بریکنگ نیوز
Home / کالم / گلہائے رنگ وبو کے حسیں کارواں کی خیر

گلہائے رنگ وبو کے حسیں کارواں کی خیر


میں ابھی کچھ دیر پہلے گورنمنٹ کالج پشاور سے گھر واپس آیا ہوں تو یادوں کی گٹھڑی جیسے کھل گئی ہے کبھی ساحر لدھیانوی بھی ایسی ہی کیفیات سے گزرا ہو گا اس کو ایک بار جب لدھیانہ کالج سے کسی تقریب میں شرکت کی دعوت آ ئی جہاں وہ پڑھتا رہا تھا تو جیسے اس کا ناسٹلجیا متحرک ہو گیا اور اس نے اپنے کالج کو ایک خوبصورت نظم کی صورت خراج پیش کیا جسکا ایک شعر تو جیسے میرا حافظہ ہے جب بھی گورنمنٹ کالج نوشہرہ کے پاس سے گزرتا ہوں وہ شعر میرے ہونٹوں پر رواں ہو جاتا ہے۔
تو آج بھی ہے میرے لئے جنّتِ خیال
ہیں تجھ میں دفن میری جوانی کے چار سال
ہر چند کہ نوشہرہ کالج اپنے وہ خال و خد برقرار نہیں رکھ سکا جن کو یاد کر کے دل کی دھڑکنیں اب بھی بے ترتیب ہو جاتی ہیں وہ ایک پرانی مگر بے حد حسین عمارت تھی جو درختوں ‘ پودوں اور بیلوں سے لدی پھندی تھی،میں نے پہلی بار یہاں چھوئی موئی کا پودا دیکھا تھا جسے ہندی میں لاجونتی اور انگریزی میں ٹچ می ناٹ کہا جاتا ہے اور رسالپور سے آنے والی ایک لعبتِ پنجاب کو فرانس کے معروف ناول نگار بالزاک کا لکھا ہواایک تاثر بھی سنایا تھا جسکا اردو ترجمہ میں نے کالج لائبریری سے لئے گئے ادبی رسالہ کہکشاں میں پڑھا تھا جو کچھ یوں تھا۔۔ ’’چھوئی موئی کے ایک پودے نے ایک دوشیزہ سے کہا کہ مجھ میں اتنی شرم و حیا ہے کہ جونہی مجھے کوئی چھوتا ہے میں لاج کے مارے سمٹ جاتا ہوں۔یہ سن کر اس دوشیزہ نے تصور ہی میں کسی کے لمس کو محسوس کیا اور کچھ ایسے لجائی کہ چھوئی موئی کا پودا اسے حیرانی سے تکتا ہی رہ گیا‘‘ نوشہرہ کالج کی ایک منفرد بات یہ بھی تھی کہ شاید صوبے کا یہ پہلا کالج تھا جہاں لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے پڑھتے تھے‘ مگر اب وہ عمارت باقی نہیں رہی‘ اب نوشہرہ کالج کو نیا چولا پہنا دیا گیا ہے‘ میں نے جب لیکچر شپ جوائن کی تھی تو میری پہلی تقرری گورنمنٹ کالج ٹوپی میں ہوئی تھی جو اسی سال شروع ہوا تھا‘اس کی اپنی بلڈنگ ابھی نہیں بنی تھی اور وہ ایک منڈی(مارکیٹ)میں قائم تھاتاہم خوبصورت اور کشادہ تھا‘ان دنوں وہاں سے پشاور صبح اور دوپہر کو دو چار بسیں آتی جاتیں مجبورا وہیں رکنا پڑا‘ پروفیسر نصراللہ جان‘ پروفیسر اسماعیل اور پروفیسر ذاکرالدین سمیت ہم چار دوستوں نے ایک گھر کرائے پر لیا تھا‘ اور باوجودیکہ پشاور میں ادبی سرگرمیوں کی وجہ سے میں پورا ہفتہ ٹوپی میں نہیں رک سکتا تھاپھر بھی کوئی بارہ تیرہ مہینے رہنا پڑا پھر ٹرانسفر نوشہرہ کالج ہو گئی ۔

