بریکنگ نیوز
Home / کالم / شمیم شاہد / ایم ایم اے کی بحالی

ایم ایم اے کی بحالی


چندروزقبل مختلف مذہبی سیاسی جماعتوں کے قائدین کاایک اجلاس اسلام آباد میں منعقدہوا جس میں شرکاء نے اس بات پراتفاق کیاکہ یاتو متحدہ مجلس عمل کوبحال کیاجائے گایااسی طرزپردینی سیاسی جماعتوں پرمشتمل نئے نام سے ایک اتحاد تشکیل دیاجائے اس سلسلے میں شرکاء نے بہت جلدلاہورمیں جمع ہونے کافیصلہ کیاتاکہ ان تجاویز کوعملی شکل دی جا سکے گو جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام(ف)کے رہنمااورکارکن اس فیصلے پر خوش دکھائی دیتے ہیں مگرعام لوگ اورتجزیہ کاران تجاویزپرمختلف قسم کے خیالات اورتحفظات کااظہار کررہے ہیں 2001میں جب افغانستان کے بارے میں امریکی حکام کے خیالات بالخصوص افغانستان میں موجودالقاعدہ اوردیگر شدت پسند تنظیموں پرحملوں کی دھمکیاں سامنے آئیں تو11 جنوری2011کودارالعلوم حقانیہ میں ہم خیال مذہبی جماعتوں کاایک اجلاس ہوااس اجلاس میں دفاع افغانستان کونسل قائم کی گئی جب9/11کے بعدامریکہ نے افغانستان پرحملہ کیاتودفاع افغانستان کونسل ہی سے متحدہ مجلس عمل نے جنم لیا مگرمتحدہ مجلس عمل میں صرف چھ جماعتیں شریک رہیں اوراسی مجلس عمل نے 2002کے عام انتخابات میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کامیابی حاصل کی متحدہ مجلس عمل کو بغیرکسی اتحادکے خیبرپختونخوامیں حکومت بنانے کا موقع ملاجبکہ بلوچستان میں متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ اورنشان پرصرف اورصرف جمعیت علماء اسلام (ف) کوکامیابی ملی جبکہ وفاق میں متحدہ مجلس عمل کو حزب اختلاف کی بڑی جماعت کاموقع اس وقت ملاجب پیپلزپارٹی میں ایک دھڑا قائم کردیاگیا۔

نومبر 2002میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت کے قیام کے تقریباًڈیڑھ ماہ بعدجماعت اسلامی کے مرکزی قائدین نے سابق وزیراعلیٰ اکرم خان درانی کی پالیسیوں پرنہ صرف تحفظات کااظہار کیاتھابلکہ حکومت سے علیحدگی کی دھمکی بھی دی تھی اورعملاً متحدہ مجلس عمل میں شامل جماعتوں بالخصوص وزارتی اوردیگر عہدوں پربراجمان رہنماؤں اور نمائندوں کے مابین ہم آہنگی کاشدید فقدان رہاتھا اس بارے میں غیرجانبدارسیاسی تجزیہ کار بریگیڈئر (ر) محمود شاہ کاکہناہے کہ موجود دورمیں مذہبی جماعتوں کے اتحادکووہ پذیرائی حاصل نہیں ہوسکتی جوان کو 2002کے عام انتخابات میں ملی تھی انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی اورعلاقائی سطح پر تبدیلیاں انتہائی تیزی سے آرہی ہیں جبکہ ملک بھرکے لوگ مذہبی سیاسی جماعتوں سے متنفردکھائی دیتے ہیں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخارحسین نے کہا کہ 2002میں بھی مذہبی جماعتیں ایک غیرملکی ایجنڈے کے تحت متحدہوئی تھیں اوراب بھی غیر ملکی قوتوں نے جنوبی ایشیاء بالخصوص پاکستان پر نظریں مرکوزکی ہیں۔

تاہم انہوں نے کہاکہ تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظرآئندہ عام انتخابات میں ان کومذہبی جماعتوں پرمشتمل ایک اتحاددکھائی نہیں دیتا انہوں نے کہاکہ مولانافضل الرحمن کومتحدہ مجلس عمل کے غیرفعال ہونے کے بعدزیادہ فائدہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی سے ملاہے جبکہ جماعت اسلامی پاکستان تحریک انصاف کی اتحادی ہے اور پاکستان تحریک انصاف کی دشمنی مولانافضل الرحمن کیساتھ واضح ہے لہٰذاان حالات میں ان دونوں جماعتوں کاایک فورم پرمتحدہونابہت مشکل دکھائی دیتاہے متحدہ مجلس عمل کوبحال کرنے یا نیا اتحاد تشکیل دینے سے قبل دو بڑی جماعتوںیعنی جمعیت علماء اسلام (ف) اور جماعت اسلامی کے قائدین کوبہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ مذہبی معاملات پرتوان جماعتوں کے مابین مثالی اتفاق رائے ہے مگر سیاسی معاملات پران کے رہنما اور کارکن ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ مشت وگریباں نظرآتے ہیں جبکہ دوسری طرف خطے میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کومدنظررکھتے ہوئے ان مذہبی وسیاسی جماعتوں کونہ صرف محاذآرائی کی پالیسی سے گریزکرناچاہئے بلکہ ان کواپناطرزعمل افغان طالبان اورالقاعدہ کی حکمت عملی کے بالکل الٹ یعنی مکمل طورپرپرامن اورجمہوری کرنا چاہئے ۔