بریکنگ نیوز
Home / کالم / انقلاب کا انتظار

انقلاب کا انتظار


دنیا کے غریب اور مفلوک الحال عوام خصوصاً تیسری دنیا میں غربت کی لیکر سے نیچے زندگی گزارنے والے لوگ چیئرمین ماؤزے تنگ ‘ لینن‘ چو این لائی ہون چی من ‘سوئیکارنو ‘فیڈل کاسٹرو اور امام خمینی جیسے رہنماؤں کو آج بھی کیوں یاد کرتے ہیں ان کے گن کیوں گاتے ہیں محض اس لئے کہ انہوں نے نہ صرف اپنے اپنے ملک میں سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر باہر پھینکا بلکہ دنیا بھر کے غریب عوام کو بہتر مستقبل کی نوید سنائی آج کے کالم میں ہم انہی جیسے ایک عظیم انقلابی کا ذکر کریں گے کہ جسے دنیا چے گویرا کے نام سے پکارتی ہے بعض لوگ چے گویرا کو شیے گویرا کے نام سے بھی پکارتے ہیں اسی مہینے میںآج سے نصف صدی قبل یعنی 1967ء میں امریکیوں نے اسے ایک ساز ش کے تحت زندہ پکڑا اور بعد میں گولی مار کر ہلا ک کر دیا اور مشہور یہ کر دیا کہ وہ فوج کیساتھ مقابلے میں مارا گیا ہے شیے گویرا کیوبا کے لیڈر فیڈل کاسٹرو کا ہمدم اور قریبی ساتھی تھا اور ان دونوں نے اس مسلح جدوجہد کی قیادت کی تھی کہ جس کے نتیجے میں کیوبا کے عوام کی جان بتیستا(Batista) نامی حکمران سے چھوٹ گئی تھی۔

کیوبا کو سامراجی نظام سے چھڑانے کے بعد شیے گویرا نے ایک دوسرے لاطینی ملک بولیوا کا رخ کیا تاکہ اسے بھی وہ آزادی سے ہمکنار کرائے شیے گویرا قومیت‘ لسانیت‘ مذہبیت یا جنس کی حمایت کیلئے وجود میں آئی ہوئی تحریکوں کے خلاف تھا اس کا فلسفہ انقلاب ہر انسان کیلئے بلا امتیاز ایک جیسا تھا پیشے کے لحاظ سے شیے گویرا ایک ڈاکٹر تھا لیکن اس نے ڈاکٹری چھوڑ کر سرمایہ دارانہ نظام معیشت کے خلاف عسکری جنگ شروع کر دی تھی جن دنوں امریکن فوجیوں نے شیے گویرا کو قتل کیا ان دنوں امریکہ ویت نام میں بھی ایک ناکام جنگ لڑ رہا تھا اس جنگ میں امریکیوں کے ہاتھوں چالیس ہزار ویتنامی لقمہ اجل بنے تھے شیے گویرا امریکی سامراجیت سے سخت بدظن تھا اس نے اپنی آنکھوں سے افریقی ملک گوئٹے مالا میں امریکن سی آئی اے کے صدر جوکوبو کا تختہ الٹاتے دیکھا تھا جس کے بعد وہاں ایک لمبی خانہ جنگی شروع ہوگئی۔

جس میں امریکیوں نے 2 لاکھ افریقیوں کا قتل عام کیا تھاشیے گویرا نے امریکی سامراجیت کو کئی مقامات پر للکارا صرف کیوبا میں ہی اس نے امریکی پٹھو بتیستا کا تختہ نہیں الٹا ‘شیے گویرا نے کانگو میں بھی پیٹرک لوممبا کے حامیوں کا ساتھ دیا کہ جن کو امریکن سی آئی اے نے ایک سازش کے ذریعے کانگو کی وزارت عظمیٰ سے ہٹا کر قتل کیا تھا محض اس لئے وہ عالمی امور میں امریکہ کی کاسہ لیسی سے انکاری تھا یہ جتنے انقلایبوں کے نام ہم نے اوپر کی سطور میں لکھے ہیں ان سب کے جذبے قابل قدر تھے انکے طریقہ کار سے لوگوں کو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن جہاں تک انکی اس خواہش کا تعلق ہے کہ دنیا میں ایسا معاشی نظام قائم کیا جائے کہ جس میں صحیح معنوں میں معاشی مساوات کا بول بالا ہو وہ شک سے بالاتر ہے اس ملک میں بھی اگر صحیح معنوں میں معاشی مساوات کا نظام آنا ہے تو انہی قسم کے لوگوں کے ہاتھوں سے و ہ آئیگا خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں‘ کیا عجب مندرجہ بالا شخصیات جیسا کوئی غریبوں کا ہمدرد اس ملک میں بھی اللہ بھیج دے کیونکہ موجودہ رہنماؤں سے تو غریبوں کو کسی خیرکی توقع نہیں۔