اب لطیفہ یہ ہوا کہ جس دن مجھے لیٹر ملا میں کالج میں تھا میں نے جلدی جلدی کاغذی کاروائی مکمل کی بہت بھلے پرنسپل تھے پروفیسر نصیرالدین جو پشتو ادب کے جانے پہچانے لکھاری تھے اور اسی ناتے میرے لئے ایک نرم گوشہ دل میں رکھتے تھے‘بس ایک مسئلہ رکاوٹ ڈالے ہوئے تھا کہ میرے پاس کالج لائبریری کی بہت سی کتابیں تھی جن کے بغیر میں چارج نہیں چھوڑ سکتا تھااور کتابیں تو پشاور میں تھیں اس کا عمومی حل یہی ہو تا ہے کہ کوئی دوست حامی بھر لے کتابیں اپنے نام درج کروا لے بعد میں واپس کر دی جائیں‘ سو اس نیکی کے لئے میرے دوست مرنجاں مرنج پروفیسر ذاکر الدین آگے آئے اور سب کتابیں اپنے نام لکھوالیں۔ میں اسی دن سب کچھ اسلئے کرنا چاہتا تھا کہ مجھے دوبارہ نہ آنا پڑے اور ایسا ہی ہوا۔ میں نوشہرہ کالج کیلئے پر جوش تھا کیونکہ جہاں پڑھا تھا وہاں مولا کریم نے پڑھانے کا اعزز بخش دیا تھا۔پروفیسر ذاکر الدین کی طرف سے کتابیں واپس کرنے کی یاد دہانی گاہے گاہے مل جاتی مگر میرا دوبار ادھر جانے کا من ہی نہیں بنا، بالآخر ایک دن کالج کے نمبر پر انکا فون آیا کہ بھائی اب میری ٹرانسفر ہو گئی ہے‘ایک بار تو آجاؤ ‘ کتابیں بھی ساتھ لے آؤ اور اپنا سامان بھی لے جاؤ۔ میں تو بھولا ہوا تھا کہ کرائے کے گھر میں اپنے کمرے کیلئے میں نے وہیں سے نئی خوبصورت چارپائی‘ بستر‘میز وغیرہ خریدے تھے اور پھر ایک عدد ٹرانسسٹرریڈیو اور دو ایک پینٹ شرٹس ‘ بیگ‘ٹرنک اور دوسرا سامان بھی وہیں تھا۔ پروفیسر ذاکر الدین نے یہ بھی کہا کہ لائبریرین نے کتابوں کا خاصا بل بنایا ہوا ہے کہ کتابیں نہ ملنے کی صورت میں مجھے ادائیگی کرنا ہو گی۔

