بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ

بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ


خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کے ایکٹ میں ترمیم کو آخری شکل دیدی ہے‘ ایجنسی کے مطابق مجوزہ ترمیم کی صورت میں بجلی کی قیمتوں کا تعین وفاقی وزارت توانائی کرے گی‘ اس کیساتھ ایجنسی یہ خدشہ بھی ظاہر کررہی ہے کہ ترمیم منظور ہونے پر بجلی کی قیمتیں دوگنا ہوسکتی ہیں‘ حکومت کا کہنا ہے کہ وطن عزیز میں توانائی کے منصوبوں اور بجلی کی فراہمی سے صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کے نتیجے میں درآمدات پر دباؤ پڑا ہے ‘اس بات سے انکار نہیں کہ حکومت نے اقتدار میں آتے ہی توانائی بحران کے خاتمے کیلئے بڑے اقدامات اٹھائے‘ اس وقت بھی انرجی سیکٹر میں بڑے پراجیکٹس پر کام جاری ہے تاہم دوسری جانب لوگ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کیساتھ بھاری یوٹیلٹی بلوں کا گلہ بھی رکھتے ہیں‘ یوٹیلٹی بلوں میں اضافہ نہ صرف عام شہری کے گھریلو بجٹ کو متاثر کرتا ہے بلکہ مجموعی طورپر صنعت اور کاروبار پر اس کے بھاری اثرات مرتب ہوتے ہیں‘ ایک جانب پروڈکشن کاسٹ بڑھتی ہے تودوسری طرف فارورڈنگ چارجز میں اضافہ ہوتا ہے‘ اس ساری صورتحال میں غریب اور متوسط شہری انرجی سیکٹر میں حکومت کے بڑے اقدامات کے باوجود ثمر آور نتائج کا منتظر ہی رہ جاتاہے

‘ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ریاست کا انتظام چلانے کیلئے حکومتوں کو معاشی حوالے سے بعض اوقات سخت فیصلے کرنا پڑتے ہیں تاہم انکار اس سے بھی نہیں کیاجاسکتا کہ عوامی فلاح کیلئے ہونیوالے فیصلوں کے ثمرات عام شہری کو منتقل کرنے کیلئے بھی ایک فول پروف مکینزم کی ضرورت ہوتی ہے‘ انرجی سیکٹر میں قابل ذکر منصوبوں کو عوام کیلئے سود مند بنانے کیلئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے‘ بجلی اور گیس کے شعبوں میں پیداواری منصوبوں کیساتھ سروسز کا معیار بہتر بنانے کی ضرورت بھی ہے‘ لائن لاسز پر کمی پانے کیلئے محکمانہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے نہ کہ ان کا سارا بوجھ صارفین پر ڈال دیاجائے‘ بل نہ دینے والے بجلی صارفین کے علاقوں میں بجلی بند کرکے انتہائی مشکلات کے باوجود بل جمع کرانیوالے صارفین کو سزا دینا کسی طور مناسب نہیں‘ اضافی بلوں سے نجات اور شکایات کا بروقت ازالہ بھی صارفین کیلئے ریلیف کا ذریعہ بن سکتا ہے‘ اس سب کیساتھ بجلی یا گیس کے نرخوں میں اضافے کی صورت میں اس بات کو یقینی بنا ناضروری ہے کہ اضافی چارجز بل کیساتھ مارکیٹ میں عام شہری پر اتنا ہی بوجھ ڈالیں کہ جتنا اضافہ ہوا ہے‘ اس سے زیادہ لوڈ نہ ہو۔

خصوصی صفائی مہم

دیر آید درست آید کے مصداق خیبرپختونخوا میں صفائی مہم شروع کرنیکا فیصلہ کرلیا گیا ہے اس فیصلے کے تحت آج 15اکتوبر سے 13نومبر تک خصوصی مہم چلائی جائیگی‘ پلاسٹک شاپنگ بیگز سے بلاک سیوریج سسٹم اور جگہ جگہ پڑے گندگی کے ڈھیر مکھی مچھروں کی بہتات کیساتھ ڈینگی کے پھیلاؤ کا ذریعہ بھی بن رہے ہیں‘ صفائی کی خصوصی مہم کو زیادہ سے زیادہ نتیجہ خیز بنانے کیلئے ضروری ہے کہ اس میں کمیونٹی کو بھی شریک کیاجائے‘ صفائی کی اس مہم میں پانی کے ٹوٹے پائپ بھی بدلے جائیں اور واٹر ٹینک بھی صاف کئے جائیں‘ صفائی کیساتھ ساتھ سپرے اور چوہے مارنے کا انتظام بھی کیاجائے تاکہ اس حوالے سے شکایات کا خاتمہ ممکن ہوسکے‘ اس سب کیساتھ ضرورت پشاور سمیت تمام شہروں میں کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے کیلئے انتظام کی ہے‘ اس میں ری سائیکل کیلئے پلانٹ کا کیس بھی یکسو کرنا ہوگا۔