمد کے لیے مختص ہے ۔ وزیر اعظم کاکہنا تھا کہ یہ منصوبہ کامیاب ہو گا ۔ ریلوے سے ٹرمینل کو ملانے کا کام جلد مکمل ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2013 ء میں جب موجودہ حکومت آئی اس وقت بہت سے بحران تھے ۔

سب سے بڑا بجلی کا بحران کا تھا جب سے پاکستان بنا ہے ہائیڈل منصوبوں سمیت ملک میں 20 ہزار میگا واٹ بجلی کے منصوبے لگے تھے ۔ اللہ کا کرم ہے کہ موجودہ حکومت نے چار سالوں میں دس ہزار سے زائد میگا واٹ کے منصوبے شروع کئے اور مکمل کر کے بجلی آج موجود ہے ۔ بجلی کا مسئلہ آج کے لیے نہیں بلکہ کل کے لیے بھی حل کیا گیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ جب حکومت آئی ملک میں گیس نہیں تھی ۔ فرٹیلائزر پلانٹ بند تھے ۔ سی این جی اسٹیشن بند تھے ۔ پاور پلانٹ بند تھے ۔ گھروں میں گیس کی کمی تھی ۔ صنعت کے لیے گیس نہیں تھی ۔ آج پاکستان کے ہر گیس کنزیومر کو گیس مل رہی ہے اور دسمبر کے بعد جتنی تعداد میں گیس چاہیں گے ان کو گیس ملے گی اور نئے کنکشن بھی ملیں گے نجی شعبہ بھی ٹرمینل لگا رہا ہے ۔

ہائی ویز کے حوالہ سے میں نے این ایچ اے سے بریفنگ لی ۔ چھ گھنٹے بریفنگ جاری رہی منصوبے ختم نہیں ہوئے میں نے ان سے پوچھا کہ 1999 ء سے 2013 ء تک کتنے منصوبے شروع ہوئے یا مکمل کئے گئے ۔ ان کی مجموعی تعداد صفر تھی ۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے دور میں ہزاروں کلو میٹر پر محیط موٹر وے شروع ہوئے سڑکیں شروع ہوئیں ۔ کراچی سے حیدر آباد کی سڑک 1967 ء میں بنی تھی اس کے بعد کسی نے دھیان نہیں دیا ۔ پہلی دفعہ اس سڑک کی توسیع موجودہ حکومت کے دور میں ہوئی جبکہ سکھر تک اور سکھر سے ملتان تک موٹر وے آئندہ سال تک مکمل ہو جائے گی اور لوگ سفر کرسکیں گے ۔