میں نے کہا کہ یار ایک فیور اور کر دومیراساراسامان بشمول چارپائی‘بستر کمبل اونے پونے بیچ دو اور کتابوں کی ادائیگی کر دو کم ہوئے تو میں آپ کو پیمنٹ کر دوں گا ایسا خوبصورت دوست ہے اس نے کیا کیا معلوم نہیں مگر ابھی تک جب بھی ملاقات ہو مسکرا کر فقط اتنا کہتا ہے کہ آپکے کمرے کے سامان کا کیا کروں؟میں سمجھ گیا تھا کہ وہ اس نے کسی کو راہِ خدا دے دیا ہو گا اور بار بار پوچھنے کے باوجود کبھی نہیں بتایا کہ اسے کتنی ادائیگی کرنا پڑی۔ (ذاکر الدین خوش رہو) پھر میں قریب قریب چھ سال نوشہرہ کالج میں رہا اور پھر اسوقت کے اکاؤنٹنٹ جنرل محمد یوسف خٹک کے گھر ہونیوالی شام افسانہ کی ایک تقریب میں مجھے افسانہ بھی پڑھنا تھا اور تقریب کی نظامت بھی کرنا تھی اور مجھے دیر ہو گئی تھی میں انکے گھر پہنچا تو وہ گیٹ پر کھڑے تھے۔ کہنے لگے یار تم عجیب ہو سب مہمان آ چکے ہیں اور دیر بھی ہو گئی میں اسلئے باہر آ گیا کہ شرمندگی ہو رہی تھی۔تم کہاں رہ گئے تھے میں نے کہا کہ نوشہرہ میں آج ویگن نہیں تھی بس میں آیا ہوں تودیر ہو گئی۔تم پشاور کیوں ٹرانسفر نہیں کرواتے۔ میں نے بس اتنا کہا، کاش۔ تب تک ہم ان کے لانز تک پہنچ چکے تھے جہاں دوست اکٹھے تھے۔ تقریب ہوگئی ایک آدھ ہفتہ بھی گزر گیا پھر ایک شام ادارہ علم وفن کے مشاعرے میں یوسف خٹک سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگے نوشہرہ یا پشاور میں نے کہا کیا مطلب کہنے لگے ٹرانسفر نہیں ہوئی، میں نے کہا نہیں ،کہنے لگے کل نوشہرہ جانے سے پہلے ذرا میرے دفتر آنا،میں گیا ان کو اطلاع بھجوائی فوراََ بلا لیا اور ایک لفافہ دے کر کہا چلو اب نوشہرہ جاؤ شام کو بات کریں گے، لفافہ میں پشاور کے سپیریئر سائنس کالج میں میری ٹرانسفر کا لیٹرتھاجہاں سے جلد ہی میں گورنمنٹ کالج پشاور آ گیامیرے نوشہرہ کالج کے پروفیسر اور شوبز کی دنیا کے قدآور فنکار پروفیسر ودود منظر کیساتھ یہ باہمی تبدیلی تھی پھر گورنمنٹ کالج پشاور میں ہی زیادہ زمانہ گزرااور یہیں سے سبکدوش ہوا ‘بہت خوبصورت وقت یہاں گزرا‘ پروفیسر جمیل کاظمی‘غلام محمد قاصر‘پروفیسر آفتاب‘پروفیسر حسام حر اور پروفیسر شریف گل سمیت ہم کچھ دوست ایک چھوٹے سے لان کے ایک گوشے میں بیٹھا کرتے تھے کئی ایک سٹوڈنٹ بھی آ کر بیٹھ جاتے ہماری یہ محفل تا دیر جمی رہتی کالج سے نکلنے والا ہمارا گروپ آخری ہوتا۔ یہ زمانہ وہ تھا جب شہر میں یہ بھی مشہور تھا کہ جب فائرنگ پر پابندی ہوتی ہے تو اسلحہ ڈیلر جب کوئی پسٹل یا گن بیچتے تو ٹیسٹ کرنے کیلئے گورنمنٹ کالج آ کر چلے جاتے کیونکہ بیس پچاس راؤنڈ تو بغیر کسی وجہ اورہنگامے کے بھی ہو جاتے۔

انہی حالات میں پروفیسر حسام حر اور میں نے ایک مشاعرے کی تجویز دی تو سب نے کانوں کو ہاتھ لگائے‘اور پرنسپل نے کہا کہ لکھ کر دو کہ کسی قسم کے ہنگامے کے ذمہ دار آپ دونوں ہوں گے۔ہم نے حامی بھر لی اور جن لیڈران کا انہیں خوف تھا حسام حر نے انہی سے کام لیا انہی لڑکوں نے اپنی پاکٹ منی سے ہائی ٹی کا انتظام بھی کیا تھا اور شہر کے شعرا کو گھر سے لانے لے جانے کا بندوبست بھی کیا۔ایک شاندار اور یادگار مشاعرہ ہوا مگر ہمارے گروپ کے سوا کوئی ایک پروفیسر بھی شریک نہ تھا۔ایک زمانہ بعد میں گورنمنٹ کالج چند ساعتوں کیلئے گیانماز جنازہ کی ادائیگی کیلئے مگر یادوں کی گٹھڑی کی گرہیں ڈھیلی پڑگئیں‘میں چپ تھا ذیشان نے پوچھا خیریت ‘میں نے کالج کو دیکھ کر کہا ’’ ہیں اس میں دفن میری جوانی کے بیس سال‘‘ابتسام نے کہا پروفیسرز سے ملنے جانا چاہتے ہیں میں نے کہا ہمت نہیں‘ اور کالج کیلئے دل سے دعا کرتا ہوا نکل آیا۔
تیری نشاط خیز فضائے جواں کی خیر
گلہائے رنگ و بو کے حسیں کارواں کی خیر
دور خزاں میں بھی تری کلیاں کھلی رہیں
تا حشر یہ حسین فضائیں بسی رہیں